روایت: ’’ إن الشيطان يجري من ابن آدم مجرى الدم، فضيقوا مجاريه بالجوع‘‘.شیطان ابن آدم کی رگوں میں خون کی طرح چلتا ہے، بھوک کے ذریعے شیطان کی گزر گاہوں کو تنگ کردو۔
باب: شیطان و جنات
ابلیس، شیطان کے وسوسوں اور جنات (جن صحابی وغیرہ) سے متعلق روایات۔
گروپ: عقائد
10 روایات
روایت: شیطان کافر کے ساتھ کھانے پینے سونے ہر حال میں شریک رہتا ہے، البتہ مومن کو غافل دیکھ کر حملہ کرتا ہے۔
روایت: حدیث شریف میں آیا ہے: ’’ایک مرتبہ دو شیطانوں کی آپس میں ملاقات ہوئی، ان میں ایک شیطان موٹا تھا اور دوسرا دبلا پتلا، موٹے شیطان نے پتلے شیطان سے پوچھا: تو اتنا کمزور کیوں ہے؟ اس نے کہا کہ میری ذمہ داری ایک ایسے مسلمان پر لگی ہوئی ہے، اس کی زبان پر ہر دم اللہ تعالی کا نام رہتا ہے، جب وہ کھانا کھاتا ہے تو اللہ تعالی کا نام لیتا ہے، جب پانی پیتا ہے تو اللہ تعالی کانام لیتا ہے، اس طرح وہ سارے کھانے پینے کی چیزوں میں اللہ تعالی کا نام لیتا ہے، تو جس چیز کو وہ اللہ تعالی کا نام لیکر کھاتا ہے اس چیز میں میرا کوئی حصہ نہیں رہتا، نتیجہ یہ کہ میں دن رات بھوکا رہتا ہوں، تو بھوکا رہ کر کمزور ہی ہونا ہے، اس کے بعد موٹے شیطان نے کہا: میری ذمہ داری ایک ایسے بندے کے ساتھ ہے جو اللہ تعالی کا نام ہی نہیں جانتا، وہ بغیر اللہ تعالی کا نام لئے کھانا کھاتا ہے، پانی پیتا ہے، تو جب وہ اللہ تعالی کا نام لئے بغیر کھاتا ہے تو میں بھی اس کے ساتھ کھانا کھا لیتا ہوں، اور مجھے خوب کھانے کو مل رہا ہے، اس لئے میں کھا کر خوب موٹا ہورہاہوں‘‘۔
روایت: ’’اللہ جل جلالہ کے حکم پر ابلیس کا رسول اللہ ﷺ کے پاس جانا، اور آپ ﷺ کا ابلیس سے اس کے دشمنوں اور دوستوں کے بارے میں سوال کرنا، اور ابلیس کا بتانا کہ آپ ﷺ کی امت میں میرے پندرہ دشمن، اور دس دوست ہیں‘‘۔
ابلیس کو ایسی دعا کا یاد ہونا جس سے اللہ تعالی تمام گنا ہ معاف کردیں گے
روایت: ’’ بچوں کے منہ پر لگی ہوئی غذا دھو لیا کرو، کیونکہ شیطان ہمیشہ بچی ہوئی غذا کو سونگھتا ہے‘‘۔
روایت: ’’خطبۃ الوداع میں آپﷺنےارشادفرمایا:ابلیس تمھیں بت پرستی میں مشغول نہیں کرے گا، البتہ تمہیں ہزار معبودوں کی عبادت میں لگا دے گا، ایک آدمی اونٹ کی عبادت کرےگا، دوسرا آدمی عورت کی پوجا کرےگا۔۔۔۔ ایک شخص دوسرے سے پوچھےگا آپ کا کیا حال ہے؟ تو وہ کہے گا کہ اگر میری تجارت نہ ہوتی تو میرا کوئی حال نہ ہوتا۔۔۔‘‘۔
[قرنِ صحابہ گذر جانے کے بعد کسی جن صحابی کے دیکھنے سے برتقدیرِ صحت میری ناقص رائے میں تابعیت کا شرف حاصل نہ ہوگا، اس لئے کہ یہ فضیلت قرن کے ساتھ خاص ہے]
[متشکل یاانسانی بدن میں حلول کیا ہوا جن، صحابی یا تابعی ہونے کا دعویٰ کرے تو اس کا کیا حکم ہے؟ نیز انسان اگر انھیں ان صورتوں میں دیکھ لے تو اسے کوئی فضیلت حاصل ہوگی؟]
یہ حدیث جو عمر بن خیام جنّی کے نام سے شائع کی جارہی ہے متعدد وجوہ سے غیر معتبر ہے۔