روایت: نماز میںیوسف e کی جانب توجہ چلے جانے سے حضرت یعقوبe کا پریشانی میں مبتلاء ہونا۔
تفصیل
ملتی جلتی احادیث
روایت: آپ ﷺ کا بچپن میں گم ہونا، پھر حضرت حلیمہ سعدیہ کا پریشان ہونا، اور ایک بوڑھے کا حضرت حلیمہ کو بتوں کے پاس لے جانا، اور آپ ﷺ کا نام سن کر بتوں کا گرجانا۔
روایت: ’’رسول اللہ s نے جبرائیل امین e سے پوچھا: آپ کی سب سے زیادہ طاقت کہاں استعمال ہوئی؟ جبرائیل امین e نے فرمایا: تین موقعوں پر: 1جنت سے مینڈھا لاتے وقت 2جب یوسف e کو کنویں میں ڈالا گیا 3اور جب آپ ﷺ کے دندان مبارک شہید ہوئے‘‘۔
روایت: ’’روز قیامت مساجد کا سفید بختی اونٹوں کی شکل میں آنا، جسے موذنین آگے سے اور ائمہ پیچھے سے چلارہے ہوں گے، جس پر یہ لوگ قیامت کے تمام مراحل سے گزر جائیں گے، اور کہا جائے گا یہ امت محمدیہ s کے وہ افراد ہیں جو باجماعت نماز کی حفاظت کرتے تھے‘‘۔
روایت: ’’ الصلاة تسود وجه الشيطان‘‘. نماز شیطان کا منہ کالا کرتی ہے۔
روایت: ’’ایک دفعہ حضرت عبد الرحمن بن عوفr نے سارے مدینے والوں کی دعوت کی، اسی دوران اچانک رسول اللہﷺ کی نظر ایک صحابیr پر پڑی جو کسی گہری سوچ میں تھے، آپﷺ نے پوچھا: عبد الرحمن بن عوفr نے مدینے والوں کی دعوت کی ہے اور تم یہاں بیٹھے کیا غور وفکر کر رہے ہو؟ تو وہ صحابیr کہنے لگے: یا رسول اللہ! میں یہاں اسی فکر میں بیٹھا ہوں کہ کیسے آپﷺ کا ایک ایک امتی جہنم سے بچ کر جنت میں جانے والا بن جائے؟ اس پر آپﷺ نے ارشاد فرمایا: اگر عبد الرحمن ہزار سال بھی مدینے والوں کی دعوت کرتا رہے تو تمہارے ثواب کو نہیں پاسکتا‘‘۔