روایت:’’جبریل علیہ السلام نے نبی ﷺ سے عرض کیا: اے محمد! میں آپ کی امت پر عذاب کا اندیشہ رکھتا تھا، پھر جب فاتحہ نازل ہوگئی تو مجھے اطمینان ہوگیا، آپ ﷺ نے پوچھا: اے جبریل! اس کی کیا وجہ ہے؟ جیریل e نے عرض کیا: اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالی کا فرمان ہے: ’’اور ان سب سے جہنم کا وعدہ ہے جس کے سات دروازے ہیں، ہر دروازے کےلئے ان لوگوں کے الگ الگ حصے ہیں‘‘، اور فاتحہ کی سات آیتیں ہیں، سو جو شخص ان کو پڑھےگا تو ہر آیت جہنم کے دروازوں میں سے ہر دروازے پر پردہ بن جائےگی، چنانچہ آپ کی امت ان دروازوں سے سلامتی کے ساتھ گزر جائےگی‘‘۔
تفصیل
حوالہ جات
[1] مفاتيح الغيب:1/181،دار الفكر ـ بيروت،الطبعة الأولى1401هـ .
[2] سلوة العارفين:۱/۱۳0،ت:السيد يوسف أحمد،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى2011ء .
[3] اللباب في علوم الكتاب:1/161،رقم:36،ت:عاد ل أحمد عبد الموجود وعلي محمد معوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى1419هـ .
[4] نزهة المجالس ومنتخب النفائس:۱/۴۳،المكتبة العصرية ـ بيروت،الطبعة1438هـ .
ملتی جلتی احادیث
روایت: ’’اللہ تعالی نے عرش کے نیچے ایک فرشتہ تخلیق فرمایا ہے، جس کا سر آدمی کے سر کی مانند ہے، اس کے ستر ہزار پر ہیں، ہر پر کے اوپر فرشتوں کی ایک جماعت ہے، اس کے دائیں رخسار پر سورۂ اخلاص لکھی ہوئی ہے، اور بائیں رخسار پر آیت ’’شَهِدَ اللَّهُ أَنَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ‘‘لکھی ہوئی ہے، اور اس کی پیشانی پر فاتحہ لکھی ہوئی ہے، اور اس کے سامنے ستر ہزار فرشتے صف باندھ کر فاتحہ پڑھتے ہیں، سو جب وہ کہتے ہیں:’’إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ‘‘تو سب سجدہ میں چلے جاتے ہیں، اللہ تعالی فرماتے ہیں: سر اٹھاؤ، میں تم سے راضی ہوچکا ہوں، وہ عرض کرتے ہیں: اے ہمارے پروردگار! آپ امت محمد ﷺ کے ان لوگوں سے راضی ہوجائیں جو فاتحہ پڑھتے ہیں، سو اللہ تعالی فرماتے ہیں: تم گواہ رہو کہ میں ان سے راضی ہوگیا ہوں‘‘۔
روایت:’’حضرت فاطمہ R کا روزے کی حالت میں آدھی روٹی کھانا، اور آدھی روٹی آپ ﷺ کےلئے دوپٹے میں باندھ لینا، اس خیال سے کہ شاید آپ ﷺ نے کچھ نہ کھایا ہو، پھر خود اپنے ہاتھوں سے آپ ﷺ کو وہی آدھی روٹی کھلائی، اور پھر حضرت فاطمہ R رونے لگیں، حضور ﷺ نے پوچھا: اے فاطمہ! اب کیوں روتی ہو؟ کہا: ابا جان! کل کیا ہوگا، کل کون کھلانے آئے گا؟ کیا کل میرے گھر میں چولھا جلے گا؟ کیا کل آپ کے گھر میں چولھا جلے گا؟ نبی ﷺ نے اپنا ہاتھ حضرت فاطمہ R کے سر پر رکھ کر فرمایا: اے فاطمہ! تو صبر کر، اور میں بھی صبر کرتا ہوں، ہمارے صبر کرنے سے اللہ تعالی امت کے گناہ گاروں کو معاف کردیں گے‘‘۔
روایت: ’’آپ ﷺ کا ارشاد ہے: بلاشبہ میری امت روزِ قیامت ’’بسم اللہ الرحمن الرحیم‘‘کہتی ہوئی آئےگی، سو میزان میں ان کی نیکیاں وزنی ہوں گی، پھر دوسری امتیں کہیں گی: امت محمد ﷺ کے میزان کو کس چیز نے وزنی کردیا ہے؟ ان کے انبیاء E فرمائیں گے: اس کی وجہ یہ ہے کہ امت محمد ﷺ کے کلام کی ابتداء اللہ تعالی کے تین مکرم ناموں سے ہوتی ہے، اگر ان کو ترازو کے پلڑے میں رکھ دیا جائے، اور دوسری جانب تمام مخلوق کی برائیاں رکھ دی جائیں تو ان کی نیکیاں وزنی ہو جائیں‘‘۔
روایت: ’’رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے: بنی اسرائیل میں ایک انتہائی خوبصورت عابد تھا، جو ٹوکریاں بنا کر فروخت کیا کرتا تھا، ایک دن بادشاہ کے دروازہ کے سامنے سے گزرا، بادشاہ کی بیوی کو وہ بہت پسند آیا، اور اس نے اس سے اپنی حاجت کو پورا کرنا چاہا، اس نے انکار کیا، اور گناہ سے بچنے کےلئے اپنے آپ کو مارنے کےلئے چھت سے گرا دیا، اور حضرت جبرائیل e نے اللہ کے فرمان سے آکر بچا لیا۔۔۔‘‘۔
روایت: ’’رسول اللہ ﷺ ایک مرتبہ قبیلہ بنو الحارث کے پاس گئے، وہ لوگ بخار میں مبتلا تھے، حضور ﷺ نے فرمایا: کیا حال ہے؟ کہنے لگے: حضور ہم لوگ بخار میں مبتلا ہیں، حضور ﷺ نے فرمایا: تمہارے پاس تو صُعَیب موجود ہے، (یہ مدینہ کی ایک خاص جگہ کا نام ہے جو وادی بطحان میں ہے) انہوں نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول! ہم صُعَیب کو کیا کریں؟ حضور ﷺ نے فرمایا: اس کی مٹی لے کر پانی میں ڈال کر اس پر یہ پڑھ کر لعاب ڈالو: ’’بسم الله، تراب أرضنا بريق بعضنا شفاء لمريضنا بإذن ربنا‘‘، ان حضرات نے اس کا استعمال کیا، اللہ کے فضل سے بخار جاتا رہا‘‘۔