روایت: ’’روز قیامت سب سے پہلے آدمی کی گھر والی اور اس کی اولاد اس سے چمٹ جائے گی، سو وہ اسے اللہ تعالی کے روبرو کھڑا کریں گے، اور کہیں گے: اے ہمارے رب! اس سے ہمیں ہمارا حق دلائیں، کیونکہ اس نے ہمیں ان چیزوں کی تعلیم نہیں دی تھی جس سے ہم ناواقف تھے ، اور یہ ہمیں حرام کھلاتا تھا، اور ہمیں اس کا علم نہیں تھا ، فرماتے ہیں:سو ان کو اس سے بدلہ دلایا جائے گا ‘‘۔
باب: قیامت، حشر، حساب و جہنم
روزِ قیامت، میدانِ حشر، حساب و میزان اور شفاعت۔
گروپ: آخرت
21 روایات
روایت: آپ ﷺ کا ارشاد ہے:’’مومن دعا میں خدا سے دوزخ سے پناہ چاہتا ہے، دوزخ اُس سے پناہ چاہتی ہے کہ اے خدا! مجھے فلاں سے دور رکھ‘‘۔
روایت:’’رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے: جب قیامت کے دن تمام لوگ میدانِ محشر میں ہوں گے تو بچھو کی نسل کا ایک جانور نکلے گا، جس کا نام حریش ہوگا، اس کا سر آسمان پر ہوگا اور اس کی دم زمین پر ہوگی، اور وہ ستر مرتبہ آواز لگائے گا: کہاں ہیں وہ لوگ جنہوں نے اللہ رب العالمین کو مقابلہ کی دعوت دی ہے؟ اور کہاں ہیں وہ لوگ جنہوں نے اللہ تعالی سے جنگ کا اعلان کیا ہے؟جبرائیل e کے پوچھنے پر وہ جانور پانچ قسم کے لوگوں کو سزا دینے کا کہے گا: 1 نماز چھوڑنے والا 2 زکوۃ نہ دینے والا 3 شراب پینے والا 4 سود کھانے والا 5 مسجد میں دنیا کی باتیں کرنے والا‘‘۔
روایت:’’نبی eنے ارشاد فرمایا: میں نے ایک عورت کو دیکھا جسے لایا گیا اور اسے میزان کے ایک پلڑے پر ڈالا گیا، اور دوسرے پلڑے پر احد پہاڑ کو رکھا گیا، تو وہ عورت احد پہاڑ سے بھی زیادہ بھاری نکلی، لوگوں نے کہا: ہم نے تو کبھی ایسا نہیں دیکھا کہ ایک عورت احد پہاڑ سے بھی زیادہ بھاری ہو، ان کو بتایا گیا اس عورت کے بارہ بچے فوت ہوگئے، یہ آہیں لئے جاتی تھی اور آنسوں کو روک لیتی تھی اس کے صبر کی وجہ سے اللہ تعالی نے اسے احد پہاڑ سے بھی زیادہ بھاری کردیا‘‘۔
روایت: روزِ محشر انبیاء علیہم الصلاۃ والسلام کو حکم ہوگا: تم اپنی امتوں کو پیش کرو، نبی ﷺ امت کے نیک لوگوں کو حاضر کریں گے، لیکن ارشاد ہوگا کہ بے نمازی، تارکِ زکوۃ، ماں باپ کے نافرمان، پڑوسی پر ظلم کرنے والے، اور جھوٹ بولنے والوں کو لاؤ تاکہ اللہ تعالی کی مغفرت وکرم کا اظہار ہوسکے۔
روایت: لوگوں کا حساب کتاب عرفات میں ہوگا۔
روایت:’’ایک حدیث میں ہے کہ قیامت کے دن اعلان کرنے والا اعلان کرے گا: کہاں ہیں وہ لوگ جنہوں نے فقیروں اور مسکینوں کا اکرام کیا؟ آج تم جنت میں اس طرح داخل ہوجاؤکہ نہ تم پر کسی قسم کا خوف ہےنہ تم مغموم ہوگے، اور ایک اعلان کرنے والا اعلان کرے گا: کہاں ہیں وہ لوگ جنہوں نے بیمار، فقیروں اور غریبوں کی عیادت کی؟ آج وہ نور کے منبروں پر بیٹھیں گے، اور اللہ عز وجل سے باتیں کریں گے، اور دوسرے لوگ حساب کی سختی میں مبتلا ہوں گے‘‘۔
روایت:’’بروز قیامت بندہ کے سامنے اس کے اعمال پیش کئے جائیں گے جسے وہ دیکھے گا، اور بار بار دیکھے گا،پھر حیران ہوکر باری تعالیٰ سے عرض کرے گا : اے اللہ! اتنےسارے اعمال تو میں نے کئے ہی نہیں ہیں؟ اللہ تعالی ارشاد فرمائیں گے: تونے فلاں شخص کو دعوت دی تھی، اس نے مجھے راضی کرنے کے لئے اعمال کئے وہ تمام اعمال تیرے حصہ میں لکھے گئے ہیں‘‘۔
روایت: ’’رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: قیامت کے دن دو شخص اللہ کے سامنے پیش ہوں گے، ان دونوں کو جنت میں جانے کا حکم ہوگا، وہ دونوں کہیں گے: اے ہمارے رب! ہم کس وجہ سے جنت میں داخل ہونے کے مستحق ہوئے ہیں، جبکہ ہم نے ایسا کوئی عمل نہیں کیا جس کی وجہ سے آپ ہمیں جنت کی اجازت دیں؟ اللہ تعالی فرمائیں گے: میرے بندو داخل ہوجاؤ، میں نے قسم کھائی ہے کہ احمد ومحمد نام کا کوئی شخص جہنم میں داخل نہیں ہوگا‘‘۔
روایت: ’’نبی ﷺ نے فرمایا: جب قیامت کا دن ہوگا تو ایک پکارنے والا پکارے گا: اے محمد! کھڑے ہوجائیں، بغیر حساب کے جنت میں داخل ہوجائیں، چنانچہ ہر وہ شخص جس کا نام محمد ہو گا وہ کھڑا ہوجائے گا، یہ گمان کرتے ہوئے کہ اسے پکارا گیا ہے، چنانچہ محمد ﷺ کے اکرام کی وجہ سے انہیں نہیں روکا جائے گا‘‘۔