التحقحق المنیف - "التحقيق المنيف في دراسة الشرط المتفق عليه للحديث الضعيف نظرة على كتبه فضيلة الشيخ محمد عوامة حفظه الله حول حكم العمل بالحديث الضعيف" منظر عام پر آچکی ہے، ورق گردانی/ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے اسی ویب سائٹ پر "کتابیں ڈاؤنلوڈ کریں" پر کلک کریں۔ - برائے مہربانی کسی بھی قسم کی معلومات یا استفسار کے لیے مندرجہ ذیل نمبر پر رابطہ کریں: 3210056-0342

راوی

عبد العزیز بن عمران زہری

المتوفی ۱۹۷ھایک روایت میں تذکرہ

عبد العزیز بن عمران زہری کے بارے میں ائمۂ جرح و تعدیل کے اقوال، جیسے وہ ذیل کی روایات کی تحقیق میں نقل کیے گئے ہیں۔

عبد العزیز بن عمران زہری (المتوفی ۱۹۷ھ)کے بارے میں ائمہ رجال کے اقوال

امام احمد بن حنبل l لکھتے ہیں: ’’ماكتبت عنه شيئا‘‘ [64]. میں نے عبد العزیز سے کچھ نہیں لکھا۔

امام یحیی بن معینl لکھتے ہیں: ’’ليس بثقة، إنما كان صاحب شعر‘‘[65]. وہ ’’ثقہ‘‘ نہیں ہے، بلکہ شاعر ہے۔

امام ابوحاتم l لکھتے ہیں: ’’متروك الحديث، ضعيف الحديث، منكر الحديث جدا، قلت: يكتب حديثه؟ قال: على الاعتبار‘‘[66]. یہ متروک الحدیث،ضعیف الحدیث،شدید منکر الحدیث ہے،(ابو حاتم l کے صاحبزادے فرماتے ہیں )میں نے (اپنے والد سے )پوچھا کہ ان کی احادیث لکھنی چاہئے؟والد نے کہا کہ ’’اعتبار ‘‘ (ایک خاص اصطلاح)کے لئے لکھ سکتے ہیں۔

امام بخاری l لکھتے ہیں: ’’لايكتب حديثه، منكرالحديث‘‘. ان کی احادیث نہیں لکھی جائیں گی،یہ منکر الحدیث ہے[67]۔

امام نسائی l لکھتے ہیں: ’’متروك الحديث‘‘. (شدید جرح)، دوسری جگہ لکھتے ہیں: ’’ لايكتب حديثه‘‘. ان کی احادیث نہیں لکھی جائیں گی[68]۔

امام ابوبکر خطیب l لکھتے ہیں: ’’قدم بغداد، واتصل بيحيى بن خالد البَرْمَكِيّ، وأقام بها مدة ثم رجع إلى المدينة، وكان ذا سَرْوٍ ومُرُوءَةٍ وبِرّ وإفضال‘‘[69]. وہ بغداد آکر یحیی بن خالد بَرْمَکِی سے ملے، اور ایک مدت بغداد میں قیام کیا، پھر مدینہ لوٹے، اور عبد العزیز ایک سخی، بامروت، نیک، مہربان شخص تھا۔

علامہ علی بن حسین بن حبان l لکھتے ہیں: ’’وجدت في كتاب أبي بخط يده: قال أبو زكريا: ابن أبي ثابت الأعرج المديني[أي عبد العزيز هذا، يعرف به] قد رأيته ههنا ببغداد كان يشتم الناس ويطعن في أحسابهم، ليس حديثه بشيء‘‘[70].

میں نے اپنے والد کی تحریر میں دیکھا ہے کہ ابوزکریا، ابن ابی ثابت اعرج مدینی [مراد عبد العزیز ہے، از راقم]کے بارے میں کہتے ہیں کہ میں نے اسے یہاں بغداد میں اس حال میں دیکھا کہ وہ لوگوں کو سب وشتم کرتا، اور ان کے حسب نسب پر طعن کرتا تھا، اس کی حدیثیں ’’کچھ نہیں‘‘۔

حافظ ذہبی l لکھتے ہیں: ’’تركوه‘‘[71]. محدثین نے اسے ترک کیا ہے (شدید جرح)۔

حافظ ابن حجر l لکھتے ہیں: ’’متروك، احترقت كتبه، فحدث من حفظه فاشتد غلطه، وكان عارفا بالأنساب‘‘[72]. عبد العزیز ’’متروک‘‘ (شدید جرح) راوی ہے، اس کی کتابیں جل گئی تھیں، پھر وہ اپنی یاد داشت سے روایتیں بیان کرتا تھا، چنانچہ شدید غلطیاں کرنے لگا، وہ انساب کو پہچاننے والا عالم تھا۔

حوالہ جات

[64] الجرح والتعيديل:۵ /۳۹۰،رقم:۱۸۱۷،الفاروق الحديثية ـ القاهرة .

[65] الجرح والتعيديل:۵ /۳۹۰،رقم:۱۸۱۷،الفاروق الحديثية ـ القاهرة .

[66] الجرح والتعيديل: ۵ /۳۹۰،رقم:۱۸۱۷، الفاروق الحديثية ـ القاهرة .

[67] التاريخ الكبير:5/309،رقم:۱۵۸۵،دارالكتب العلمية ـ بيروت .

[68] تهذيب الكمال:۱۸/۱۷۸،رقم:۳۴۶۵،مؤسسة الرسالة ـ بيروت .

[69] تاريخ بغداد: ۱۲/۲۰۰،رقم:۵۵۵۶،ت:بشار عواد،دار الغرب الإسلامي ـ تونس .

[70] تاريخ بغداد:۱۲/۲۰۰،رقم:۵۵۵۶،ت:بشارعواد،دارالغرب الإسلامي ـ تونس .

[71] الكاشف:۱/۶۵۷،رقم:۳۴۰۵،ت:محمد عوامه،دار القبلة ـ جدة .

[72] تقريب التهذيب:۱/ ۳۵۸،رقم:۴۱۱۴،دارالرشيد ـ حلب .

پوری روایت اور اس کا حکم دیکھیں

یہ متن کتاب کی تحقیق کا حصہ ہے اور بعینہٖ نقل کیا گیا ہے؛ روایت کا حکم جاننے کے لیے پوری تحقیق دیکھیں۔

انہی روایات کے دیگر رواۃ

تمام رواۃ