روایت: ’’رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’ذكر الله علم الإيمان، وبراءة من النفاق، وحصن من الشيطان، وحرز من النار‘‘. اللہ تعالی کا ذکر ایمان کی علامت، نفاق سے براءت، شیطان سے حفاظت کا قلعہ، اور آگ سے نجات کا ذریعہ ہے‘‘۔
باب: ذکر و تسبیحات
ذکر، تسبیح، کلمات اور ان کے فضائل و ثواب۔
گروپ: اذکار و دعوات
13 روایات
روایت: ’’آپﷺ کا ارشاد ہے: ’’ الحمد لله على النعمة أمان لزوالها‘‘ .کسی نعمت پر اللہ تعالی کی حمد کرنا اس نعمت کے زائل ہوجانے سے حفاظت ہے‘‘۔
روایت: ’’جس شخص کو یہ پسند ہوکہ وہ اللہ تعالی کا ہم نشین بنے، تو اس کو چاہیے کہ وہ صوفیہ کی ہم نشینی اختیار کرے‘‘۔
روایت: ’’آپ ﷺ کا ارشاد ہے: بلاشبہ میری امت روزِ قیامت ’’بسم اللہ الرحمن الرحیم‘‘کہتی ہوئی آئےگی، سو میزان میں ان کی نیکیاں وزنی ہوں گی، پھر دوسری امتیں کہیں گی: امت محمد ﷺ کے میزان کو کس چیز نے وزنی کردیا ہے؟ ان کے انبیاء E فرمائیں گے: اس کی وجہ یہ ہے کہ امت محمد ﷺ کے کلام کی ابتداء اللہ تعالی کے تین مکرم ناموں سے ہوتی ہے، اگر ان کو ترازو کے پلڑے میں رکھ دیا جائے، اور دوسری جانب تمام مخلوق کی برائیاں رکھ دی جائیں تو ان کی نیکیاں وزنی ہو جائیں‘‘۔
روايت:’’ آپ ﷺ نےفرمایا: الذكر نعمة من الله فأدوا شكرها. ذکر اللہ کی نعمتوں میں سے ایک نعمت ہے، لہذا اس کا شکر ادا کرو‘‘۔
روایت:آپﷺ کا ارشاد ہے: میں تمہیں پانچ سو یا پانچ ہزار بکریاں ہبہ کروں یا پانچ کلمات سکھادوں جن سے تمہارا دین اور دنیا دونوں ٹھیک ہوجائیں گے۔
روایت: ’’آپ ﷺ کا ارشاد ہے: ’’ نعم المذكر السبحة‘‘. تسبیح بہترین یاد دلانے والی چیز ہے‘‘۔
روایت: ’’نبی ﷺنے فرمایا: ’’ كل مطيع لله فهو ذاكر‘‘. ہر وہ بندہ جو اللہ تعالی کا مطیع اور فرمانبردار ہو، وہ ذکر کرنے والا ہے‘‘۔
روایت: ’’نبی ﷺ نے فرمایا: ’’إن لكل شيء سقالة، وإن سقالة القلوب ذكر الله‘‘. ہر چیز کی ایک چمک ہوتی ہے، اور دلوں کی چمک اللہ تعالی کا ذکر ہے‘‘۔
روایت: ’’جو شخص ’’لا إله إلّا اﷲ‘‘ کہے اور اسے کھینچ کر پڑھے (یعنی لمبا کرے) تو اس شخص کے چار ہزار گناہ کبیرہ ختم (یعنی معاف)ہوجاتے ہیں‘‘۔