التحقحق المنیف - "التحقيق المنيف في دراسة الشرط المتفق عليه للحديث الضعيف نظرة على كتبه فضيلة الشيخ محمد عوامة حفظه الله حول حكم العمل بالحديث الضعيف" منظر عام پر آچکی ہے، ورق گردانی/ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے اسی ویب سائٹ پر "کتابیں ڈاؤنلوڈ کریں" پر کلک کریں۔ - برائے مہربانی کسی بھی قسم کی معلومات یا استفسار کے لیے مندرجہ ذیل نمبر پر رابطہ کریں: 3210056-0342
طائرانہ نظر
کتاب کا نام: حضرت مولانا محمد یونس جونپوری صاحب رحمۃ اللہ علیہ کا من گھڑت روایات پر تعاقب

[قرنِ صحابہ گذر جانے کے بعد کسی جن صحابی کے دیکھنے سے برتقدیرِ صحت میری ناقص رائے میں تابعیت کا شرف حاصل نہ ہوگا، اس لئے کہ یہ فضیلت قرن کے ساتھ خاص ہے]

تفصیل

’’سوال: کچھ لوگ یہ کہتے ہیں کہ ان کی جنات صحابی سے ملاقات ہوتی ہے، اور ان سے وہ لوگ بیعت واکتساب فیض کرتے ہیں۔

اب دریافت طلب یہ امر ہے کہ اگر ان سے بشکل انسانی کوئی آدمی ملاقات کرے تو وہ تابعین میں شمار ہوگا یا نہیں؟ اور ان سے دینی فیض بذریعہ بیعت وغیرہ ہوسکتا ہے یا نہیں؟ اور خیر القرون میں باہم جنات وانسان میں اس طرح بیعت اور رشد وہدایت اور فیض رسانی کا سلسلہ قائم ہوا ہے یا نہیں؟ اور اب ہوسکتا ہے یا نہیں؟

جواب:  حضرت ابن عمرr فرماتے ہیں:

×صلى النبي صلى الله عليه وسلمصلوة في آخر حياته، فلما سلم قام النبي صلى الله عليه وسلمفقال: أرأيتَكم ليلتكم هذه! فإن رأس مائة سنة لايبقي ممن هو اليوم على ظهر الأرض أحد. رواه البخاري (ص: ۸۴) ومسلم÷ (۳۱۰/۲).

[نبی ﷺ نے ایک دفعہ اپنی عمر کے آخری حصہ میں نماز پڑھائی،سلام پھیرنے کے بعد آپ ﷺ کھڑے ہو گئے اور فرمایا: تم یہ رات دیکھ رہے ہو (اسے یاد رکھو)، کیونکہ آج روئے زمین پر رہنے والوں میں کوئی بھی سو سال کے ختم تک باقی نہیں رہے گا۔ اس روایت کو بخاری l ومسلم l نے تخریج کیا ہے]

ابو سعید خدری r فرماتے ہیں:

×لما رجع النبي صلى الله عليه وسلممن تبوك سألوه عن الساعة، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: لاتأتي مائة سنة وعلى الأرض نَفْس منفوسة اليوم. رواه مسلم÷.

 [جب آپ ﷺ تبوک سے واپس تشریف لائے تو صحابہp نے آپ ﷺ سے قیامت کے بارے میں پوچھا، رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:آج جو بھی ذی نفس روئے زمین پر موجود ہے، اس پر سو سال نہیں گزریں گے درحالیکہ وہ زندہ ہو۔ اسے مسلم l نے تخریج کیا ہے]

اور حضرت جابر r فرماتے ہیں:

×سمعت النبي صلى الله عليه وسلميقول قبل أن يموت بشهر: ما على الأرض من نَفْس منفوسة لاتأتي عليها مائة سنة. رواه مسلم (۳۱۰/۲)÷.

 [آپ ﷺ کے انتقال سے ایک ماہ قبل میں نے نبی ﷺ کا ارشاد سنا: جو بھی ذی نفس روئے زمین پر موجود ہے، اس پر سو سال نہیں گزریں گے درحالیکہ وہ زندہ ہو۔ اسے مسلم l نے تخریج کیا ہے]

ان احادیث کی وجہ سے حضرات محدثین فرماتے ہیں کہ جو شخص وفات ِنبوی کے سو سال بعد صحابیت کا دعوی کرے وہ کاذب ہے، حضرت عیسیٰ e چونکہ آسمان پر اٹھا لئے گئے اور ابلیس لعین کو اللہ تعالیٰ نے ﴿إِنَّكَ مِنَ الْمُنْظَرِيْن﴾ فرماکر مہلت دیدی، اس لئے ان کا استثناء ذکر کیا ہے، اسی طرح حضرات صوفیہ اور بعض محدثین جیسے ابو القاسم السہیلیl، حافظ ابن الصلاح l، امام نَوَوِی l حضرت خضر e کو مستثنی مانتے ہیں،کیونکہ ان حضرات کی رائے پر وہ زندہ ہیں، امام نَوَوِی l فرماتے ہیں:ہوسکتا ہے کہ حضرت خضر e ارشاد نبوی کے وقت سمندر میں ہوں۔

حوالہ جات

[1] الیواقیت الغالیۃ:اگر جن صحابی سے بشکل انسانی کوئی ملاقات کرلے تو کیا تابعی شمار ہوگا؟۲/۱۵۴ - ۱۵۶۔