روایت: ’’نبی e فرماتے ہیں: مجھے جبرائیل e نے قیامت کے دن کی ہولناکیوں سے اتنا ڈرایا کہ میں رونے لگ گیا، میں نے کہا: اے میرے دوست جبرائیل! کیا اللہ رب العزت نے میرے اگلے اور پچھلے گناہوں کو معاف نہیں کردیا؟ یہ بات سن کر جبرائیل e نے جواب دیا: اے محمد ﷺ! قیامت کے دن آپ ہیبت کے ایسے احوال دیکھیں گے کہ آپ قیامت کی مغفرت کو بھول جائیں گے، نبی e یہ بات سن کر اتنا روئے کہ آپ ﷺ کے آنسوں آپ کی مبارک ریش پر بہنے لگے‘‘۔
تفصیل
حوالہ جات
[1] بستان الواعظين:ص:36،رقم:50،ت:أيمن البحيري،مؤسسة الكتب الثقافية ـ بيروت،الطبعة الثانية .
[2] الجامع لأحكام القرآن والمعين لما تضمنه من السنة وآي الفرقان:8/280،ت:عبد الله بن عبد المحسن التركى،مؤسسة الرسالة ـ بيروت،الطبعة الأولي1427هـ .
[3] كتاب التذكرة بأحوال الموتى وأمور الآخرة:ص:590،ت:الصادق بن محمد بن إبراهيم،دار المنهاج ـ الرياض،الطبعة الأولى۱۴۲۵هـ .
ملتی جلتی احادیث
روایت: ’’آپﷺ کا ارشاد ہے: حضرت داؤدe اللہ تعالی کے سامنے چالیس دن روتے رہے اور چالیس دن گزرنے کے بعد کہا: اے اللہ! میرے اس رونے دھونے پر آپ رحم نہیں فرماتے؟ اللہ تعالی نے ان کی طرف وحی نازل فرمائی اور فرمایا: اے داؤد! تجھے اپنا رونا یاد ہے اور اپنی غلطی تجھے یاد نہیں؟‘‘۔
روایت: ’’حضرت موسی e کا ایک واقعہ رسول اللہ ﷺ نے منبر پر بیان فرمایا: موسی e کے دل میں خیال گزرا کہ اللہ تعالی کبھی سوتا ہے؟ تو اللہ تعالی نے ایک فرشتہ ان کے پاس بھیجا، جس نے موسی e کو تین دن تک سونے نہ دیا، پھر موسی e کے ایک ایک ہاتھ میں بوتل دی اور حکم دیا کہ ان کی حفاظت کرو، یہ ٹوٹیں نہیں، حضرت موسی e انہیں لے کر حفاظت کرنے لگے، لیکن نیند غالب آگئی اور بوتلیں ہاتھ سے گر کر چورا چورا ہوگئیں، آپ ﷺ نے فرمایا: اس پر اللہ تعالی نے مثال بیان کی: اگر اللہ تعالی سو جائیں تو زمین وآسمان نہیں رک سکتے‘‘۔
روایت:’’رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے: جب قیامت کے دن تمام لوگ میدانِ محشر میں ہوں گے تو بچھو کی نسل کا ایک جانور نکلے گا، جس کا نام حریش ہوگا، اس کا سر آسمان پر ہوگا اور اس کی دم زمین پر ہوگی، اور وہ ستر مرتبہ آواز لگائے گا: کہاں ہیں وہ لوگ جنہوں نے اللہ رب العالمین کو مقابلہ کی دعوت دی ہے؟ اور کہاں ہیں وہ لوگ جنہوں نے اللہ تعالی سے جنگ کا اعلان کیا ہے؟جبرائیل e کے پوچھنے پر وہ جانور پانچ قسم کے لوگوں کو سزا دینے کا کہے گا: 1 نماز چھوڑنے والا 2 زکوۃ نہ دینے والا 3 شراب پینے والا 4 سود کھانے والا 5 مسجد میں دنیا کی باتیں کرنے والا‘‘۔
روایت: ’’آپ ﷺ نے فرمایا: جب اللہ تعالی نے آدمe کو زمین پر اتارا تو اپنی بھول کے غم کی وجہ سے ان کا چہرہ سیاہ ہوگیا تھا،اب اللہ رب العزت نے ان کو مہینے میں تین روزے رکھنے کے بارے میں فرمایا، تو ان تین دنوں کے روزے رکھنے کی وجہ سے ان کے چہرے کی سیاہی ان کے چہرے کے نور میں تبدیل ہوگئی‘‘۔
روایت : ثعلبہ بن حاطب کا آپ ﷺ سے کہنا کہ میرے لئے دعا کریں کہ اللہ تعالی مجھے مالدار بنا دیں، پھر آپ ﷺ کا ثعلبہ کےلئے مالدار ہونے کی دعا فرمانا، اور مال کے زیادہ ہونے کی وجہ سے ثعلبہ کا مدینہ سے دور چلے جانا، حتی کہ نمازوں میں بھی حاضر نہ ہونا، اور پھر زکوۃ دینے سے اعراض کرنا، اس کے بعد نادم ہوکر آپ ﷺ کی خدمت میں زکوۃ لانا، آپ ﷺ کا اسے قبول نہ کرنا، پھر حضرت ابو بکر r ، حضرت عمر r اور حضرت عثمان r کا بھی زکوۃ قبول نہ کرنا، اور حضرت عثمان r کے زمانہ میں ثعلبہ کا انتقال ہونا۔