’’أحبوا العرب لثلاث: لأني عربي، والقرآن عربي، وكلام أهل الجنة عربي‘‘. ’’آپ ﷺ کا ارشاد ہے کہ عربوں سے تین باتوں کی وجہ سےمحبت کیا کرو، کیونکہ میں عربی ہوں، قرآن عربی میں ہے اور جنت والوں کی زبان عربی ہوگی‘‘۔
حکم: شدید ضعیف،متقدمین و متاخرین محدثین کی ایک جماعت نے اسے صافمن گھڑت کہا ہے،بہر صورت آپ ﷺ کے انتساب سے بیان نہیں کر سکتے۔
تفصیل
یہ روایت حضرت ابن عباس r اور حضرت ابوہریرہ r سے مختلف سندوں کے ساتھ مروی ہے:
1 حضرت ابن عباس r کی روایت، یہ دوسندوں سے مروی ہے: سندِ علاء بن عمرو اور سندِ محمد بن فضل
2 حضرت ابوہریرہ r کی روایت، یہ ایک سند سے مروی ہے۔
یہاں ہر ایک کو تفصیل سے لکھا جائے گا۔
روایت پر ائمہ حدیث کا کلام
روایت پر کلام (یعنی بسند محمد بن فضل)
روایت ابی ہریرہ r پر ائمہ کا کلام
نوٹ:واضح رہے کہ ہر شدید ضعیف راوی کی تمام تر احادیث کا حکم یکساں نہیں ہوتا،بلکہ بعض ضعیف راویوں کی روایت بعض خاص قرائن کے ساتھ قابل تحمل ہو جاتی ہے۔
حوالہ جات
[1] ضعفاء الکبیر:۳/۳۴۸،ت:الدکتور عبد المعطی أمین قلعجی،دارالکتب العلمیةـ بیروت .
[2] تاريخ دمشق:۲۰/۱۴۰،دارالفكرـ بيروت،الطبعة۱۴۱۵هـ .
[3] صفة الجنة:۲/۱۱۲،رقم:۲۶۸،ت:علي رضا،دار المأمون للتراث ـ بيروت،الطبعة۱۴۱۵هـ .
[4] شعب الإيمان:۳/۱۶۰،رقم:۱۴۹۶،ت:عبد العلي عبد الحميد حامد،مكتبة الرشد ـ الرياض،الطبعة الثالثة۱۴32هـ .
[5] المعجم الأوسط:۵/۳۶۹،رقم:۵۵۸۳ ،ت:طارق بن عوض الله وعبد المحسن بن إبراهيم،دارالحرمين ـ القاهرة،الطبعة ۱۴۱۵هـ .
[6] المستدرك:۴/۹۷،رقم:۶۹۹۹،ت:مصطفى عبدالقادر عطا،دارالكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية ۱۴۲۲هـ .
[7] معرفة علوم الحديث:۱۶۱،ذكر النوع الثامن والثلاثين،ت:السيد معظم حسين،دارالكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية۱۳۱۹هـ .
[8] المستدرك:۴/۹۷،رقم:۶۹۹۹،ت:مصطفى عبدالقادر عطا،دارالكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية ۱۴۲۲هـ .
[9] ضعفاء الکبیر:۳/۳۴۸،ت:الدکتورعبد المعطی أمین قلعجی،دارالکتب العلمیةـ بیروت .
[10] كتاب العلل:۶/۴۲۶ ،رقم:۲۶۴۱،ت:سعد بن عبدالله وخالد بن عبدالرحمن الجُريسي،مكتبة الملك الفهد ـ الرياض،الطبعة۱۴۲۷هـ .
[11] ميزان الاعتدال:۳/۱۰۳،رقم:۵۷۳۷،ت:علي محمد البجاوى،دارالمعرفةـ بيروت .
[12] لسان الميزان:۵/۴۶۷،رقم:۵۲۸۰،ت:عبدالفتّاح أبوغُدّة،دارالبشائرالإسلامية ـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴۲۳هـ .
[13] المعجم الأوسط:۵/۳۶۵،رقم:۵۵۸۳،ت:طارق بن عوض الله وعبد المحسن بن إبراهيم، دار الحرمين ـ القاهرة،الطبعة۱۴۱۵هـ .
[14] شعب الإيمان: ۳/۱۶۰،رقم:۱۴۹۷،ت:عبد العلي عبد الحميد حامد،مكتبة الرشد ـ الرياض،الطبعة الثالثة1432هـ .
[15] مجمع الزوائد:۱۰/۲۵،رقم:۱۶۶۰۰،ت:الشيخ عبدالله الدرويش،دارالفكرـ بيروت، الطبعةالأولى ۱۴۲۵هـ .
[16] كتاب الموضوعات:۲/۴۱،ت:عبدالرحمن بن محمد عثمان،المكتبة السلفية ـ بالمدينة،الطبعة ۱۳۸۶ هـ .
[17] تلخيص الموضوعات:۱۵۷،رقم:۳۴۲،ت:أبوتميم ياسر، مكتبة الرشد ـ الرياض،الطبعة الأولى ۱۴۱۹هـ .
[18] المقاصدالحسنة:۴۲،رقم:۳۱،ت:عبدالله محمد الصديق،دارالكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية ۱۴۲۷هـ .
[19] كشف الخفاء:۱/۶۴،رقم:۱۳۳،ت:عبد الحميد هنداوي،المكتبة العصريةـ بيروت،الطبعة۱۴۲۷هـ .
[20] اللآلئ المصنوعه:۱/۴۰۴،ت:محمد عبدالمنعم رابح،دارالكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية ۱۴۲۸هـ .
[21] اقتضاء الصراط المستقيم:۱/۳۹۵،ت:ناصرعبد الكريم العقل،مكتبة الرشد ـ الرياض .
[22] فیض القدیر:۱/۱۷۹،دارالمعرفةـ بيروت،الطبعة الثانية۱۳۹۱هـ. .
[23] أسنى المطالب:۳۱،رقم:۶2،دارالكتب العلمية،بيروت .
[24] المجروحين:۲/۱۸۵،ت:محمود إبراهيم زايد،دارالمعرفةـ بيروت،الطبعة۱۴۱۲هـ .
[25] كتاب الثقات:۸/۵۰۴،مؤسسة الكتب الثقافيةـ بيروت،الطبعةالأولى۱۴۰۲هـ .
پیچھے گذر چکا ہے کہ امام ابن حبان l نے جہاں ان کو ’’ کتاب المجروحین‘‘ میں ذکر کیا ہے، وہاں ’’ کتاب الثقات ‘‘ میں بھی ذکر کیا ہے، لیکن ہم یہ بات بتاچکے ہیں کہ ’’ کتاب المجروحین‘‘ میں ان پر تفصیلی جرح موجود ہے، جبکہ ’’ کتاب الثقات‘‘ میں ان کی تعدیل مبہم ہے، اس لئے دونوں میں ناقابل تطبیق تعارض نہ سمجھا جائے، بلکہ ’’المجروحین‘‘ کو راجح سمجھا جائے۔
[26] المحلى بالآثار:كتاب الهبات،۹/۱۴۱،المنيرية ـ مصر.
[27] الجرح والتعديل:۶/۴۷۱،رقم:۱۱۲۳۳،ت:مصطفى عبدالقادر عطا،دارالكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴۲۲هـ .
واضح رہے ’’ کتاب العلل‘‘ میں ہے کہ حافظ ابوحاتم l کے بیٹے حافظ عبدالرحمن نے علاء بن عمروکی مذکورہ سند سے روایت کا حکم دریافت کیا تو آپ نے فرمایا کہ ’’یہ جھوٹ ہے‘‘ (جیسا کہ ماقبل میں گذر چکا ہے)، اور حافظ ذہبی l نے ’’میزان الاعتدال‘‘ میں علاء بن عمرو کا ترجمہ قائم کیا، اس کے بعد یہ حدیث نقل کرکے ابوحاتم l کا قول ذکر کیا ہے، جس سے قرین قیاس یہی ہے کہ ابوحاتم l کے قول میں کذب کی نسبت علاء کی جانب ہے، البتہ یہ احتمال بھی ہے کذب کی نسبت سند میں موجود کسی دوسرے راوی کی طرف، یا بلانسبتِ کذب،متنِ حدیث کے بارے میں جزماً ’’ہذا کذب‘‘ فرمارہے ہوں، بہر حال تصریح کذب کے بعد کم از کم اس روایت کی تائید میں حافظ ابوحاتم l کا قول پیش کرنا بالکل درست نہیں۔
حافظ ابوحاتم l کے قول ’’مارأينا إلا خيرا ‘‘ کا یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ زہد وتقوی اور صلاح کے اعتبار سے ہم نے ان میں خیر ہی دیکھی ہے، نیز بعض روایت بھی ان کی درست پائیں، البتہ مبحوث عنہا بہر حال جھوٹ ہے، واللہ اعلم۔
[28] تاريخ الإسلام: ۶/۱۱۱،رقم:۶۳۶۸،ت:مصطفى عبدالقادر عطا،دارالكتب العلميةـ بيروت،الطبعة الأولى ۲۰۰۵هـ .وقال الحافظ الذهبي في ميزان الإعتدال:’’متروك‘‘. (۳/۱۰۳، رقم:۵۷۳۷، دارالمعرفة ـ بيروت)
[29] لسان الميزان:۵/۴۶۷،رقم:۵۲۸۰،رقم:۵۲۸۰،ت:شيخ عبد الفتاح أبوغدة،دار البشائر الإسلامية ـ بيروت، الطبعة الأولى۱۴۲۳هـ .
[30] حافظ ابن حبان l اور حافظ ابو حاتم l کے ان سرسری عمومی تعدیل والے اقوال کے مقابلے میں انہی حضرات کے دوسرے معارض اقوال آپ کے سامنے آچکے ہیں، اس تعارض کی بناء پر کم از کم اس روایت کی تائید میں حافظ ابوحاتم l اور حافظ ابن حبان l کا قول پیش کرنا بالکل درست نہیں، واللہ اعلم۔
[31] واضح رہے کہ بعض سندوں میں ’’یحییٰ بن بُرَید‘‘ کی جگہ ’’یحیی بن یزید‘‘ لکھا ہے، حافظ ذہبی l نے اسے تصحیف قراردیا ہے،جیسا کہ ’’میزان الاعتدال‘‘ میں ہے: ’’يحيى بن يزيد الأشعري، عن ابن جريج، كذا قال بعضهم، فصحف، وإنما هو ابن بُرَيد، مرّ‘‘.( ۴/ ۴۱۵،رقم:۹۶۵۴،دارالمعرفة ـ بيروت). چنانچہ صحیح لفظ ’’ بُرَید‘‘ ہے، جیسا کہ حافظ عقیلی l کی سند میں ہے، اسی طرح بعض ائمہ یعنی حافظ ابن حبان l نے اسے ’’یحیی بن بُردۃ ‘‘ بھی لکھا ہے:دیکھئے: كتاب الثقات:۹/۲۵۴،مؤسسة الكتب الثقافيةـ بيروت،الطبعةالأولى۱۴۰۲هـ .
[32] الجرح والتعديل:۹/۱۶۲،رقم:۱۶۲۱۰،ت:مصطفى عبدالقادر عطا،دارالكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴۲۲هـ .
[33] الجرح والتعديل:۹/۱۶۲،رقم:۱۶۲۱۰،ت:مصطفى عبدالقادر عطا،دارالكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴۲۲هـ .
[34] الجرح والتعديل:۹/۱۶۲،رقم:۱۶۲۱۰،ت:مصطفى عبدالقادر عطا،دارالكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴۲۲هـ .
[35] كتاب الثقات:۹/۲۵۴،مؤسسة الكتب الثقافيةـ بيروت،الطبعةالأولى۱۴۰۲هـ .
یہاں ایک اہم تسامح کی طرف اشارہ کرنا مناسب ہے کہ زیرِ بحث روایت علامہ ابن جوزی l نے جس سند سے نقل کی ہے اس میں یحیی بن یزید لکھا ہے (جسے حافظ ذہبی l نے تصحیف کہا ہے)پھر حافظ ابن جوزی l نے ابن حبان l کے حوالے سے نقل کیا: ’’ يحيى بن يزيد يروي المقلوبات عن الأثبات فبطل الاحتجاج به ‘‘ .جیسا کہ حافظ ابن جوزی l کا یہ کلام ماقبل میں بھی گذرچکا ہے، درحقیقت یہ کلام حافظ ابن حبان l نے یحیی بن ابوشیبۃ الرہاوی کے متعلق ذکر کیا ہے(دیکھئے:المجروحین: ۳/ ۱۱۵،دار المعرفہ ـ بيروت)، حالانکہ حافظ ذہبی l کی تصریح کے مطابق یہ لفظ یحیی بن بُرَید ہے، جو یحیی بن یزید ابو شیبہ کے علاوہ دوسرے راوی ہیں، واللہ اعلم۔
[36] ميزان الاعتدال:۴/۳۶۵،رقم،۹۴۶۴،ت:علی محمد البجاوی،دارالمعرفة ـ بیرت .
[37] لسان الميزان:۸/۴۲۰،رقم:۸۴۱۷ ،ت:شيخ عبد الفتّاح أبوغُدّة،دارالبشائرالإسلامية ـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴۲۳هـ .
[38] تلخيص الموضوعات:۱۵۷،رقم:۳۴۲،ت:أبو تميم ياسربن إبراهيم بن محمد،مكتبة الرشد ـ الرياض، الطبعة الأولى۱۴۱۹هـ .
[39] یہ ان ائمہ کے اقوال کا خلاصہ رہا جو اسے صاف لفظوں میں جھوٹ ،من گھڑت کہہ چکے ہیں ،ان کے علاوہ ائمہ کے کلام کا حل یہ ہے:
حاکم l کی تصحیح پر دیگر ائمہ کی تردید
دوسری جانب حاکم نیسابوری l اس روایت کو ’’صحیح ‘‘ قرار دے رہے ہیں، ہماری جستجو کے مطابق اس روایت کو ’’صحیح‘‘ کہنے میں کسی اور نے حاکم l کی کی پیروی نہیں کی، اور حافظ ذہبی l نے اس کا تعاقب کرتے ہوئے اسے من گھڑت کہا ہے، دیگر محدثین نے بھی اسے بے اصل اور جھوٹ قرار دیا ہے(تفصیل گذر چکی ہے)۔ نیز ایک جماعت نے اسے ’’ضعیف ‘‘ قرار دیا ہے، یعنی من گھڑت نہیں کہا، جیسے حافظ ہیثمی l ، امام سخاوی l، علامہ جلال الدین سیوطی l ، علامہ عجلونیl کے ’’ضعیف ‘‘ قرار دینے سے بہر حال ’’صحیح ‘‘ سے تعارض ہوگیا، نیز سند میں موجود ’’ علاء بن عمرو‘‘ پر شدید جرح کے اقوال، اور صالح جزَرَہ کے علاوہ کی تعدیل (یعنی تعدیل کا ادنی درجہ) کا عدمِ ثبوت آپ کے سامنے آچکا ہے، ان تمام اقوال کا بے غبار نتیجہ یہی ہے کہ زیرِ بحث روایت کو ’’صحیح ‘‘ قرار دینا، بعید از قیاس ہے اور جمہور کی مخالفت ہے۔
ضعیف کہنے والے ائمہ کی مراد بقرائن ضعفِ شدید ہے
اب بظاہر یہ تعارض باقی ہے کہ یہ ’’ضعیف‘‘ ہے یا ’’من گھڑت‘‘؟ یہاں اس روایت میں ’’عملی طور پر‘‘ ان اقوال (ضعیف یا من گھڑت) میں تعارض نہیں ہے، کیونکہ ضعیف کا اطلاق ’’ضعفِ خفیف‘‘ اور ’’ضعفِ شدید‘‘ دونوں پر ہوتا ہے، اور حافظ ابن حجر l نے لکھا ہے کہ بابِ فضائل میں حدیث ضعیف پر عمل جائز ہے، لیکن اس میں اتفاقی شرط یہ ہے کہ روایت ’’ ضعفِ شدید‘‘ سے خالی ہو، چنانچہ عملی طور پر دونوں اقوال میں تعارض نہ رہا، کیونکہ عملاً ’’شدید ضعیف ‘‘ اور ’’من گھڑت ‘‘ دونوں کے بیان کرنے سے احتراز کیا جائے گا، یہ الگ اور ایک زائد امر ہے کہ ’’من گھڑت‘‘اور ’’شدید ضعیف‘‘ میں اصولی، اصطلاحی، اور نوعیتی فرق ہے، جو دونوں کو جدا جدا مقام اور تعریفات فراہم کرتا ہے، اب یہ سوال باقی ہے کہ یہاں ’’ضعیف ‘‘ جو کہا گیا ہے اس میں وہ کون سے قرائن ہیں، جس سے معلوم ہو کہ یہ ’’ضعفِ شدید‘‘ہے؟
زیرِ بحث روایت کو جن ائمہ حدیث نے ’’ضعیف ‘‘ کہا ہے، ان کے کلام اور دیگر قرائن اسی طرف مشیر ہیں کہ یہاں سے ’’ضعفِ خفیف‘‘ مراد لینا بعید از قیاس ہے، بلکہ یہاں ضعیف سے مراد ضعفِ شدید ہے، اقوال مع قرائن ملاحظہ ہوں:
1 ’’اس روایت میں علاء بن عمرو حنفی ہے، جو باتفاقِ محدثین ضعیف ہے (حافظ ہیثمی l )‘‘ ۔ ان محدثینِ کرام نے جرح شدید بھی کی ہے، اور خاص اس روایت میں روایت کو چار محدثینِ کرام (حافظ ابوحاتم l ، حافظ عقیلی l ، حافظ ابن جوزی l ، حافظ ذہبیl ) نے ’’من گھڑت‘‘ کہتے ہوئے علاء کو متہم قرار دیا۔
2 ’’اصل (المقاصد الحسنۃ) میں (امام سخاوی l نے) کہا ہے کہ طبرانی l ، حاکم l ، بیہقی l اور دیگر محدثین نے ابن عباس r سے اس روایت کو مرفوعاً ایسی سند سے تخریج کیا ہے، جس میں شدید ضعیف ہے (حافظ عجلونی l )‘‘ ۔یہاں ’’ضعفِ شدید‘‘ کی صراحت ہے۔
3 ’’حاصل یہ رہا کہ یہ حدیث ضعیف ہے، نہ تو موضوع ہے، اور نہ صحیح(امام سیوطی l کا یہ قول حافظ ابن عراق l نے نقل کیا ہے: البتہ مجھے ’’لآلئ‘‘ میں صراحۃً نہیں ملا )‘‘ ۔صحت اوروضع کے مابین ’’ضعفِ شدید‘‘ قرین قیاس ہے۔
انہی قرائن میں یہ بھی ہے کہ ’’علاء بن عمرو‘‘ پر شدید جرح کے اقوال، اور صالح جزَرَہ کے علاوہ تعدیل کا عدمِ ثبوت، سند کے شدید ضعیف ہونے کو اور بھی مؤکد کردیتا ہے۔
حاصل کلام یہ رہا کہ آپ اس روایت کو ان ائمہ کرام کی اقتداء کرتے ہوئے ’’شدید ضعیف‘‘ کہیں، یا بے اصل، من گھڑت، جھوٹ کہیں، بہر صورت انتساب بالرسول ﷺ کی شرائط پوری کرنے سے یہ روایت قاصر ہے، اس لئے اس روایت کو آپ ﷺ کے انتساب سے بیان کرنا درست نہیں ہے، واللہ اعلم۔
[40] مستدرك:۴/۹۸،رقم:۷۰۰۰،ت:مصطفى عبدالقادر عطا،دارالكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية ۱۴۲۲هـ .
[41] شعب الإيمان:۳/۳۵،رقم:۱۳۶۴،ت:الدكتور عبد العلي ،مكتبة الرشد ـ الرياض،الطبعة الثالثة1432هـ .
[42] صفة الجنة:۲/۱۱۲،رقم:۲۶۸،ت:علي رضا،دارالمأمون للتراث ـ بيروت،الطبعة۱۴۱۵هـ .
[43] انظر هامش مستدرك:۴/۹۸،رقم:۷۰۰۰، ت:مصطفى عبدالقادر عطا،دارالكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية۱۴۲۲هـ .
[44] تنزيه الشريعة:۲/۳۰ ،ت:عبدالوهاب عبداللطيف وعبد الله محمد الصديق،دارالكتب العلمية ـ بيروت، الطبعة الثانية۱۴۰۱هـ .
[45] الفوائد المجموعة:ص: ۴۹۳،رقم:۱۲۰۸،ت:عبدالرحمن بن يحيى،دارالکتب العلمیة – بیروت، الطبعة ۱۴۱۶هـ .
[46] المقاصدالحسنة:۴۲،رقم:۳۱،ت:عبدالله محمد الصديق،دارالكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية ۱۴۲۷هـ .
[47] الجرح والتعديل:۸/۶۶،رقم:۱۳۵۶۹،ت:مصطفى عبدالقادر عطا،دارالكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴۲۲هـ .
[48] الجرح والتعديل:۸/۶۶،رقم:۱۳۵۶۹،ت:مصطفى عبدالقادر عطا،دارالكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴۲۲هـ..
[49] الجرح والتعديل:۸/۶۶،رقم:۱۳۵۶۹،ت:مصطفى عبدالقادرعطا،دارالكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴۲۲هـ .
[50] الجرح والتعديل:۸/۶۶،رقم:۱۳۵۶۹،ت:مصطفى عبدالقادر عطا،دارالكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴۲۲هـ .
[51] تهذيب الكمال:۱۷/۱۴۹،رقم:۶۱۳۵،ت: أحمد علي عبيد وحسن أحمد آغا،دارالفكر ـ بيروت، الطبعة ۱۴۱۴هـ.
[52] تهذيب الكمال:۱۷/۱۴۹،رقم:۶۱۳۵،ت:أحمد علي عبيد وحسن أحمد آغا،دارالفكر ـ بيروت،الطبعة ۱۴۱۴هـ .
[53] تهذيب الكمال:۱۷/۱۴۹،رقم:۶۱۳۵،ت:أحمد علي عبيد وحسن أحمد آغا،دارالفكر ـ بيروت، الطبعة ۱۴۱۴هـ .
[54] تهذيب الكمال:۱۷/۱۴۹،رقم:۶۱۳۵،ت:أحمد علي عبيد وحسن أحمد آغا،دارالفكر ـ بيروت، الطبعة ۱۴۱۴هـ .
[55] تهذيب الكمال:۱۷/۱۴۹،رقم:۶۱۳۵،ت:أحمد علي عبيد وحسن أحمد آغا،دار الفكر ـ بيروت،الطبعة ۱۴۱۴هـ .
[56] تهذيب الكمال:۱۷/۱۴۹،رقم:۶۱۳۵،ت: أحمد علي عبيد وحسن أحمد آغا،دارالفكر ـ بيروت، الطبعة۱۴۱۴هـ .
[57] تهذيب الكمال:۱۷/۱۴۹،رقم:۶۱۳۵،ت:أحمد علي عبيد وحسن أحمد آغا،دارالفكر ـ بيروت، الطبعة ۱۴۱۴هـ .
[58] التقريب:ص:۵۰۲،رقم:۶۲۲۵،ت:محمد عوامة،دارالرشيد - سؤريا،الطبعة الرابعة۱۴۱۸هـ .
[59] الكاشف:۳/۸۹،رقم:۵۱۹۲،ت:عزت علي عيد عطية وموسى محمد علي الموشي،دارالكتب الحديثه - القاهرة،الطبعةالأولى۱۳۹۲هـ .
[60] المعجم الأوسط:۹/۶۹،رقم:۹۱۴۷ ،ت:طارق بن عوض الله وعبد المحسن بن إبراهيم، دارالحرمين ـ القاهرة،الطبعة۱۴۱۵هـ .
[61] مجمع الزوائد:۱۰/۲۵،رقم:۱۶۶۰۲،ت:عبدالله الدرويش،دارالفكرـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴۲۵هـ .
[62] المقاصدالحسنة:۴۲،رقم:۳۱،ت:عبدالله محمد الصديق،دارالكتب العلميةـ بيروت،الطبعةالثانية ۱۴۲۷هـ .
[63] تنزيه الشريعة:۲/۳۱،رقم:۱۲،ت:عبدالوهاب عبداللطيف وعبد الله محمد الصديق،دارالكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية۱۴۰۱هـ .
’’محجة القرب إلى محبة العرب ‘‘ میں یہ روایت اس مقام پر موجود ہے: ص:۸۶ ،ت:عبدالعزيز الزِيْر،دار العاصمة .
[64] الجرح والتعيديل:۵ /۳۹۰،رقم:۱۸۱۷،الفاروق الحديثية ـ القاهرة .
[65] الجرح والتعيديل:۵ /۳۹۰،رقم:۱۸۱۷،الفاروق الحديثية ـ القاهرة .
[66] الجرح والتعيديل: ۵ /۳۹۰،رقم:۱۸۱۷، الفاروق الحديثية ـ القاهرة .
[67] التاريخ الكبير:5/309،رقم:۱۵۸۵،دارالكتب العلمية ـ بيروت .
[68] تهذيب الكمال:۱۸/۱۷۸،رقم:۳۴۶۵،مؤسسة الرسالة ـ بيروت .
[69] تاريخ بغداد: ۱۲/۲۰۰،رقم:۵۵۵۶،ت:بشار عواد،دار الغرب الإسلامي ـ تونس .
[70] تاريخ بغداد:۱۲/۲۰۰،رقم:۵۵۵۶،ت:بشارعواد،دارالغرب الإسلامي ـ تونس .
[71] الكاشف:۱/۶۵۷،رقم:۳۴۰۵،ت:محمد عوامه،دار القبلة ـ جدة .
[72] تقريب التهذيب:۱/ ۳۵۸،رقم:۴۱۱۴،دارالرشيد ـ حلب .
[73] كتاب الثقات:۶/۵۵۲،دائرة المعارف ـ دكن،الطبعة ۱۳۹۳هـ .
[74] ميزان الاعتدال:۲/۲۶۱،دارالمعرفة ـ بيروت .
[75] لسان الميزان:۴/۲۳۱،دارالبشائر ـ بيروت .
[76] سنن الترمذي:۵/۷۲۳،رقم:۳۹۲۷،إحياء الثراث ـ بيروت .
ملتی جلتی احادیث
روایت: ’’جوچیز بھی اللہ نےمیرے دل میں ڈالی ،وہ ابو بکر r کے دل میں بھی ڈال دی ہے‘‘۔
روایت: ’’من أكرم حبيبته وفي رواية كريمتيه لايكتب بعد العصر‘‘. جوشخص اپنی محبوب چیز، اور ایک روایت میں ہے دو مکرم چیزوں (یعنی آنکھوں) کا اکرام کرنا چاہے تو وہ عصر کی نماز کے بعد نہ لکھے۔
روایت: حضرت انس r کا تنور کی آگ سے آپ ﷺ کےرومال کے میل کچیل کو صاف کرنا،اور رومال کا نہ جلنا
’’من صلى خلف عالم تقي فكأنماصلى خلف نبي‘‘.جس نے متقی عالم کےپیچھےنماز پڑھی گویا اس نےنبی کے پیچھے نماز پڑھی۔
’’میں علم کا شہر ہو ں ،ابوبکرr اس کی بنیاد ،عمر r اس کی دیوار، عثمانr اس کی چھت اور علی r اس کا دروازہ ہیں‘‘۔
بعض روایتوں میں یہ الفاظ بھی ہیں : ’’معاویہ r اس کا حلقہ ہے ‘‘ ۔