روایت: ’’روزِ قیامت ایک منادی آواز لگائے گا: اے محمد ! کھڑے ہو کر بلاحساب جنت میں داخل ہوجاؤ، اس آواز کو سن کر محمد نامی ہر شخص یہ سمجھ کر کہ مجھے پکارا گیا ہے، کھڑا ہوجائےگا، انہیں محمدﷺ کی شرافت کی وجہ سے نہیں روکا جائے گا(یعنی یہ سب جنت میں داخل ہوجائیں گے)‘‘، یہ من گھڑت روایت ہے۔
تفصیل
’’سوال: دوسری حدیث یہ تھی: ×إذا كان يوم القيامة نادى مناد، يا محمد! قم فادخل الجنة بغير حساب، فيقوم كل من اسمه محمد يتوهم أن النداء له، فكرامة [كذا في الأصل] محمد صلى الله عليه وسلم لا يمنعون. سيرة الحلبي(ص :۹۹/ج۱)÷ [روز قیامت ایک منادی آواز لگائے گا: اے محمد ! کھڑے ہو کر بلاحساب جنت میں داخل ہوجاؤ، تو محمد نامی ہر شخص یہ سمجھ کر کہ مجھے پکارا گیا ہے، کھڑا ہوجائےگا، محمدﷺ کی شرافت کی وجہ سے انہیں نہیں روکا جائے گا، (یعنی یہ جنت میں داخل ہوجائیں گے) سیرۃ حلبی]۔
آیا اس حدیث کو بیان کرنا کیسا ہے؟ کس درجہ کی حدیث پاک ہے؟ اور کیا حکم ہے؟
جواب: ابو المحاسن عبد الرزاق بن محمد الطَبَسِی lنے روایت کیا ہے:
×قال السيوطي في اللآلي (ص :۱۰۵/ ۱): قال أبو المحاسن عبد الرزاق بن محمد الطَبَسِي في الأربعين: أنبأنا أبو عبد الله محمد بن الفضل الفُرَاوِي، أنبأنا أبو سعيد محمد بن علي بن الخَشَّاب الصوفي، أنبأنا أبو عمرو أحمد بن أبي القراني: سمعت أبا الحسن محمد بن يحيى بن محمد الخطيب يقول: سمعت جدي محمد بن سهل بن إسحاق الزيفي [وفي نسختنا: الفَرَايِضِي] يقول: أخبرنا أبي يرفع الحديث إلى النبي صلى الله عليه وسلم أنه قال: إذا كان يوم القيامة نادى مناد: يا محمد! قم فادخل الجنة بغير حساب، فيقوم كل من اسمه محمد، فيتوهم أن النداء له فلكرامة محمد صلى الله عليه وسلم لا يمنعون. قال السيوطي: هذا معضل سقط عنه عدة رجال، انتهى}. [ترجمہ گذر چکا ہے]
حدیث مذکورمجھے اور کہیں نہیں ملی، میرا خیال ہے کہ یہ حدیث موضوع ہے، اس کے بعد ’’تنزیہ الشریعہ‘‘ (ص :۲۲۶) پر نظر پڑی، اس کے مصنف نے نقل کر کے لکھا ہے: ×قال بعض أشياخي: هذا حديث موضوع بلاشك÷. [مجھے میرے بعض مشائخ نے کہا ہے کہ یہ حدیث بلا شبہ موضوع ہے] واللہ اعلم[1]۔
حوالہ جات
[1] الیواقیت الغالیۃ: یامحمد قم فادخل الجنة الخ کی تحقیق،۱/۳۰۰،۲۹۹۔
حافظ ابن قیم lاسم محمد کے فضائل سے متعلق روایات کے بارے میں ’’المنار المنیف‘‘ (ص:۶۱)میں فرماتے ہیں کہ اس باب میں ایک جزء تصنیف کیا گیا ہے جو تمام کا تمام جھوٹا ہے، ملا علی قاری l نے ’’الاسرار المرفوعۃ‘‘ (ص:۴۱۵) میں حافظ ابن قیم lکے قول کو نقل کرنے پر اکتفاء کیا ہے ۔