التحقحق المنیف - "التحقيق المنيف في دراسة الشرط المتفق عليه للحديث الضعيف نظرة على كتبه فضيلة الشيخ محمد عوامة حفظه الله حول حكم العمل بالحديث الضعيف" منظر عام پر آچکی ہے، ورق گردانی/ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے اسی ویب سائٹ پر "کتابیں ڈاؤنلوڈ کریں" پر کلک کریں۔ - برائے مہربانی کسی بھی قسم کی معلومات یا استفسار کے لیے مندرجہ ذیل نمبر پر رابطہ کریں: 3210056-0342
طائرانہ نظر
کتاب کا نام: غیر معتبر روایات کا فنی جائزہ (حصہ اول)

روایت: ’’جو شخص ’’لا إله إلّا اﷲ‘‘ کہے اور اسے کھینچ کر پڑھے (یعنی لمبا کرے) تو اس شخص کے چار ہزار گناہ کبیرہ ختم (یعنی معاف)ہوجاتے ہیں‘‘۔

حکم: من گھڑت

تفصیل

محدثینِ کرام ہر زمانے میں احادیث کو خس وخاشاک سے صاف کرتے رہے ہیں، ظاہر ہے ان کی یہ کاوشیں ساری امت پر احسان ہیں، کیوں کہ ان محدثینِ عظام نے لوگوں کے سامنے شریعت کوصاف اور نکھرے انداز میں پیش کر دیا ہے،لیکن ہمارے اس دور کا اَلمیہ یہ ہے کہ جب ایک عامی شخص کے سامنے کسی زبان زَد عام من گھڑت حدیث کا اظہار کیا جاتا ہے تو اسے یہ وہم ہونے لگتا ہے اس معنی اور مضمون کی بہت سی حدیثیں ثابت ہیں؛ لہذا اسے بیان کرنے میں بھی حرج نہیں ہونا چاہیے،گویا کہ وہ یہ سمجھتا ہے کہ ہر نیکی کو آپ ﷺ کی جانب منسوب کیا جا سکتا ہے،اسی طرح ہر برائی کی نفی کا انتساب آپ ﷺ کی طرف کر سکتے ہیں،اور بلاشبہ آپ ﷺ خیر کو پھیلانے اور شر کو ختم کرنے والے ہیں،لیکن بہرحال آپ ﷺ کی طرف صرف ایسا قول ہی منسوب ہوسکتا ہے،جو معتبر سند سے ثابت ہو،بلکہ آپ ﷺ کی جانب جھوٹی خبر منسوب کرنے پر سخت وعید ہے، چنانچہ ’’الجامع الصحیح للبخاري‘‘ میں ہے: ’’مَنْ کَذَبَ علَيّ مُتَعَمّداً فلْیَتَبَوّأ مَقْعَدَه مِن النّار‘‘[1]. ’’آپ ﷺ کا ارشاد ہے: جو شخص مجھ پر جھوٹ بولے،وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنالے‘‘۔

خاتم المحدثین امام عبد العزیز فرہاروی lنے ’’کوثر النَّبِیّ وزُلَالُ حَوْضِه الرَّوِيّ‘‘[2] میں عوام کے انہیں سطحی وساوس کو ان لفظوں میں بیان کیا ہے:

’’کثیراً ما یَضَعُ الکَذّابون تَرْغِیْباً في طاعةٍ،ونَهْیاً عن مَعصِیَةٍ، فیَطْعَنُ المُحَدِّثُ في حدیثِهم، فیَظُنُّ العَامَّة أنّ هذا إنکارٌ للطَّاعة والمَعْصِیَة، فإذا قُلنا: صلاة الأسابیع موضوعةٌ، وحدیث:’’مَنْ شَرِبَ البَنْجَ فعلیه کذا‘‘. موضوعٌ، قال السامِعُ: أفتی فلانٌ بأنّه لا ثَوابَ للصلاة النَّافلة وأنّ البَنْجَ مباحٌ‘‘.

جھوٹے راوی اکثر نیکی میں رغبت دلانے اور برائی سے روکنے کےلیے حدیثیں گھڑ لیتے ہیں،پھر جب محدث اُن کی حدیثوں میں حرف گیری کرتا ہے تو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ یہ تو نیکی اور بدی کا انکار ہے، چنانچہ جب ہم نے لوگوں سے کہا کہ ’’صلاۃ الأسابیع‘‘ (یعنی خاص نوافل،جن کا شرعاً کوئی ثبوت نہیں ہے) من گھڑت ہے اور حدیث:’’جو بھنگ پئے گا اس کو اتنا اتنا گناہ ہوگا‘‘، یہ بھی موضوع ہے،اس پر ایک سننے والا کہنے لگا کہ فلاں نے فتوی دیا ہے کہ نفل نمازوں پر کوئی ثواب نہیں ملتا اور بھنگ پینا بلا شبہ جائز ہے۔

بہر حال عوامی حلقوں میں اس اہم فریضے کو خوب رائج کرنے کی ضرورت ہے کہ آپﷺ کی جانب کسی بات کو منسوب کر نے میں خوب احتیاط سے کام لینا چاہیے، اور من گھڑت،باطل حدیثوں سے سختی سے اجتناب کرنا چاہیے۔

اسی مقصود کے پیشِ نظر، ذیل میں ایک ایسی ہی روایت بیان کی جائے گی جو باطل ہونے کے باوجود زبان زَد عام ہے۔

روایت پر ائمہ حدیث کا کلام:

حوالہ جات

[1] الجامع الصحيح للبخاري:باب إثم من كذب على النبي صلى الله عليه وسلم:1/33،رقم الحديث:107، ت:محمد زهير بن ناصر،دار طوق النجاة ـ بيروت،الطبعة الأولى1422هـ .

[2] كوثر النبي وزلال حوضة الروي:ص:105،المخطوط،نسخه العلامة عبد الله الولهاري(1283هـ) .

[3] لسان المیزان:8/288،رقم:8163،ت:الشيخ عبد الفتاح أبو غدة،دار البشائر الإسلامية ـ بيروت،الطبعة الأولى1423هـ .

[4] لسان المیزان:8/288،رقم:8163،ت:الشيخ عبد الفتاح أبو غدة،دار البشائر الإسلامية ـ بيروت،الطبعة الأولى1423هـ .

[5] تنزيه الشريعة:كتاب الذكر والدعاء،الفصل الثالث،2/325،رقم:20،ت:عبد الوهاب عبد اللطيف وعبد الله محمد الصديق،دار الکتب العلمية ـ بیروت،الطبعة الثانية۱۴۰۱هـ .

[6] النشر في القراءات العشر:مد التعظيم،1/345، ت: علي محمد الضباع،المطبعة التجارية الكبرى،دار الكتب العلمية ـ بیروت .

[7] تذكرة الموضوعات:1/55،كتب خانه مجيدية ملتان ـ باكستان .

[8] القول البديع:خاتمة،496،ت:محمد عوامة،دار اليسر ـ المدينة المنورة،الطبعة الثانية1428هـ .

[9] لسان المیزان:8/544،رقم:8660،ت:الشيخ عبد الفتاح أبو غدة،دار البشائر الإسلامية ـ بيروت،الطبعة الأولى1423هـ .

[10] الضعفاء الكبير:يغنم بن سالم بن قيس،4/466،رقم الترجمة:2101،ت:د ـ عبد المعطی،دار الکتب العلمية ـ بيروت .

[11] ميزان الاعتدال:غلام،غنيم،3/337،تحقيق:علي محمد البجاوي،ناشر:دار المعرفة ـ بيروت .

ملتی جلتی احادیث