التحقحق المنیف - "التحقيق المنيف في دراسة الشرط المتفق عليه للحديث الضعيف نظرة على كتبه فضيلة الشيخ محمد عوامة حفظه الله حول حكم العمل بالحديث الضعيف" منظر عام پر آچکی ہے، ورق گردانی/ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے اسی ویب سائٹ پر "کتابیں ڈاؤنلوڈ کریں" پر کلک کریں۔ - برائے مہربانی کسی بھی قسم کی معلومات یا استفسار کے لیے مندرجہ ذیل نمبر پر رابطہ کریں: 3210056-0342
طائرانہ نظر
کتاب کا نام: حضرت مولانا محمد یونس جونپوری صاحب رحمۃ اللہ علیہ کا من گھڑت روایات پر تعاقب

روایت: ’’ کالا جوتا پہننا نسیان کا باعث ہے‘‘، اس بارے میں کوئی حدیث وغیرہ نظر میں نہیں ہے۔

تفصیل

’’سوال: حضرت میں نےآپ سے یہ سنا کہ کالا جوتا پہننا مکروہ ہے، یہ کہا ں ہے اور وجہ کیا ہے؟

جواب: مجھے یہ یاد نہیں ہے کہ میں نے یہ کبھی کہا ہو کہ کالا جوتا پہننا مکروہ ہے، البتہ میں یہ کہا کرتا ہوں کہ علامہ سخاوی l نے بعض سے نقل کیا ہے کہ کالا جوتا مورثِ نسیان ہے۔

علامہ مذکور اپنی کتاب ’’المقاصد الحسنۃ‘‘ (ص: ۴۰۸) میں تحریر فرماتے ہیں: ×وتزعم العامة أن لبس النعال السود يورث النسيان÷. [عام لوگوں کا خیال ہے کہ کالا جوتا پہننا مورثِ نسیان ہے] اس بارے میں کوئی حدیث وغیرہ نظر میں نہیں ہے، نہ علامہ مذکور نے تحریر فرمائی ہے، یہ سب چیزیں تجرباتی ہیں ۔

اگر اس کے علاوہ آپ کو کوئی تحقیق ہو تو تحریر فرمائیں ممنون ہوں گا‘‘[1]۔

حوالہ جات

[1] الیواقیت الغالیۃ:کالا جوتا پہننا کیسا ہے؟۲/۶۱۔

حافظ سخاوی l ’’المقاصد الحسنۃ‘‘ (ص:۵۰۷،رقم:۱۲۴۰)میں مذکورہ روایت بحوالہ ابو عثمان عمرو بن بحر الجاحظ (المتوفی: ۲۵۵) نقل فرماکر،اسی طرح مورثِ نسیان چند اور چیزیں ذکر کرکے تحریر فرماتے ہیں : ’’ولا يصح في المرفوع شيء‘‘. یعنی ایسی کوئی چیز آپ ﷺ سے صحیح نہیں ہے،علامہ عجلونی l نے ’’ کشف الخفاء‘‘ (۲/۳۷۵،رقم:۲۷۹۸)میں حافظ سخاوی l کے قول کو نقل کرنے پر اکتفاء کیا ہے ۔

حافظ ابوبکر ابن المقرئ l نے اپنی ’’معجم‘‘ (ص:۴۰۳،رقم:۱۳۳۱)میں اس جیسی  روایت ابو نصر یحیی بن ابی کثیریمامی (المتوفی:۱۳۲ھ او قبلہ )کے قول کے طور پر نقل کی ہے،ملاحظہ ہو: ’’حدثنا هيثم، ثنا أحمد الدَوْرَقِي، حدثنا شبابة، حدثنا أيوب بن عتبة، سمعت يحيى بن أبي كثير، يقول: كان يقال: إياكم وهذه النعال السود، فإنها تورث الهم‘‘.