روایت: ’’اللہ عز وجل نے یوشع بن نون eکی طرف وحی بھیجی: میں آپ کی قوم میں سے چالیس ہزار پسندیدہ اور ساٹھ ہزار شریر لوگوں کو ہلاک کرنے والا ہوں، یوشع بن نون e نے عرض کیا: اے رب! شریر لوگ تو سمجھ میں آتے ہیں، پسندیدہ لوگوں کی کیا وجہ ہے؟ اللہ عز وجل نے فرمایا: وہ میرے غضب کی وجہ سے غضبناک نہیں ہوتے، اور وہ لوگوں کے ساتھ مل کر کھانا، پینا کرتے ہیں‘‘۔
حکم: تلاش بسیار کے باوجود یہ روایت آپ ﷺ کے ارشاد کے طور پر نہیں مل سکی، اس لئے اسے رسول اللہ ﷺ کے انتساب سے بیان کرنا درست نہیں ہے، البتہ ائمہ کی ایک جماعت نے اسے ’’ان اللہ تعالی اوحی الی یوشع بن نون‘‘ کہہ کر ذکر کیا ہے، اس لئے بظاہر اسے ’’اسرائیلی روایت‘‘کہہ کر بیان کرنا چاہئے، واللہ اعلم۔
تفصیل
حوالہ جات
[1] انظر موسوعة ابن أبي الدنيا:1/485،رقم:1640،ت:فاضل بن خلف الحمادة الرقي،دار إطلس الخضراء ـ الرياض،الطبعة الأولى1433هـ .
[2] المنتظم في تاريخ الأمم والملوك:1/378،ت:محمد عبد القادر عطا ومصطفى عبد القادر عطا،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴۱۲هـ .
[3] الأمر بالمعروف والنهي عن المنكر:1/۳۷،رقم:۴۳،مخطوط من الشاملة .
[4] انظر مجموع فيه مصنفات أبي العباس الأصم وإسماعيل الصفار:ص:244،رقم:512،ت:نبيل سعد الدين جرار،دار البشائر الإسلامية ـ بيروت،الطبعة1425هـ .
[5] شعب الإيمان:1۲/۴۰،رقم:89۸۲ ،ت:عبد العلي عبد الحميد حامد،مكتبة الرشد ـ الرياض،الطبعة الأولى۱۴23هـ .
[6] التمهيد لما في الموطا من المعاني والأسانيد في حديث رسول الله صلى الله عليه وسلم:۱۶/۲۴۷،ت:بشار عواد معروف،سليم محمد عامر ومحمد بشار عواد،مؤسسة الفرقان للتراث الإسلامي،الطبعة الأولى 1439هـ .
[7] ’’التمہید‘‘، ’’جزء ابی العباس اصم‘‘ اور ’’شعب الایمان‘‘ میں سیار بن حاتم نے ابراہیم بن عمرو صنعانی کے بعد وَضِین بن عطاء کو ذکر کیا ہے۔
[8] تنبیه الغافلين بأحاديث سيد الأنبياء والمرسلين:ص:۹۴،رقم:۸۹ ،ت:يوسف علي بديوي،دار ابن كثير ـ بيروت،الطبعة الثالثة1421هـ .
[9] إحياء علوم الدين:2/۱۵۱،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة1402هـ .
[10] الغنية لطالبي طريق الحق عزوجل:1/1۱۴،ت:صلاح بن محمد بن عويضة،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى1417هـ .
[11] نصاب الاحتساب:ص:۲۰۶،ت:مريزن سعيد مريزن عسيري،مکتبة الطالب الجامعي ـ مكة المكرمة،الطبعة الأولى1406هـ .
[12] الكشف والبيان المعروف بالتفسير الثعلبي:۴/۸۷ ،ت:أبو محمد بن عاشور،دار إحياء التراث العربي ـ بیرت، الطبعة الأولى۱۴۲۲هـ .
[13] مفاتيح الغيب:22/105،دار الفکرـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴۰۱هـ..
ملتی جلتی احادیث
روایت: ’’رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا: ایک بستی والوں کو عذاب دیا گیا جس میں دس ہزار لوگ تھے، جن کا عمل انبیاءE کا عمل تھا، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! یہ کیسے ہوا؟ آپﷺ نے فرمایا: وہ اللہ تعالی کی وجہ سے غضبناک نہیں ہوتے تھے، اور نیکی کا حکم نہیں کرتےتھے اور نہ ہی برائی سے روکتے تھے‘‘۔
روایت: ’’رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے: ’’من جاع أو احتاج، فكتمه الناس وأفضى به إلى الله عز وجل، كان حقا على الله عز وجل أن يفتح له رزقا حسنا من حلال‘‘. جو شخص بھوکا ہو یا محتاج ہو اور اپنی حاجت کو لوگوں سے چھپائے، اور اسے اللہ عز وجل کے سامنے پیش کرے، تو اللہ تعالی کے ذمہ ہے کہ اس کو ایک سال کی روزی حلال طریقہ سے عطا فرمائیں گے‘‘۔
روایت: ایک حدیث میں ہے: ’’جس شخص نے ایک حج کیا اس نے اپنا فرض ادا کیا، اور جس نے دوسرا حج کیا اس نے اللہ تعالی کو قرض دیا، اور جو تین حج کرتا ہے تو اللہ جل شانہ اس کی کھال کو اس کے بال کو آگ پر حرام کردیتے ہیں‘‘۔
روایت: صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے ایک جنگ کے دوران قلعہ فتح نہیں ہورہا تھا، آپس میں مشورہ کرنے سے معلوم ہوا کہ ہم سے مسواک کی سنت چھوٹ رہی ہے، تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے مسواک کرنا شروع کردیا، جب دشمنوں نے یہ دیکھا کہ یہ لوگ تو اپنے دانت تیز کررہے ہیں، وہ تو ہمیں کچا ہی کھا جائیں گے، تو وہ ڈر کر بھاگ گئے اور مسواک کی سنت کی وجہ سے قلعہ فتح ہوگیا۔
روایت: ایک حدیث میں آیا ہے: ’’ پہلی امتوں میں ایک بزرگ ریت کے ایک ٹیلہ سے گزرے، گرانی کا زمانہ تھا، وہ اپنے دل میں یہ تمنا کرنے لگے کہ اگر یہ ریت کا ٹیلہ غلہ کا ڈھیر ہوتا تو میں اس سے بنی اسرائیل کو خوب کھلاتا ، حق تعالی شانہ نے اُس زمانہ کے نبی پر وحی بھیجی کہ فلاں بزرگ کو خوشخبری سنادو کہ ہم نے تمہارے لئے اتنا ہی اجر وثواب لکھ دیا جتنا کہ یہ ٹیلہ غلہ کاہوتا ، اور تم اس کو لوگوں میں تقسیم کردیتے‘‘۔