التحقحق المنیف - "التحقيق المنيف في دراسة الشرط المتفق عليه للحديث الضعيف نظرة على كتبه فضيلة الشيخ محمد عوامة حفظه الله حول حكم العمل بالحديث الضعيف" منظر عام پر آچکی ہے، ورق گردانی/ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے اسی ویب سائٹ پر "کتابیں ڈاؤنلوڈ کریں" پر کلک کریں۔ - برائے مہربانی کسی بھی قسم کی معلومات یا استفسار کے لیے مندرجہ ذیل نمبر پر رابطہ کریں: 3210056-0342

باب: سورتوں اور آیات کے فضائل

سورۂ اخلاص، یٰسین، آیۃ الکرسی اور دیگر سورتوں و آیات کے مخصوص فضائل۔

گروپ: قرآن

22 روایات

  1. روایت: حدیث میں ہے: ’’من قرأ آية الكرسي عند منامه فتح الله عليه أبواب الرحمة إلى الصباح، وأعطاه بكل شعرة على جسده مدينة من نور، وإن مات من ليلته مات شهيدا‘‘. جو شخص سوتے وقت آیت الکرسی پڑھےگا تو اللہ تعالی اس کےلئے رحمت کے دروازے کھول دیں گے، اور اس کے جسم پر موجود ہر بال کے بدلہ اسے نور کا ایک شہر دیں گے، اور اگر وہ اس رات مرگیا تو شہید مرا۔

  2. روایت: حضرت عثمان r فرماتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ سے’’ لَهُ مَقَالِيدُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ‘‘کی تفسیر کے متعلق پوچھا، رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: اس کی تفسیر ’’لاالہ الااللہ، اللہ اکبر، سبحان اللہ، الحمد للہ، استغفر اللہ، لا حول ولا قوۃ الاباللہ، الاول والآخر، والظاہر والباطن،بیدہ الخیر، یحیی ویمیت،وہو علی کل شیء قدیر‘‘ ہے۔

  3. روایت:’’نبی ﷺ نے فرمایا: جس گھر میں یہ آیت پڑھی جائے شیطان اس گھر سے تین دن یا تیس دن دور رہتا ہے، اور اس گھر میں چالیس راتوں تک کوئی جادو گرنی اور جادو گر داخل نہیں ہوسکتا، اے علی! تم اپنے اہل وعیال اور اپنے پڑوسیوں کو آیۃ الکرسی سکھاؤ، اس سے بڑی کوئی آیت نازل نہیں ہوئی‘‘۔

  4. روایت: حدیث میں ہے: ’’جو شخص اس بات پر خوش ہو کہ اس کا گھر خیر سے بھر جائے تو اسے چاہئے کہ وہ کثرت سے آیت الکرسی پڑھے، اور جو شخص وضوء کے بعد آیت الکرسی پڑھے گا تو اللہ تعالی اس کے چالس درجہ بلند کریں گے، اور ہر حرف پر ایک فرشتہ پیدا کریں گے جو قیامت کے دن تک اس کے پڑھنے والے کےلئے استغفار کرتا رہے گا‘‘۔

  5. روایت: ’’قیامت کے دن جب اس امت کے اعمال کا وزن کیا جائےگا تو ان کی نماز کی ایک رکعت دوسری امتوں کی نماز کی ہزار رکعات سے بڑھ جائے گی، سو لوگ اس پر تعجب کریں گے، پھر ان سے کہا جائےگا: یہ لوگ اپنی نماز میں ’’بسم اللہ الرحمن الرحیم‘‘پڑھتے تھے‘‘۔

  6. روایت:’’نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا: بلاشبہ جنت میں اللہ نے ایک گھر بنایا ہے جس کا نام ’’دار النور‘‘ہے، اور اس میں موجود ہر چیز کو اللہ تعالی نے نور سے تخلیق کیا ہے، اور یہ گھر ہوا میں ہے، جس کا کوئی راستہ نہیں ہے، پوچھا گیا: یا رسول اللہ! لوگ اس میں کیسے چڑھ کر جائیں گے؟ نبی ﷺ نے فرمایا: ان سے کہا جائےگا کہ تم ’’بسم اللہ الرحمن الرحیم‘‘ پڑھو، سو وہ اڑکر وہاں پہنچ جائیں گے‘‘۔

  7. روایت:’’جبریل علیہ السلام نے نبی ﷺ سے عرض کیا: اے محمد! میں آپ کی امت پر عذاب کا اندیشہ رکھتا تھا، پھر جب فاتحہ نازل ہوگئی تو مجھے اطمینان ہوگیا، آپ ﷺ نے پوچھا: اے جبریل! اس کی کیا وجہ ہے؟ جیریل e نے عرض کیا: اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالی کا فرمان ہے: ’’اور ان سب سے جہنم کا وعدہ ہے جس کے سات دروازے ہیں، ہر دروازے کےلئے ان لوگوں کے الگ الگ حصے ہیں‘‘، اور فاتحہ کی سات آیتیں ہیں، سو جو شخص ان کو پڑھےگا تو ہر آیت جہنم کے دروازوں میں سے ہر دروازے پر پردہ بن جائےگی، چنانچہ آپ کی امت ان دروازوں سے سلامتی کے ساتھ گزر جائےگی‘‘۔