روایت:’’ من بشرني بخروج صفر، بشرته بدخول الجنة‘‘. جو مجھے ماہ صفر کے ختم ہونے کی خوشخبری دے گا میں اسے جنت میں داخل ہونے کی خوشخبری دوں گا۔
باب: توہمات و نحوست
دنوں، مہینوں اور کاموں میں نحوست و بدشگونی سے متعلق بے اصل باتیں۔
گروپ: عقائد
13 روایات
روایت: ’’من امتشط قائما ركبه الدين‘‘.
ترجمہ: کھڑے ہو کر کنگی کرنے والا شخص مقروض ہوجاتا ہے۔
روایت: ’’جس کام کی ابتداء بروز بدھ کی جائے وہ تکمیل تک پہنچتا ہے‘‘۔
روایت: ’’ کالا جوتا پہننا نسیان کا باعث ہے‘‘، اس بارے میں کوئی حدیث وغیرہ نظر میں نہیں ہے۔
’’کھڑے ہو کر کنگھی کرنے والا شخص مقروض ہوجاتا ہے۔۔۔‘‘، ان روایات کی صحت نہیں۔
سفر بروز ہفتہ نحس اور شُوم [منحوس] ہونا بالکل غلط ہے، اس کی اصل کسی حدیث سے ثابت نہیں۔
’’دیوار پر تحریر کرنا مقروض ہونے کا باعث ہے، اور شام کے وقت جھاڑو دینا منع ہے، اور جمعرات کو رات کے وقت دستر خوان جھاڑنا منع ہے‘‘، ان اُمور کی کچھ اصل نہیں ہے۔
ایام میں سعادت ونحوست کا مسئلہ، شیعہ نے حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کی طرف منسوب کیا ہے، مگر یہ روایت من گھڑت ہے۔
حکایت : ”عصر اور مغرب کے درمیان کھانے والے شخص کو مرتے وقت عصر کا وقت نظر آتا ہے، اس کے سامنے شیطان پیشاب کا پیالہ لاتا ہے، تو یہ شخص اس وقت کھانے کا عادی ہونے کی وجہ سے اسے پی جائے گا“، یہ بالکل غلط اور جھوٹ بات ہے۔
حکایت: ”چاند اور سورج کے گہن کے وقت کھانا پینا منع ہے“، اس کی کوئی اصل نہیں۔