سفر بروز ہفتہ نحس اور شُوم [منحوس] ہونا بالکل غلط ہے، اس کی اصل کسی حدیث سے ثابت نہیں۔
تفصیل
’’مسئلہ: بروز شنبہ[ہفتہ] سفر کرنا اور مکان کی بنیاد ڈالنی درست ہے، شرع میں کوئی نحس وشُوم[منحوس] نہیں، سب دن اچھے ہیں، ہاں ! بعض روز میں حق تعالیٰ نے برکت رکھی ہے،مثل دوشنبہ[پیر]، پنجشنبہ[جمعرات] و جمعہ، مگر شوم کسی دن میں نہیں، یہ قول نجومیوں کا ہے، شرع نے اس کو رد کردیا ہے اور شرک کہا ہے، چنانچہ حدیث شریف میں ہے : {الطِيَرَة شرك}. [بدشگونی شرک ہے]
سو کسی
زمان یا مکان یا شے میں شوم [منحوس]ماننا بہت برا ہے، حق تعالیٰ
خالق ومؤثر ہے، جس شے کو چاہے کسی کے حق میں متبرک کردے، اور جس کو چاہے شُوم[منحوس]
بنادے، الغرض سفر بروز پنجشنبہ[جمعرات] موجبِ برکت ہے اور سفر بروز
شنبہ[ہفتہ] نحس
اور شُوم[منحوس] ہونا
بالکل غلط ہے، اس کی اصل کسی حدیث سے ثابت نہیں، وعلی ہذا القیاس، بناءِ مکان جب
چاہے شروع کردے، شنبہ [ہفتہ]اور غیر شنبہ کوئی نحس نہیں، یہ
کلام خارج دائرہ شریعت سے ہے۔فقط، واللہ تعالیٰ اعلم!‘‘[1]۔
حوالہ جات
[1] باقیات فتاوی رشیدیہ : ہفتہ کے دن سفر کرنا اور مکان کی بنیاد ڈالنا کیسا ہے ؟ ص: ۳۸۶، دار الکتاب لاہور۔
علامہ آلوسی l نے اپنی ’’تفسیر‘‘ (۲۷/۸۷)میں ’’ايام نحسات‘‘ کے تحت حضرت علی r کے انتساب سے ایام میں سعْد ونحْس پر مشتمل اشعار نقل کرکے ’’لا یصح ‘‘ کہا ہے،اشعار یہ ہیں:
فنعم اليوم ( يوم السبت ) حقا لصيد إن أردت بلا امتراء
وفي ( الأحد ) البناء لأن فيه تبدى الله في خلق السماء
وفي ( الاثنين ) إن سافرت فيه سترجع بالنجاح وبالثراء
ومن يرد الحجامة ( فالثلاثا ) ففي ساعاته هرق الدماء
وإن شرب امرأ يوماً دواءا فنعم اليوم يوم ( الأربعاء)
وفي يوم الخميس ) قضاء حاج فإن الله يأذن بالقضاء
وفي ( الجمعات ) تزويج وعرس ولذات الرجال مع النساء
وهذا العلم لا يدريه إلا نبي أو وصى الأنبياء
علامہ سیوطی l نے ’’الشماريخ فی علم التاريخ‘‘ (ص:۲۸)میں ان اشعار کے بعد فرمایا ہے کہ حضرت علی r کی جانب ان اشعار کو منسوب کرنا قابلِ نظر ہے۔
ملتی جلتی احادیث
’’جمعہ کی شب اور جمعہ کے روزاور رمضان میں مسلمان کو عذاب قبر نہیں ہوتا، اور پیر کی روایت کوئی معلوم نہیں‘‘۔
’’حضرت غوث اعظم قدس سرہ کاایک روح کی واپسی کے لئے ملک الموت سے زبردستی تمام روحوں کی زنبیل چھیننا،
لوحِ محفوظ میں ایک عورت کی اولاد کے نہ ہونے کے فیصلہ کے باوجود حضرت عبدالقادر جیلانی l کااسے سات بچے دلوانا،
نیزحضرت عبد القادر جیلانی l کا منکر نکیر سے سوالات کرنا‘‘، ان تینوں حکایات کی کوئی اصل نہیں، یہ واضح کسی مُلْحِد کی بنائی ہوئی ہیں۔
بزرگوں کی حکایات اکثر جہلاء نے غلط بنادی ہیں
{لايسعني سمائي ولا أرضي ولكن يسعني قلب عبدي المؤمن}. میرے آسمان اور زمین مجھے نہیں سما سکے،البتہ میرے مومن بندہ کا دل مجھے اپنے میں سما لیتا ہے‘‘، ان الفاظ سے اس حدیث کی کچھ اصل نہیں ہے،البتہ اس کے ہم معنی ایک دوسری حدیث ثابت ہے۔
’’دیوار پر تحریر کرنا مقروض ہونے کا باعث ہے، اور شام کے وقت جھاڑو دینا منع ہے، اور جمعرات کو رات کے وقت دستر خوان جھاڑنا منع ہے‘‘، ان اُمور کی کچھ اصل نہیں ہے۔