[متشکل یاانسانی بدن میں حلول کیا ہوا جن، صحابی یا تابعی ہونے کا دعویٰ کرے تو اس کا کیا حکم ہے؟ نیز انسان اگر انھیں ان صورتوں میں دیکھ لے تو اسے کوئی فضیلت حاصل ہوگی؟]
تفصیل
’’سوال: بعض جنات جسم انسانی میں حلول کر کے آتے ہیں، بعض دفعہ وہ تابعی یا صحابی ہونے کا بھی دعویٰ یا اظہار کرتے ہیں، ایسی صورت میں دیکھنے والے کو کیا فضیلت حاصل ہوجاتی ہے؟
اور اگر وہ بغیر حلول کئے متشکل ہوں تب تو کہا جائے گا کہ انہیں متشکل دیکھا،ورنہ حلول کی صورت میں انہیں دیکھنا نہیں پایا گیا، اس صورت میں اس انسان ملاقی [ملاقات کرنے والے] کا کیا حکم ہوسکتا ہے؟ اور اس انسان کا کیا ہونا چاہئے جس کے جسم میں یہ حلول کئے ہوئے ہیں۔
’’آ کام المرجان‘‘ میں نے دیکھنی چاہی مگر وہ یہاں دستیاب نہیں، شاید اس میں اس قسم کی بحث ہو۔
جواب: جمہور محدثین کے نزدیک صحابی وہ مسلمان ہے جس نے بحالتِ ایمان حضوراکرمﷺ کو ایک لحظہ (سکنڈ) بھی دیکھا ہو یا آپ کی صحبت پائی ہو،اور پھر ایمان پر اس کی وفات ہوئی ہو،اور صحبت کے معلوم ہونے کی حافظ ابن الصلاح l، امام نَوَوِی l،حافظ عراقی l نے چار صورتیں لکھی ہیں:
حوالہ جات
[1] الیواقیت الغالیہ: کیا کوئی جن صحابی یا تابعی جسم انسانی میں حلول کرسکتا ہے؟ اگر اس کو کسی انسان نے دیکھا اس کی فضیلت کیا ہے؟ ۱/۳۸۰ - ۳۸۴۔
ملتی جلتی احادیث
[قرنِ صحابہ گذر جانے کے بعد کسی جن صحابی کے دیکھنے سے برتقدیرِ صحت میری ناقص رائے میں تابعیت کا شرف حاصل نہ ہوگا، اس لئے کہ یہ فضیلت قرن کے ساتھ خاص ہے]
یہ حدیث جو عمر بن خیام جنّی کے نام سے شائع کی جارہی ہے متعدد وجوہ سے غیر معتبر ہے۔
روایت: ’’دنیا کے واسطے عمل اس طرح کر، گویا کہ تو ہمیشہ زندہ رہے گا، اور آخرت کے واسطے عمل اس طرح کر گویا کہ تو کل مرنے والا ہے‘‘،یہ روایت ان لفظوں سے حدیث نہیں ہے،بلکہ اقوالِ سلف میں سے ہے۔
۷ - جزء نصف شعبان روزے کی فضیلت
خاص نصف شعبان کے روزے کی فضیلت پر مشتمل مشہور روایت کو اگرچہ قطعی طور پر موضوع نہ کہا جاسکے لیکن بطریق ظن غالب اس کو موضوع کہا جاسکتا ہے،اور اگر اس کو ضعیف ہی قراردیا جائے تو بھی یہ حدیث شدید ضعیف ہونے کی وجہ سے ناقابلِ عمل ہے۔
روایت : ’’آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ روزِ قیامت دیگر تمام لوگوں کے لیے عمومی تجلی فرمائیں گے، اور اے ابوبکر! آپ کے لئے خصوصی تجلی فرمائیں گے‘‘، اس کےتمام طرق معلول ہیں، ائمہ فن نے ان کے بطلان کا حکم لگایا ہے۔