’’کھڑے ہو کر کنگھی کرنے والا شخص مقروض ہوجاتا ہے۔۔۔‘‘، ان روایات کی صحت نہیں۔
تفصیل
’’سوال: اسی کتاب میں لکھا ہے کہ کھڑے ہو کر کنگھا کرنے سے مقروض ہوتا ہے، صحیح ہے یا غلط؟ اور یہ بھی لکھا ہے کہ موئے [بال]خشک میں شانہ[کنگھی] کرنا وٹوٹا ہوا شانہ کرنا، اور مستعار شانہ کرنا اور وقت طلوع وغروب آفتاب شانہ کرنا موجبِ اِفلاس ہے، صحیح ہے یا نہیں ؟
جواب: ان روایات کی صحت نہیں،فقط!‘‘[1]۔
حوالہ جات
[1] باقیات فتاوی رشیدیہ : کنگھا کرنے سے متعلق چند بے اصل روایتوں کی حقیقت؟ ص: ۵۳۳، دار الکتاب لاہور ۔
یہ روایت (کھڑے ہوکر کنگھا کرنے والا شخص مقروض ہو جاتا ہے)شدید ضعیف ہے،اسے حافظ ابن جوزیl نے ’’ کتاب الموضوعات(۳/۵۴)‘‘ میں،حافظ ذہبی l نے ’’میزان الاعتدال‘‘ (۳/۲۳۸) میں،حافظ ابن عدی l نے ’’الکامل‘‘ (۱/۲۹۱) میں،حافظ مقدسی l نے ’’ذخیرة الحفاظ‘‘ (۴/۲۲۲۷) میں،امام شوکانی l نے ’’فوائد مجموعہ‘‘ (۱/۲۴۹)میں مختلف سندوں سے من گھڑت تک کہا ہے،تفصیل کے لئے دیکھئے،کتاب غیر معتبر روایات کا فنی جائزہ،حصہ دوم،ص:۲۰۹۔
ملتی جلتی احادیث
’’میت کی بخشش کے لئے ایک لاکھ یا ستر ہزار مرتبہ کلمۂ طیبہ پڑھنے سے میت کی بخشش‘‘، یہ حدیث کتبِ صحاح ستہ، ’’مشکوٰۃ شریف‘‘ و’’دارمی شریف‘‘ و’’ مؤطا امام محمد‘‘ میں کہ ہندوستان میں کتبِ مشہور ہیں، کہیں موجود نہیں، اور حالِ صحت وغیرِ صحت بدون سند کے معتبر نہیں۔
’’دیوار پر تحریر کرنا مقروض ہونے کا باعث ہے، اور شام کے وقت جھاڑو دینا منع ہے، اور جمعرات کو رات کے وقت دستر خوان جھاڑنا منع ہے‘‘، ان اُمور کی کچھ اصل نہیں ہے۔
’’سوا لاکھ دفعہ کلمہ شریف پڑھ کر اگر میت کو بخشا جاوے تو مغفرت کی امید ہے‘‘، یہ روایت کسی حدیث کی کتاب میں نظر سے نہیں گزری۔
’’اذان کے وقت انگوٹھے چومنے کے باب میں کوئی حدیث مرفوع صحیح نہیں ہوئی‘‘۔
بعض مشہورمن گھڑت روایات،نیز غیر مستند کتابیں