التحقحق المنیف - "التحقيق المنيف في دراسة الشرط المتفق عليه للحديث الضعيف نظرة على كتبه فضيلة الشيخ محمد عوامة حفظه الله حول حكم العمل بالحديث الضعيف" منظر عام پر آچکی ہے، ورق گردانی/ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے اسی ویب سائٹ پر "کتابیں ڈاؤنلوڈ کریں" پر کلک کریں۔ - برائے مہربانی کسی بھی قسم کی معلومات یا استفسار کے لیے مندرجہ ذیل نمبر پر رابطہ کریں: 3210056-0342

راوی

علاء بن عمرو حنفی

۲۲۷ھایک روایت میں تذکرہ

علاء بن عمرو حنفی کے بارے میں ائمۂ جرح و تعدیل کے اقوال، جیسے وہ ذیل کی روایات کی تحقیق میں نقل کیے گئے ہیں۔

علاء بن عمرو حنفی (۲۲۷ھ) کے بارے میں ائمہ کا کلام

امام ابن حبان l ’’المجروحین‘‘[24] میں لفظ ’’علاء بن عمرو‘‘ کے عنوان کے تحت لکھتے ہیں: ’’شيخ يروي عن أبي إسحاق الفزاري العجائب، لايجوز الاحتجاج به بحال...‘‘. ’’یہ شیخ ابو اسحاق فزاری سے عجائبات نقل کرتا ہے، بہر صورت اس سے احتجاج جائز نہیں ہے ۔۔۔‘‘ ۔

اسی طرح حافظ  ابن حبان l ہی نے ’’کتاب الثقات‘‘ [25] میں ’’علاء بن عمروحنفی‘‘ کے عنوان سے ترجمہ قائم کیا ہے۔

حافظ ابن حزم l نے علاء کو ’’هالك مطرح‘‘ کہا ہے[26]۔

حافظ ابو حاتم l لکھتے ہیں: ’’مارأينا إلا خيرا‘‘[27]. ہم نے اس میں خیر ہی دیکھی ہے۔

حافظ ذہبی l ’’تاريخ الإسلام‘‘[28] میں لکھتے ہیں: ’’شيخ واهي الحديث ... قال ابن حبان: لايجوز الاحتجاج به بحال، وقال أبوالفتح الأزدي: لايكتب عنه بحال‘‘.

یہ شیخ واہی الحدیث (یعنی ان کی حدیثیں حد سے زیادہ کمزور ہیں)۔۔۔ابن حبان l فرماتے ہیں کہ کسی صورت اس سے احتجاج جائز نہیں ہے، اور ابوالفتح ازدی l فرماتے ہیں کہ بہر صورت اس کی حدیثیں نہیں لکھی جائیں گی۔

حافظ ابن حجر l ’’لسان المیزان‘‘ [29] میں حافظ ذہبی l کا کلام نقل کرکے لکھتے ہیں:

’’..... وذكره ابن حبان في الثقات، فقال: يروي عن ابن إدريس: ربما خالف، وقال النسائي: ضعيف، نقله عنه أبو العرب في تاليفه، ونقل الحاكم في تاريخ نيسابور عن صالح جَزَرة أنه سئل عنه فقال: لابأس به، وقال أبوحاتم: كتبت عنه، وما رأيت الإ خيرا‘‘.

’’۔۔۔ابن حبان l نے اسے ثقات میں ذکر کیا ہے، وہ فرماتے ہیں کہ یہ ابن ادریس سے روایات نقل کرتا ہے، بعض اوقات یہ دیگر راویوں کی مخالفت بھی کرتا ہے، نسائی l نے علاء کو ضعیف کہا ہے، ابوالعرب l نے اپنی تالیف میں علاء کے بارے میں یہ بات نسائی l سے نقل کی ہے، اور حاکم ’’تاریخ نیشابور ‘‘ میں نقل کرتے ہیں کہ صالح جَزَرَہ l سے علاء کے بارے میں پوچھا گیا تو صالح نے کہا ’’لاباس بہ‘‘ (تعدیل)، اور ابوحاتم l فرماتے ہیں کہ میں نے ان سے حدیثیں لکھی ہیں، اور ان میں میں نے خیر ہی دیکھی ہے‘‘[30]۔

حوالہ جات

[24] المجروحين:۲/۱۸۵،ت:محمود إبراهيم زايد،دارالمعرفةـ بيروت،الطبعة۱۴۱۲هـ .

[25] كتاب الثقات:۸/۵۰۴،مؤسسة الكتب الثقافيةـ بيروت،الطبعةالأولى۱۴۰۲هـ .

[26] المحلى بالآثار:كتاب الهبات،۹/۱۴۱،المنيرية ـ مصر.

[27] الجرح والتعديل:۶/۴۷۱،رقم:۱۱۲۳۳،ت:مصطفى عبدالقادر عطا،دارالكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴۲۲هـ .

[28] تاريخ الإسلام: ۶/۱۱۱،رقم:۶۳۶۸،ت:مصطفى عبدالقادر عطا،دارالكتب العلميةـ بيروت،الطبعة الأولى ۲۰۰۵هـ .وقال الحافظ الذهبي في ميزان الإعتدال:’’متروك‘‘. (۳/۱۰۳، رقم:۵۷۳۷، دارالمعرفة ـ  بيروت)

[29] لسان الميزان:۵/۴۶۷،رقم:۵۲۸۰،رقم:۵۲۸۰،ت:شيخ عبد الفتاح أبوغدة،دار البشائر الإسلامية ـ بيروت، الطبعة الأولى۱۴۲۳هـ .

[30] حافظ ابن حبان l اور حافظ ابو حاتم l کے ان سرسری عمومی تعدیل والے اقوال کے مقابلے میں انہی حضرات کے دوسرے معارض اقوال آپ کے سامنے آچکے ہیں، اس تعارض کی بناء پر کم از کم اس روایت کی تائید میں حافظ ابوحاتم l اور حافظ ابن حبان l کا قول پیش کرنا بالکل درست نہیں، واللہ اعلم۔

پوری روایت اور اس کا حکم دیکھیں

علاء بن عمرو حنفی کے بارے میں ائمہ رجال کے اقوال کا خلاصہ

آپ دیکھ چکے ہیں کہ علاء بن عمرو حنفی کے بارے میں ائمہ کرام نے جرح بلکہ شدید جرح کے صیغے بھی استعمال کیے ہیں، حافظ ابن حبان l اور حافظ ابوحاتم l سےاگرچہ تعدیل کے اقوال مروی ہیں، لیکن دوسری جانب انہی حضرات سے جرح بھی ثابت ہے(تفصیل گذر چکی ہے)، اس لئے ان اقوال سے تعدیل پر استدلال درست نہیں، خصوصاً خود حافظ ابو حاتم l علاء کی سند پر مشتمل اس روایت کو من گھڑت بھی کہہ چکے ہیں، اس کی تائید اس سے بھی ہوتی ہے کہ حافظ ہیثمی l نے علاء کو ’’متفق علیہ ضعیف‘‘ قرار دیا ہے(کما مر)، حاصل یہ رہا کہ صالح جَزرَہ l کے علاوہ کسی سے بھی علاء کی تعدیل ثابت نہیں ہے(صالح جَزرَہ l نے علاء کو ’’لابأس‘‘ کہا ہے، جو تعدیل کا ایک کم درجہ ہے)، واللہ اعلم۔

روایتِ ابن عباس r (بطریق علاء) میں موجود ایک دوسرے راوی یحیی بن بُرید کے بارے میں ائمہ رجال کے اقوال ملاحظہ ہوں :

پوری روایت اور اس کا حکم دیکھیں

یہ متن کتاب کی تحقیق کا حصہ ہے اور بعینہٖ نقل کیا گیا ہے؛ روایت کا حکم جاننے کے لیے پوری تحقیق دیکھیں۔

انہی روایات کے دیگر رواۃ

تمام رواۃ