التحقحق المنیف - "التحقيق المنيف في دراسة الشرط المتفق عليه للحديث الضعيف نظرة على كتبه فضيلة الشيخ محمد عوامة حفظه الله حول حكم العمل بالحديث الضعيف" منظر عام پر آچکی ہے، ورق گردانی/ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے اسی ویب سائٹ پر "کتابیں ڈاؤنلوڈ کریں" پر کلک کریں۔ - برائے مہربانی کسی بھی قسم کی معلومات یا استفسار کے لیے مندرجہ ذیل نمبر پر رابطہ کریں: 3210056-0342
طائرانہ نظر
کتاب کا نام: حضرت مولانا محمد یونس جونپوری صاحب رحمۃ اللہ علیہ کا من گھڑت روایات پر تعاقب

[متشکل یاانسانی بدن میں حلول کیا ہوا جن، صحابی یا تابعی ہونے کا دعویٰ کرے تو اس کا کیا حکم ہے؟ نیز انسان اگر انھیں ان صورتوں میں دیکھ لے تو اسے کوئی فضیلت حاصل ہوگی؟]

تفصیل

’’سوال: بعض جنات جسم انسانی میں حلول کر کے آتے ہیں، بعض دفعہ وہ تابعی یا صحابی ہونے کا بھی دعویٰ یا اظہار کرتے ہیں، ایسی صورت میں دیکھنے والے کو کیا فضیلت حاصل ہوجاتی ہے؟

اور اگر وہ بغیر حلول کئے متشکل ہوں تب تو کہا جائے گا کہ انہیں متشکل دیکھا،ورنہ حلول کی صورت میں انہیں دیکھنا نہیں پایا گیا، اس صورت میں اس انسان ملاقی [ملاقات کرنے والے] کا کیا حکم ہوسکتا ہے؟ اور اس انسان کا کیا ہونا چاہئے جس کے جسم میں یہ حلول کئے ہوئے ہیں۔

’’آ کام المرجان‘‘ میں نے دیکھنی چاہی مگر وہ یہاں دستیاب نہیں، شاید اس میں اس قسم کی بحث ہو۔

جواب:  جمہور محدثین کے نزدیک صحابی وہ مسلمان ہے جس نے بحالتِ ایمان حضوراکرمﷺ کو ایک لحظہ  (سکنڈ) بھی دیکھا ہو یا آپ کی صحبت پائی ہو،اور پھر ایمان پر اس کی وفات ہوئی ہو،اور صحبت کے معلوم ہونے کی حافظ ابن الصلاح l، امام نَوَوِی l،حافظ عراقی l نے چار صورتیں لکھی ہیں:

حوالہ جات

[1] الیواقیت الغالیہ: کیا کوئی جن صحابی یا تابعی جسم انسانی میں حلول کرسکتا ہے؟ اگر اس کو کسی انسان نے دیکھا اس کی فضیلت کیا ہے؟ ۱/۳۸۰ - ۳۸۴۔

ملتی جلتی احادیث