التحقحق المنیف - "التحقيق المنيف في دراسة الشرط المتفق عليه للحديث الضعيف نظرة على كتبه فضيلة الشيخ محمد عوامة حفظه الله حول حكم العمل بالحديث الضعيف" منظر عام پر آچکی ہے، ورق گردانی/ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے اسی ویب سائٹ پر "کتابیں ڈاؤنلوڈ کریں" پر کلک کریں۔ - برائے مہربانی کسی بھی قسم کی معلومات یا استفسار کے لیے مندرجہ ذیل نمبر پر رابطہ کریں: 3210056-0342
طائرانہ نظر
کتاب کا نام: حضرت مولانا محمد یونس جونپوری صاحب رحمۃ اللہ علیہ کا من گھڑت روایات پر تعاقب

یہ حدیث جو عمر بن خیام جنّی کے نام سے شائع کی جارہی ہے متعدد وجوہ سے غیر معتبر ہے۔

تفصیل

’’سوال: ایک اشتہار اس طرح شائع ہوا ہے، جس میں ایک جن صحابی کا حسب ذیل مضمون ہے، کیا یہ درست ہے؟

×من أمير المؤمنين خليفة المسلمين سلطان الأجِنَّة سيدنا حضرت عمر بن خيام  رضي الله تعالى عنه سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: أصحابي كلهم كنجوم السماء المشرقة، وواحد منهم يعيش طويلا، ويجعل خليفة في الناس في أواخر أربع مائة وألف من الهجرة النبوية، فهو يظهر بسنتي، وتفترق أمتي على ثلث وسبعين فرقة كلهم في النار إلا واحدة، فقالوا : ومن ذاك يا رسول الله! قال: هو من سَنَّ بسنتي وسنة خليفتي، أصحابي كالنجوم فبأيهم اقتديتم اهتديتم، أجزت الحكيم إحسان الهي أن يروي هذا الحديث عني÷.

 [امیر المؤمنین، خلیفۃ المسلمین، جنات کے سلطان، ہمارے آقا حضرت عمر بن خیام r کی جانب سے ہے کہ میں نے آپ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: میرے صحابہ تمام تر آسمان کے روشن ستاروں کی مانند ہیں، اور ان میں ایک صحابی لمبی زندگی پائے گا، جسے چودہویں صدی ہجری نبوی کے آخر میں لوگوں کا خلیفہ بنایا جائے گا، یہ شخص میری سنتوں کو ظاہر کرے گا، درحالیکہ میری امت تہتر فرقوں میں بٹ چکی ہوگی، سوائے ایک کے وہ سب جہنم میں جائیں گے، لوگوں نے پوچھا، یا رسول اللہ ! یہ کون لوگ ہوں گے، آپ ﷺ نے فرمایا: یہ وہ لوگ ہوں گے، جو میری سنتوں کو رائج کریں اور میرے خلیفہ کے طریقوں کو چلائیں، میرے صحابہ ستاروں کی طرح ہیں، ان میں جس کی بھی اقتداء کروگے، ہدایت پالوگے۔میں نے حکیم احسان الٰہی کو اس حدیث کی اپنی طرف سے نقل کرنے کی اجازت دی]

جواب:  یہ حدیث جو عمر بن خیام جنّی کے نام سے شائع کی جارہی ہے متعدد وجوہ سے غیر معتبر ہے:

1 اولاً تو اس لئے کہ جن محدثین کرام نے اپنی کتابوں میں جنات صحابہ کا تذکرہ کیا ہے ان میں سے کسی نے بھی اس نام کا کوئی صحابی ذکر نہیں کیا، اسی طرح جن روایات میں جنات کے وفد کا ذکر ہے اور ان میں بعض جنات کے نام ملتے ہیں ان میں بھی یہ نام نہیں ہے ۔

2 ثانیاً اس لئے کہ حدیث: ×أصحابی كالنجوم فبأيهم اقتديتم اهتديتم÷. متعدد صحابہ حضرت جابر، ابن عمر، ابو ہریرہ، انس بن مالک، ابن عباس، حضرت عمر  رضی اللہ عنہم سے نقل کی جاتی ہے، اور کسی صحابی کی روایت میں ×وواحد منهم یعیش طویلا الخ÷. [ان میں سے ایک لمبی زندگی پائے گا الخ] کا اضافہ نہیں ہے،کیا حضورپاکﷺ نے یہ زیادتی صرف اسی جن سے بیان فرمائی اور کسی سے نہیں بیان فرمائی ؟

3 ثالثًا اس لئے کہ اس میں ×أواخر أربع مائة وألف من الهجرة النبوية÷  یعنی چودھویں صدی ہجری کا آخر ذکر کیا گیا ہے، حالانکہ سنین ہجریہ سے تاریخ کی ابتداء حضرت عمر r کے زمانہ میں ہوئی، جب سلطنتِ اسلامی وسیع ہوگئی،اور دار الخلافہ مدینہ منورہ سے آنے جانے والے بعض فرامین وخطوط میں اور بعض دیگر دستایزوں میں تاریخ نہ ہو نے کی وجہ سے بعض اوقات دشواریاں پیش آئیں، اس وقت حضرت عمر rنے صحابہ رضی اللہ عنہم کے مشورہ سے ہجرت سے تاریخ کی ابتداء فرمائی، اس لئے کہ ہجرت فروغِ اسلام کا پیش خیمہ بنی،اس کی تفصیل ’’فتح الباری‘‘ (ص: ۲۷۰/۸) وغیرہ میں دیکھی جا سکتی ہے۔

4 رابعًا اس لئے کہ حافظ ابن القیم lوغیرہ نُقَّادِفن نے تصریح کی ہے کہ کسی حدیث میں کسی واقعہ کے وقوع کی تاریخ کا ہونا اس کے موضوع ہونے کی علامت ہے:

×قال(ص:۶۳): ومنها: أن يكون في الحديث تاريخ كذا وكذا، مثل قوله: إذ كان سنة كذا وكذا وقع كيت وكيت، وإذ كان شهر كذا كذا وقع كيت وكيت÷. [آپ فرماتے ہیں: موضوعات کی ایک علامت یہ کہ حدیث میں ایسی ایسی تاریخ ہو، مثلا جب یہ سال ہوگا تو اس اس طرح واقعات ہوں گے، جب یہ مہینہ ہوگا تو اس اس طرح کے واقعات ہوں گے]

علامہ ملاعلی قاری l نے ’’موضوعات کبری‘‘ میں (ص : ۹۵) یہ قاعدہ ابن القیم lسے بلا کسی نکیر کے نقل کیا ہے۔

5 خامساً اس لئے کہ اس میں ×یجعل خلیفة في الناس÷ [اسے لوگوں کا خلیفہ بنایا جائے گا] ہے، اور خلیفہ بننے کی دوصورتیں ہیں: یا توخلیفہ سابق نامزد کر دے، جیسے حضرت صدیق اکبر r نے حضرت عمر r کو نامزد فرما دیا تھا، یا اہل الحل والعقد یعنی علماء یا اہل الرائے کی ایک جماعت خلیفہ منتخب کر دے، جیسے حضرت ابو بکر r اور دیگر بہت سے خلفاء کی تعین میں ہوا، ایک تیسری صورت علماء نے تغلّب کی لکھی ہے: ×قال فی الدر المختار: وتصح سلطنة متغلّب للضرورة÷. [درمختار میں کہا ہے: ضرورتاً مُتَغَلِّب کی سلطنت صحیح ہوجاتی ہے] یعنی اگر کوئی زبردستی اپنی طاقت اور زور سے بغیر اہلِِ حل وعقد کی بیعت کے امام الناس بن جائے تو بضرورتِ دفع فتنہ وفساد جائز ہے، لیکن جو صحابیت کا دعویدار ہے اس سے یہ تیسری شکل بعید ہے، اور پہلی دونوں صورتیں یہاں موجود نہیں۔

6 سادساً اس لئے کہ خلافت کےلئے خاندانِ قریش کا فرد ہونا ضروری ہے:

 ×قال النبي صلى الله عليه وسلم: الأئمة من قريش. رواه أحمد في رواية: الأمراء من قريش. رواه أبو يعلى و الطَبَرَانِي÷. [نبی ﷺ کا ارشاد ہے: ائمہ قریش میں سے ہوں گے۔ اسے احمد l نے تخریج کیا ہے، ایک اور روایت میں ہے: امراء قریش میں سے ہوں گے۔اسے ابویعلی l وطبرانی l نے تخریج کیا ہے]

امام بخاری l نے ’’صحیح بخاری‘‘ میں (ص : ۱۰۵۷) ایک مستقل باب ’’الأمراء من قريش‘‘ [امیر قریش میں سے ہوں گے] منعقد کیا ہے۔

 قاضی عِیَاض l فرماتے ہیں:

×واشتراط كون الإمام قرشیا هو مذهب العلماء كافة، وقد احتج به أبو بكر  رضي الله تعالى عنه وعمر  رضي الله تعالى عنه على الأنصار يوم السقيفة فلم ينكره أحد، وقد عدها العلماء في مسائل الإجماع، ولم ينقل عن أحد من السلف قول ولا فعل يخالف ماذكرنا، ولا اعتداد بقول النَظَّام ومن وافقه من الخوارج وأهل البدع أنه يجوز كونه من غير قريش÷.

[امام کےقریشی ہونے کی شرط تمام علماء کا مذہب ہے، ابوبکر r  وعمر r  نے سَقِیْفَہ کے دن انصار کے سامنے اسی روایت سے دلیل پکڑی جس پر کسی نے انکار نہیں کیا، اور اسے علماء نے اجماعی مسائل میں شمار کیا ہے، اور ہماری ذکر کردہ بات کے خلاف سلف سے کوئی قول وفعل منقول نہیں ہے، اور نَظَّام اور اس کے موافق خوارج وبدعتیوں کا یہ کہنا کہ غیر قریش کا امام بننا جائز ہے، کوئی حیثیت نہیں رکھتا]

 یعنی امام المسلمین کا قریشی ہونا اجماعی مسئلہ ہے، اور بعض اہل بدعت جو غیر قریشی کی امامت کے قائل ہیں اس کا کوئی اعتبار نہیں ہے، اب جب کہ غیر قریشی انسان ہونے کے باوجود امام نہیں بنایا جاسکتا ہے تو جنات کا کیا سوال ہوتا ہے۔

 ان امورِ مذکورہ کے علاوہ اس شائع شدہ پوسٹر میں ایسے لفظی نقائص بھی ہیں جن سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ یہ سب کچھ کسی بعد کے شخص کا خود ساختہ ہے، مزید یہ ہے کہ اعلان ۱۳ صفر ۱۳۹۸ھ کا ہے، اور آج ۳۰ شعبان ۱۳۹۸ھ ہے، خلیفہ صاحب بزعم خود خلیفہ ہوگئے، اور امورِ مسلمین کی تدبیر واصلاح کا اب تک کوئی کام انجام نہیں دیا (بلکہ اب تو چودھویں صدی ختم ہو کر پندرھویں کا افتتاح ہوگیا، اور اب تک نہ مسلمین کا غلبہ ہوا، نہ خلیفہ صاحب رونماہوئے )۔

اب اس کے بعد یہ بھی یاد رکھنا ضروری ہے کہ حضور اقدس ﷺ فرماتے ہیں: ×من كذب عليّ متعمدا فليتبوأ مقعده من النار. رواه البخاري ومسلم من حديث أبي هريرة  رضي الله تعالى عنه÷. [جس نے مجھ پر جان بوجھ کر جھوٹ بولا وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنالے۔ اسے بخاری l ومسلم l نے ابوہریرہ r  سے تخریج کیا ہے]

یعنی جو آنحضرت ﷺ کی طرف کوئی ایسی بات منسوب کرے جو آپﷺ نے ارشاد نہ فرمائی ہو تو اس کا ٹھکانہ جہنم ہے، علماء نے تصریح کی ہے کہ آپﷺ کی طرف سے اس طرح جعلی روایت کرنا گناہ کبیرہ ہے، اور ایک جماعت کا توخیال یہ ہےکہ ایسا شخص دائرہ ایمان ہی سے نکل جاتا ہے، اور جمہور کے نزدیک اگر چہ آدمی ایمان سے تو خارج نہیں ہوتا لیکن یہ کم ہلاکت کی بات نہیں کہ گناہ کبیرہ بلکہ بہت بڑے گناہ کبیرہ کا ارتکاب کیا جائے اور جہنم کی وعید کا مورد بنے، اور اگر کسی شخص نے جعلی روایت آپﷺ کی طرف منسوب کی تو ایسا شخص محدثین کے یہاں ہمیشہ کے لئے مردود الروایۃ ہو جاتا ہے، اس کی ساری روایتیں غیر معتبر ہوجاتی ہیں، لہٰذا اس طرح کی روایت کے نقل کر نے سے احتراز کرنا لازم اور اس سے بچنا واجب ہے، نگاہ ِشارع میں ایسا شخص لائق قتل ہے۔

 عبد الرزاق l ’’المصنف‘‘ (ص:۳۰۸/۵) میں روایت کر تے ہیں: ×عن ابن التيمي عن أبيه أن عليا  رضي الله تعالى عنه قال فيمن كذب على النبي صلى الله عليه وسلم: يضرب عنقه÷. [ابن تیمی l نے اپنے والد سے نقل کیا ہے کہ جس نے نبی ﷺ پر جھوٹ بولا اس کی گردن اڑادی جائے]

 عبد الرزاق l کی ایک دوسری روایت میں ہے: ×عن معمرعن رجل عن سعيد بن جبير: أن رجلا كذب النبي صلى الله عليه وسلم، فبعث عليا  رضي الله تعالى عنه والزبير  رضي الله تعالى عنه فقال: اذهبا فإن أدركتماه فاقتلاه÷. [معمر،عن رجل، عن سعید بن جبیر کی سند سے منقول ہے کہ ایک شخص نے نبی ﷺ پر جھوٹ بولا تو آپ ﷺنے   علی r  وزبیر r کو کہا کہ جاؤ، اگر وہ تمہیں ملے تو اسے قتل کردینا]

اسی طرح ’’مصنف عبد الرزاق‘‘ کے مطبوعہ نسخہ میں ×كذب النبي صلى الله عليه وسلم÷ واقع ہوا ہے، لیکن عبد الرزاق l نے اس پر ×عقوبة من كذب على النبي صلى الله عليه وسلم÷ [نبی ﷺ پر جھوٹ بولنے والے کی سزا ] کا ترجمہ منعقد کیا ہے، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ روایت میں ×من كذب على النبي صلى الله عليه وسلم÷. [جس نے نبی ﷺ پر جھوٹ بولا] ہے، فقط‘‘[1]۔

حوالہ جات

[1] الیواقیت الغالیۃ:جن کی صحابیت کی غلط افواہ،۲/۱۹۷،۱۹۵۔