روایت: حدیث شریف میں آیا ہے: ’’ایک مرتبہ دو شیطانوں کی آپس میں ملاقات ہوئی، ان میں ایک شیطان موٹا تھا اور دوسرا دبلا پتلا، موٹے شیطان نے پتلے شیطان سے پوچھا: تو اتنا کمزور کیوں ہے؟ اس نے کہا کہ میری ذمہ داری ایک ایسے مسلمان پر لگی ہوئی ہے، اس کی زبان پر ہر دم اللہ تعالی کا نام رہتا ہے، جب وہ کھانا کھاتا ہے تو اللہ تعالی کا نام لیتا ہے، جب پانی پیتا ہے تو اللہ تعالی کانام لیتا ہے، اس طرح وہ سارے کھانے پینے کی چیزوں میں اللہ تعالی کا نام لیتا ہے، تو جس چیز کو وہ اللہ تعالی کا نام لیکر کھاتا ہے اس چیز میں میرا کوئی حصہ نہیں رہتا، نتیجہ یہ کہ میں دن رات بھوکا رہتا ہوں، تو بھوکا رہ کر کمزور ہی ہونا ہے، اس کے بعد موٹے شیطان نے کہا: میری ذمہ داری ایک ایسے بندے کے ساتھ ہے جو اللہ تعالی کا نام ہی نہیں جانتا، وہ بغیر اللہ تعالی کا نام لئے کھانا کھاتا ہے، پانی پیتا ہے، تو جب وہ اللہ تعالی کا نام لئے بغیر کھاتا ہے تو میں بھی اس کے ساتھ کھانا کھا لیتا ہوں، اور مجھے خوب کھانے کو مل رہا ہے، اس لئے میں کھا کر خوب موٹا ہورہاہوں‘‘۔
تفصیل
حوالہ جات
[1] صحيح مسلم:ص:۱۵۹۸،رقم:۲۰۱۸،ت:محمد فواد عبد الباقي،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى1412هـ .
ملتی جلتی احادیث
روایت: ’’رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’من طلب ما عند الله كانت السماء ظلا له، والأرض فراشه، لم يهتم بشيء من أمر الدنيا، فهو لا يزرع الزرع وهو يأكل الخبز، وهو لا يغرس الشجر ويأكل الثمار، توكلا على الله تعالى وطلبا لمرضاته، فضمن الله السماوات السبع والأرضين السبع رزقه، فهم يتعبون فيه، ويأتون به حلالا، ويستوفي هو رزقه بغير حساب عند الله تعالى، حتى أتاه اليقين‘‘. جو شخص اس چیز کی طلب میں لگ جائے جو اللہ تعالی شانہ کے پاس ہے، آسمان اس کا سایہ ہو، زمین اس کا بسترہ ہو، دنیا کی کسی چیز کی اس کو فکر نہ ہو، تو ایسا شخص بغیر کھیتی کئے روٹی کھائے گا، بغیر باغ لگائے پھل کھائے گا، اللہ تعالی پر اس کا توکل ہو اور اس کی رضا کی جستجو میں لگا رہتا ہو، اللہ جل شانہ ساتوں آسمان اور ساتوں زمینوں کو اس کی روزی کا ذمہ دار بنا دیتے ہیں، وہ سب کے سب اس کو روزی پہنچانے کےلئے کوشاں رہتے ہیں، وہ اس کو حلال روزی پہنچاتے ہیں، اور وہ اللہ تعالی کے ہاں بغیر حساب کے اپنی روزی پوری کر لیتا ہے، حتی کہ اسے موت آجاتی ہے‘‘۔
روایت: ’’رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’من رفع قرطاسا من الأرض فيه: بسم الله الرحمن الرحيم، إجلالا لله عز وجل أن يداس، كتب عند الله من الصديقين، وخفف عن والديه العذاب، وإن كانا مشركين‘‘. جس شخص نے زمین سے ایسا کاغذ اٹھایاجس میں بسم اللہ الرحمن الرحیم لکھی ہوئی ہو، اللہ تعالی کے نام کی تعظیم کی وجہ سے کہ وہ روندا جائے گا،تو اللہ تعالی کے نزدیک اسے صدیقین میں لکھا جائے گا، اور اس شخص کے والدین سے عذاب کو ہلکا کردیا جائے گا، اگر چہ وہ مشرک ہوں‘‘۔
روایت: حدیث پاک میں ہے:’’اللہ تعالی نے اسرافیل e کو حکم دیا ہوا ہے کہ اگر تم دنیا میں کسی بندہ کو سنو کہ وہ میرا نام لے رہا ہے تو سننے کے بعد صور پھونکنے میں چالیس سال کی تاخیر کردینا‘‘۔
روایت: ایک حدیث میں ہے: ’’قلوب بمنزلہ برتن کے ہیں، اور بہترین برتن وہ ہیں جو خیر کو زیادہ سے زیادہ محفوظ رکھنے والے ہیں، علم کا جمع کرنا مال کے جمع کرنے سے بہتر ہے کہ علم تیری حفاظت کرتا ہے، اور مال کی تجھ کو حفاظت کرنی پڑتی ہے، علم خرچ کرنے سے بڑھتا ہے، اور مال خرچ کرنے سے کم ہوتا ہے، مال کا نفع اس کے زائل ہونے (خرچ کرنے) سے ختم ہوجاتا ہے، لیکن علم کا نفع ہمیشہ ہمیشہ باقی رہتا ہے‘‘۔
روایت:’’رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے: مجھے جبریل e نے بتایا کہ اللہ تعالی نے جب آدم eکی تخلیق کی، اور اس کے جسم میں روح داخل کردی، تو مجھے حکم دیا کہ میں جنت کا سیب لے کر اسے آدم eکے حلق میں نچوڑ دوں، سو میں نے اسے ان کے منہ میں نچوڑ دیا، پھر اللہ تعالی نے پہلے قطرے سے اے محمد! آپ کو پیدا کیا، اور دوسرے سے ابو بکر rکو، تیسرے سے عمر rکو، چوتھے سے عثمان rکو، اور پانچویں سے علی rکو، پھر آدم eنے پوچھا: یہ کون ہیں جن کا آپ نے اکرام کیا ہے؟ اللہ تعالی نے فرمایا: یہ آپ کی اولاد کے پانچ شیوخ ہیں، اور فرمایا: میری تمام مخلوق کے مقابلہ میں میرے نزدیک یہ سب سے زیادہ اکرام والے ہیں، آپ ﷺ فرماتے ہیں: پھر جب آدم e سے نافرمانی سرزد ہوگئی تو عرض کیا: میرے رب! ان پانچ شیوخ کی حرمت کے وسیلہ سے جن کو آپ نے فضیلت دے رکھی ہے آپ میری توبہ قبول فرما لیں، سو اللہ تعالی نے آپ کی توبہ قبول کرلی‘‘۔