روایت:’’نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا: بلاشبہ جنت میں اللہ نے ایک گھر بنایا ہے جس کا نام ’’دار النور‘‘ہے، اور اس میں موجود ہر چیز کو اللہ تعالی نے نور سے تخلیق کیا ہے، اور یہ گھر ہوا میں ہے، جس کا کوئی راستہ نہیں ہے، پوچھا گیا: یا رسول اللہ! لوگ اس میں کیسے چڑھ کر جائیں گے؟ نبی ﷺ نے فرمایا: ان سے کہا جائےگا کہ تم ’’بسم اللہ الرحمن الرحیم‘‘ پڑھو، سو وہ اڑکر وہاں پہنچ جائیں گے‘‘۔
تفصیل
حوالہ جات
[1] نزهة المجالس ومنتخب النفائس:۱/۳۶،المكتبة العصرية ـ بيروت،الطبعة1438هـ .
ملتی جلتی احادیث
روایت: ’’آپ ﷺ کا ارشاد ہے: بلاشبہ میری امت روزِ قیامت ’’بسم اللہ الرحمن الرحیم‘‘کہتی ہوئی آئےگی، سو میزان میں ان کی نیکیاں وزنی ہوں گی، پھر دوسری امتیں کہیں گی: امت محمد ﷺ کے میزان کو کس چیز نے وزنی کردیا ہے؟ ان کے انبیاء E فرمائیں گے: اس کی وجہ یہ ہے کہ امت محمد ﷺ کے کلام کی ابتداء اللہ تعالی کے تین مکرم ناموں سے ہوتی ہے، اگر ان کو ترازو کے پلڑے میں رکھ دیا جائے، اور دوسری جانب تمام مخلوق کی برائیاں رکھ دی جائیں تو ان کی نیکیاں وزنی ہو جائیں‘‘۔
روایت: ’’قیامت کے دن جب اس امت کے اعمال کا وزن کیا جائےگا تو ان کی نماز کی ایک رکعت دوسری امتوں کی نماز کی ہزار رکعات سے بڑھ جائے گی، سو لوگ اس پر تعجب کریں گے، پھر ان سے کہا جائےگا: یہ لوگ اپنی نماز میں ’’بسم اللہ الرحمن الرحیم‘‘پڑھتے تھے‘‘۔
روایت:حدیث میں ہے: ’’جو شخص کھانے میں بسم اللہ پڑھنا بھول جائے، پھر وہ کھانے سے فارغ ہوکر ایک مرتبہ ’’قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ‘‘پڑھ لے، تو اس کےلئے جنت میں سرخ یاقوت کا ایک شہر بنایا جائےگا، اور ہر لقمہ کے بدلہ اس کےلئے دس نیکیاں لکھی جائیں گی‘‘۔
روایت: ’’آپ ﷺ کا ارشاد ہے: ’’ لا يرد دعاء أوله: بسم الله الرحمن الرحيم‘‘.جس دعا کے شروع میں ’’بسم اللہ الرحمن الرحیم‘‘ہو وہ رد نہیں ہوتی‘‘۔
روایت: ’’ آپ ﷺ نے چار دراہم کی ایک قمیص خرید کر اسے پہنا، اچانک ایک انصاری آدمی سامنے آیا اور کہنے لگا: اے اللہ کے رسول ﷺ!یہ قمیص مجھے دے دیں، اللہ تعالی آپ کو جنت کا لباس پہنائیں گے، آپ ﷺ نے قمیص اتار کر اسے دے دی، آپ ﷺ پھر دکان دار کے پاس گئے، اور اس سے چار دراہم کے بدلہ ایک قمیص خرید لی، آپ ﷺ کے پاس دو درہم باقی رہ گئے، راستہ میں ایک باندی ملی جو رو رہی تھی، آپ ﷺ نے وجہ پوچھی تو باندی نے کہا: میرے گھر والوں نے مجھے آٹا خریدنے کےلئے دو درہم دئے تھے، وہ دونوں ہلاک ہوگئے، سو نبی ﷺ نے بچے ہوئے دو درہم اسے دے دئے، پھر وہ روتے ہوئے پلٹی، آپ ﷺ نے فرمایا: اب کیوں رو رہی ہو؟ باندی نے کہا: مجھے ڈر ہے کہ وہ مجھے ماریں گے، آپ ﷺ اس کے ساتھ گھر گئے، آپ ﷺ نے سلام کیا تو انہوں نے آپ ﷺ کی آواز کو پہچان لیا، آپ ﷺ نے پھر سلام کیا، پھر سلام کیا، غرض یہ کہ آپ ﷺ نے تین دفعہ سلام کیا ،پھر انہوں نے جواب دیا، آپ ﷺ نے فرمایا: کیا آپ لوگوں نے پہلا سلام سنا تھا؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، لیکن ہم نے چاہا کہ آپ ہم پر سلام کی زیادتی کریں، ہمارے ماں باپ آپ پر قربان! آپ کتنی بلند شخصیت ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: یہ باندی ڈر رہی تھی کہ تم اسے مارو گے، باندی کے مالک نے کہا: آپ کے اس کے ساتھ چل کر آنے کی وجہ سے یہ اللہ کی رضا کےلئے آزاد ہے، چنانچہ اللہ کے نبی ﷺ نے انہیں خیر اور جنت کی خوشخبری دی، پھر فرمایا: اللہ تعالی نے دس میں برکت دے رکھی ہے، اللہ تعالی نے اپنے نبی کو بھی قمیص پہنائی، اور انصار کے ایک آدمی کو بھی قمیص پہنائی، اور ان کے ذریعہ سے اللہ تعالی نے ایک گردن کو آزاد کروایا، اور میں اللہ تعالی کی تعریف بیان کرتا ہوں، وہی ہے جس نے ہمیں اپنی قدرت سے عطا کیا‘‘۔