اس روایت کی تحقیق سے2 میں سے 1
’’أحبوا العرب لثلاث: لأني عربي، والقرآن عربي، وكلام أهل الجنة عربي‘‘. ’’آپ ﷺ کا ارشاد ہے کہ عربوں سے تین باتوں کی وجہ سےمحبت کیا کرو، کیونکہ میں عربی ہوں، قرآن عربی میں ہے اور جنت والوں کی زبان عربی ہوگی‘‘۔
غیر معتبر روایات کا فنی جائزہ (حصہ سوم)علاء بن عمرو حنفی (۲۲۷ھ) کے بارے میں ائمہ کا کلام
امام ابن حبان l ’’المجروحین‘‘[24] میں لفظ ’’علاء بن عمرو‘‘ کے عنوان کے تحت لکھتے ہیں: ’’شيخ يروي عن أبي إسحاق الفزاري العجائب، لايجوز الاحتجاج به بحال...‘‘. ’’یہ شیخ ابو اسحاق فزاری سے عجائبات نقل کرتا ہے، بہر صورت اس سے احتجاج جائز نہیں ہے ۔۔۔‘‘ ۔
اسی طرح حافظ ابن حبان l ہی نے ’’کتاب الثقات‘‘ [25] میں ’’علاء بن عمروحنفی‘‘ کے عنوان سے ترجمہ قائم کیا ہے۔
حافظ ابن حزم l نے علاء کو ’’هالك مطرح‘‘ کہا ہے[26]۔
حافظ ابو حاتم l لکھتے ہیں: ’’مارأينا إلا خيرا‘‘[27]. ہم نے اس میں خیر ہی دیکھی ہے۔
حافظ ذہبی l ’’تاريخ الإسلام‘‘[28] میں لکھتے ہیں: ’’شيخ واهي الحديث ... قال ابن حبان: لايجوز الاحتجاج به بحال، وقال أبوالفتح الأزدي: لايكتب عنه بحال‘‘.
یہ شیخ واہی الحدیث (یعنی ان کی حدیثیں حد سے زیادہ کمزور ہیں)۔۔۔ابن حبان l فرماتے ہیں کہ کسی صورت اس سے احتجاج جائز نہیں ہے، اور ابوالفتح ازدی l فرماتے ہیں کہ بہر صورت اس کی حدیثیں نہیں لکھی جائیں گی۔
حافظ ابن حجر l ’’لسان المیزان‘‘ [29] میں حافظ ذہبی l کا کلام نقل کرکے لکھتے ہیں:
’’..... وذكره ابن حبان في الثقات، فقال: يروي عن ابن إدريس: ربما خالف، وقال النسائي: ضعيف، نقله عنه أبو العرب في تاليفه، ونقل الحاكم في تاريخ نيسابور عن صالح جَزَرة أنه سئل عنه فقال: لابأس به، وقال أبوحاتم: كتبت عنه، وما رأيت الإ خيرا‘‘.
’’۔۔۔ابن حبان l نے اسے ثقات میں ذکر کیا ہے، وہ فرماتے ہیں کہ یہ ابن ادریس سے روایات نقل کرتا ہے، بعض اوقات یہ دیگر راویوں کی مخالفت بھی کرتا ہے، نسائی l نے علاء کو ضعیف کہا ہے، ابوالعرب l نے اپنی تالیف میں علاء کے بارے میں یہ بات نسائی l سے نقل کی ہے، اور حاکم ’’تاریخ نیشابور ‘‘ میں نقل کرتے ہیں کہ صالح جَزَرَہ l سے علاء کے بارے میں پوچھا گیا تو صالح نے کہا ’’لاباس بہ‘‘ (تعدیل)، اور ابوحاتم l فرماتے ہیں کہ میں نے ان سے حدیثیں لکھی ہیں، اور ان میں میں نے خیر ہی دیکھی ہے‘‘[30]۔
حوالہ جات
[24] المجروحين:۲/۱۸۵،ت:محمود إبراهيم زايد،دارالمعرفةـ بيروت،الطبعة۱۴۱۲هـ .
[25] كتاب الثقات:۸/۵۰۴،مؤسسة الكتب الثقافيةـ بيروت،الطبعةالأولى۱۴۰۲هـ .
[26] المحلى بالآثار:كتاب الهبات،۹/۱۴۱،المنيرية ـ مصر.
[27] الجرح والتعديل:۶/۴۷۱،رقم:۱۱۲۳۳،ت:مصطفى عبدالقادر عطا،دارالكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴۲۲هـ .
[28] تاريخ الإسلام: ۶/۱۱۱،رقم:۶۳۶۸،ت:مصطفى عبدالقادر عطا،دارالكتب العلميةـ بيروت،الطبعة الأولى ۲۰۰۵هـ .وقال الحافظ الذهبي في ميزان الإعتدال:’’متروك‘‘. (۳/۱۰۳، رقم:۵۷۳۷، دارالمعرفة ـ بيروت)
[29] لسان الميزان:۵/۴۶۷،رقم:۵۲۸۰،رقم:۵۲۸۰،ت:شيخ عبد الفتاح أبوغدة،دار البشائر الإسلامية ـ بيروت، الطبعة الأولى۱۴۲۳هـ .
[30] حافظ ابن حبان l اور حافظ ابو حاتم l کے ان سرسری عمومی تعدیل والے اقوال کے مقابلے میں انہی حضرات کے دوسرے معارض اقوال آپ کے سامنے آچکے ہیں، اس تعارض کی بناء پر کم از کم اس روایت کی تائید میں حافظ ابوحاتم l اور حافظ ابن حبان l کا قول پیش کرنا بالکل درست نہیں، واللہ اعلم۔