اس روایت کی تحقیق سے
’’أحبوا العرب لثلاث: لأني عربي، والقرآن عربي، وكلام أهل الجنة عربي‘‘. ’’آپ ﷺ کا ارشاد ہے کہ عربوں سے تین باتوں کی وجہ سےمحبت کیا کرو، کیونکہ میں عربی ہوں، قرآن عربی میں ہے اور جنت والوں کی زبان عربی ہوگی‘‘۔
غیر معتبر روایات کا فنی جائزہ (حصہ سوم)محمد بن فضل بن عطیہ خراسانی مروزی (المتوفی ۱۸۰ھ) کے بارے میں ائمہ کے اقوال
امام یحییٰ بن معین l فرماتے ہیں: ’’لیس بشيء‘‘[47].
امام یحیی بن معین l کی ایک دوسری روایت میں ہے: ’’هو [أي الفضل بن عطية] والد محمد بن الفضل الكذاب‘‘[48]. یہ فضل بن عطیہ، ’’جھوٹے محمد بن فضل ‘‘ کا والد ہے۔
امام ابو حاتم l لکھتے ہیں: ’’ذاهب الحديث، ترك حديثه‘‘ (شديد جرح)[49].
امام ابوزرعہ l نے فضل کو ’’ضعیف‘‘ کہا ہے[50]۔
امام احمد بن حنبل l لکھتے ہیں: ’’لیس بشيء، حديثه حديث أهل الكذب‘‘. ’’یہ ’’لیس بشی ء‘‘ ہے،اس کی روایات جھوٹوں کی حدیث ہے‘‘[51]۔
امام علی بن مدینی l لکھتے ہیں: ’’روی عجائب‘‘. یہ عجائبات بیان کرتا ہے۔
اس کے بعد امام علی بن مدینی l نے محمد بن فضل کی ’’تضعیف‘‘ کی[52]۔
امام مسلم بن حجاج l ،امام نسائی l اور امام ابن خراش l نے اسے ’’متروک الحدیث‘‘ (شدید جرح) کہا ہے۔اور امام نسائی l نے ایک دوسرے مقام پر’’کذاب‘‘ کہا ہے[53]۔
امام ابوداؤد l نے ’’لیس بشيء‘‘ (جرح) کہا ہے[54]۔
امام دار قطنی l نے ’’ضعیف‘‘ اور ایک موقع پر ’’متروک‘‘ (شدید جرح) کہا ہے[55]۔
حافظ ابن حبان l لکھتے ہیں: ’’يروي الموضوعات عن الأثبات، لايحل كتب حديثه إلاعلى سبيل الاعتبار‘‘.اثبات (ثقہ) سے من گھڑت روایتیں نقل کرتا تھا، اس کی حدیثوں کو اعتبار کے لئے لکھنا ہی جائز ہے[56]۔
حافظ ابو احمد بن عدی l لکھتے ہیں: ’’وعامة حديثه مما لايتابعه الثقات عليه‘‘. اس کی اکثر حدیثوں کی ثقات نے متابعت نہیں کی ہے[57]۔
حافظ ابن حجر l لکھتے ہیں: ’’كذبوه‘‘. محدثین نے محمد بن فضل کی ’’تکذیب‘‘ کی ہے[58]۔
حافظ ذہبی l لکھتے ہیں: ’’تركوه‘‘.محدثین نے محمد بن فضل کو’’ترک‘‘ کردیا ہے[59]۔
حوالہ جات
[47] الجرح والتعديل:۸/۶۶،رقم:۱۳۵۶۹،ت:مصطفى عبدالقادر عطا،دارالكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴۲۲هـ .
[48] الجرح والتعديل:۸/۶۶،رقم:۱۳۵۶۹،ت:مصطفى عبدالقادر عطا،دارالكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴۲۲هـ..
[49] الجرح والتعديل:۸/۶۶،رقم:۱۳۵۶۹،ت:مصطفى عبدالقادرعطا،دارالكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴۲۲هـ .
[50] الجرح والتعديل:۸/۶۶،رقم:۱۳۵۶۹،ت:مصطفى عبدالقادر عطا،دارالكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴۲۲هـ .
[51] تهذيب الكمال:۱۷/۱۴۹،رقم:۶۱۳۵،ت: أحمد علي عبيد وحسن أحمد آغا،دارالفكر ـ بيروت، الطبعة ۱۴۱۴هـ.
[52] تهذيب الكمال:۱۷/۱۴۹،رقم:۶۱۳۵،ت:أحمد علي عبيد وحسن أحمد آغا،دارالفكر ـ بيروت،الطبعة ۱۴۱۴هـ .
[53] تهذيب الكمال:۱۷/۱۴۹،رقم:۶۱۳۵،ت:أحمد علي عبيد وحسن أحمد آغا،دارالفكر ـ بيروت، الطبعة ۱۴۱۴هـ .
[54] تهذيب الكمال:۱۷/۱۴۹،رقم:۶۱۳۵،ت:أحمد علي عبيد وحسن أحمد آغا،دارالفكر ـ بيروت، الطبعة ۱۴۱۴هـ .
[55] تهذيب الكمال:۱۷/۱۴۹،رقم:۶۱۳۵،ت:أحمد علي عبيد وحسن أحمد آغا،دار الفكر ـ بيروت،الطبعة ۱۴۱۴هـ .
[56] تهذيب الكمال:۱۷/۱۴۹،رقم:۶۱۳۵،ت: أحمد علي عبيد وحسن أحمد آغا،دارالفكر ـ بيروت، الطبعة۱۴۱۴هـ .
[57] تهذيب الكمال:۱۷/۱۴۹،رقم:۶۱۳۵،ت:أحمد علي عبيد وحسن أحمد آغا،دارالفكر ـ بيروت، الطبعة ۱۴۱۴هـ .
[58] التقريب:ص:۵۰۲،رقم:۶۲۲۵،ت:محمد عوامة،دارالرشيد - سؤريا،الطبعة الرابعة۱۴۱۸هـ .
[59] الكاشف:۳/۸۹،رقم:۵۱۹۲،ت:عزت علي عيد عطية وموسى محمد علي الموشي،دارالكتب الحديثه - القاهرة،الطبعةالأولى۱۳۹۲هـ .