اس روایت کی تحقیق سے
’’أحبوا العرب لثلاث: لأني عربي، والقرآن عربي، وكلام أهل الجنة عربي‘‘. ’’آپ ﷺ کا ارشاد ہے کہ عربوں سے تین باتوں کی وجہ سےمحبت کیا کرو، کیونکہ میں عربی ہوں، قرآن عربی میں ہے اور جنت والوں کی زبان عربی ہوگی‘‘۔
غیر معتبر روایات کا فنی جائزہ (حصہ سوم)یحیی بن بُرَیْد بن عبد اللہ بن ابی بردہ بن ابی موسی اشعری[31] کے بارے میں ائمہ کے اقوال
امام یحییٰ بن معین l نے اس یحیی بن بُرید کو ’’ضعیف‘‘ کہا ہے[32]۔
امام ابو حاتم l لکھتے ہیں کہ وہ ’’ضعیف الحدیث‘‘ہے، البتہ ’’متروک‘‘ نہیں ہے، ان کی احادیث لکھی جائیں گی[33]۔
امام ابوزرعہ l نے یحیی کو ’’منکر الحدیث‘‘ کہا ہے[34]۔
حافظ ابن حبان l یحیی کو ثقات میں نقل کرکے لکھتے ہیں: ’’يُغرِب ويُخطِئ‘‘. وہ غرائب لاتا ہے، اور غلطی کرتا ہے[35]۔
حافظ ذہبی l ’’میزان الاعتدال‘‘[36] میں لکھتے ہیں: ’’قال أحمد ويحيى: ضعيف، وقال أبوزرعة: واهي الحديث، وقال الدارقطني: ليس بالقوي‘‘.احمد l اور یحییl نے اسے ضعیف، ابوزرعہ l نے ’’واہی الحدیث‘‘ (شدید جرح) کہا ہے، اور دارقطنی l نے ’’لیس بالقوی‘‘ (جرح) کہا ہے۔
حافظ ابن حجر l ’’لسان المیزان‘‘[37] میں لکھتے ہیں: ’’وذكره الساجي والعقيلي وابن الجارود في الضعفاء‘‘. موصوف کو ساجیl ، عقیلی l اور ابن جارود l نے ’’ضعفاء‘‘ میں شمار کیا ہے۔
حافظ ذہبی l کا قول’’تلخيص الموضوعات‘‘ کے حوالہ سے گزر چکا ہے، یعنی ’’يحيى تالف‘‘[38].
حوالہ جات
[31] واضح رہے کہ بعض سندوں میں ’’یحییٰ بن بُرَید‘‘ کی جگہ ’’یحیی بن یزید‘‘ لکھا ہے، حافظ ذہبی l نے اسے تصحیف قراردیا ہے،جیسا کہ ’’میزان الاعتدال‘‘ میں ہے: ’’يحيى بن يزيد الأشعري، عن ابن جريج، كذا قال بعضهم، فصحف، وإنما هو ابن بُرَيد، مرّ‘‘.( ۴/ ۴۱۵،رقم:۹۶۵۴،دارالمعرفة ـ بيروت). چنانچہ صحیح لفظ ’’ بُرَید‘‘ ہے، جیسا کہ حافظ عقیلی l کی سند میں ہے، اسی طرح بعض ائمہ یعنی حافظ ابن حبان l نے اسے ’’یحیی بن بُردۃ ‘‘ بھی لکھا ہے:دیکھئے: كتاب الثقات:۹/۲۵۴،مؤسسة الكتب الثقافيةـ بيروت،الطبعةالأولى۱۴۰۲هـ .
[32] الجرح والتعديل:۹/۱۶۲،رقم:۱۶۲۱۰،ت:مصطفى عبدالقادر عطا،دارالكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴۲۲هـ .
[33] الجرح والتعديل:۹/۱۶۲،رقم:۱۶۲۱۰،ت:مصطفى عبدالقادر عطا،دارالكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴۲۲هـ .
[34] الجرح والتعديل:۹/۱۶۲،رقم:۱۶۲۱۰،ت:مصطفى عبدالقادر عطا،دارالكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴۲۲هـ .
[35] كتاب الثقات:۹/۲۵۴،مؤسسة الكتب الثقافيةـ بيروت،الطبعةالأولى۱۴۰۲هـ .
[36] ميزان الاعتدال:۴/۳۶۵،رقم،۹۴۶۴،ت:علی محمد البجاوی،دارالمعرفة ـ بیرت .
[37] لسان الميزان:۸/۴۲۰،رقم:۸۴۱۷ ،ت:شيخ عبد الفتّاح أبوغُدّة،دارالبشائرالإسلامية ـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴۲۳هـ .
[38] تلخيص الموضوعات:۱۵۷،رقم:۳۴۲،ت:أبو تميم ياسربن إبراهيم بن محمد،مكتبة الرشد ـ الرياض، الطبعة الأولى۱۴۱۹هـ .