حکایت : ”عصر اور مغرب کے درمیان کھانے والے شخص کو مرتے وقت عصر کا وقت نظر آتا ہے، اس کے سامنے شیطان پیشاب کا پیالہ لاتا ہے، تو یہ شخص اس وقت کھانے کا عادی ہونے کی وجہ سے اسے پی جائے گا“، یہ بالکل غلط اور جھوٹ بات ہے۔
تفصیل
”۔۔۔ ایسے
ہی یہ بھی مشہور ہے کہ عصر اور مغرب کے درمیان کھانا نہ کھاؤ ۔ اصل تو اس کی یہ
تھی کہ وہ وقت فضیلت کا ہے، اور اکثر بزرگوں کی عادت رہی ہے کہ عصر کے بعد سے مغرب
تک ذکر اللہ میں مشغول رہے ہیں، جب ان کو عام لوگوں نے مشغول دیکھا تو اس سے یہ
سمجھا کہ اس وقت کھانا کھانا ممنوع ہے، اور وجہ اس کی یہ تراشی ہے کہ مرتے وقت عصر
کا وقت نظر آتا ہے، اور شیطان مرنے کے وقت پیشاب کا پیالہ لاتا ہے اور اس شخص کو پیاس
بہت ہوتی ہے، تو اگر اس وقت کھانے پینے کی عادت ہو گی تو یہ شخص
پی جائے گا، نعوذ باللہ ! بالکل غلط اور جھوٹ بات ہے ۔۔۔“[1]۔
حوالہ جات
[1] خطبات حکیم الامت : ہمارے توہمات ،۱۰/۴۲۵ ، ادارہ تالیفات اشرفیہ، ملتان ۔
ملتی جلتی احادیث
حکایت: ”چاند اور سورج کے گہن کے وقت کھانا پینا منع ہے“، اس کی کوئی اصل نہیں۔
حضرت شبلی l کی جانب اس حکایت کی نسبت غلط ہے۔
”میت پر دفن کے وقت تین بار اس آیت کو پڑھ کر مٹی ڈالنے سے اس کا ہمزاد شیطان بھی اس کے ساتھ دفن ہو جائے گا “، یہ کوئی حدیث نہیں ہے۔
آج کل مزاج پلٹ گئے ہیں کہ من گھڑت روایات ہی کو پسند کر تے ہیں، قصے بھی پڑھتے ہیں تو وہ، جو بالکل فرضی اور جھوٹ ہیں، اور سچے قصے پسند ہی نہیں آتے، یہ عجیب غلطی ہے۔
من گھڑت باتیں شریعت کے کسی فائدہ کے لئے بھی بیان کرنا بالکل غلط ہے۔