التحقحق المنیف - "التحقيق المنيف في دراسة الشرط المتفق عليه للحديث الضعيف نظرة على كتبه فضيلة الشيخ محمد عوامة حفظه الله حول حكم العمل بالحديث الضعيف" منظر عام پر آچکی ہے، ورق گردانی/ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے اسی ویب سائٹ پر "کتابیں ڈاؤنلوڈ کریں" پر کلک کریں۔ - برائے مہربانی کسی بھی قسم کی معلومات یا استفسار کے لیے مندرجہ ذیل نمبر پر رابطہ کریں: 3210056-0342

راوی

ابو مصعب محمد بن زیاد طحان یَشْکُرِی جزری رَقِّی کوفی میمونی

ایک روایت میں تذکرہ

ابو مصعب محمد بن زیاد طحان یَشْکُرِی جزری رَقِّی کوفی میمونی کے بارے میں ائمۂ جرح و تعدیل کے اقوال، جیسے وہ ذیل کی روایات کی تحقیق میں نقل کیے گئے ہیں۔

سند میں موجود راوی ابو مصعب محمد بن زیاد طحان یَشْکُرِی جزری  رَقِّی کوفی میمونی کے بارے میں ائمہ رجال کا کلام

حافظ یحیی بن معین l فرماتے ہیں: ’’ كان ببغداد قوم يضعون الحديث، كذابين، منهم: محمد بن زياد، كان يضع الحديث‘‘[3]. بغداد کی  ایک جماعت حدیث گھڑتی تھی، وہ جھوٹےہیں، اسی میں سے ایک محمد بن زیاد بھی ہے، جو حدیث گھڑتا تھا۔

حافظ یحیی بن معین l ایک دوسرے مقام پر فرماتے ہیں: ’’محمد بن زياد الطحان ليس بشيء، كذاب، الذي يروي عن ميمون بن مهران ما يروي‘‘[4]. محمد بن زیاد طحان لیس بشیء، کذاب ہے، اسے کچھ نقل کرنا ہو تو  میمون بن مہران سے روایت کردیتا ہے۔

امام احمد بن حنبل l فرماتے ہیں: ’’ كذاب، خبيث، أعور، يضع الحديث‘‘[5]. کذاب ہے، خبیث ہے، کانا ہے، حدیث گھڑتا ہے۔

حافظ ذہبی l نے ’’الكاشف‘‘[6] میں محمد بن زیاد یشکری کا ترجمہ قائم کرکے امام احمد بن حنبل l  کے قول کو نقل کرنے پر اکتفاء کیا ہے۔

علامہ عبد اللہ بن علی l کہتے ہیں کہ میں نے اپنے والد علی بن مدینی l سے محمد بن زیاد کے بارے میں پوچھا، انہوں نے کہا: ’’ كتبت عنه كتابا، فرميت به، وضعفه جدا‘‘[7]. میں نے اس سے ایک کتاب لکھی تھی، پھر میں نے اسے پھینک دیا، اور انہوں نے اس کو ضعیف جداً کہا۔

امام بخاری l ’’التاريخ الكبير‘‘[8] میں فرماتے ہیں: ’’قال لي عمرو بن زرارة: كان محمد بن زياد يتهم بوضع الحديث‘‘. مجھے عمرو بن زرارہ l نے کہا: محمد بن زیاد حدیث گھڑنے میں متہم ہے۔

نیز امام بخاری l محمد بن زیاد کے بارے میں یہ بھی فرماتے ہیں: ’’محمد بن زياد صاحب ميمون بن مهران متروك الحديث‘‘[9]. میمون بن مہران کا ساتھی محمد بن زیاد ’’متروک الحدیث‘‘ ہے۔

حافظ ابراہیم بن یعقوب جوزجانی l ’’ أحوال الرجال‘‘[10] میں فرماتے ہیں: ’’ كان كذابا‘‘. یہ جھوٹا تھا۔

حافظ ابو حاتم l فرماتے ہیں: ’’متروك الحديث‘‘[11].

حافظ ابو زرعہ l فرماتے ہیں: ’’محمد بن زياد صاحب ميمون كان يكذب‘‘[12]. میمون کا ساتھی محمد بن زیاد جھوٹ بولتا ہے۔

حافظ ابو حفص عمرو بن علی فلاس l فرماتے ہیں: ’’ومحمد بن زياد صاحب ميمون بن مهران متروك الحديث، كذاب، منكر الحديث‘‘[13]. اور محمد بن زیاد جو میمون بن مہران کا ساتھی ہے ، وہ متروک الحدیث، جھوٹا، منکر الحدیث ہے۔

حافظ عجلی l نے محمد بن زیاد کو ’’متروك الحديث‘‘[14] کہا ہے۔

امام ترمذی l ایک روایت کے تحت فرماتے ہیں: ’’ومحمد بن زياد هذا هو صاحب ميمون بن مهران، ضعيف في الحديث جدا‘‘[15]. اور محمد بن زیاد یہ میمون بن مہران کا ساتھی ہے، حدیث میں انتہائی ضعیف ہے۔

امام نسائی l ’’الضعفاء والمتروكين‘‘[16] میں محمد بن زیاد کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’متروك الحديث‘‘. یہ متروک الحدیث ہے۔

امام نسائی l نے ایک دوسرے مقام پر اسے ’’ كذاب‘‘ کہا ہے[17]۔

حافظ ابن بَرْقِی l نے محمد بن زیاد کو ’’ كذابين‘‘ کے طبقہ میں شمار کیا ہے[18]۔

حافظ ابن حبانl ’’المجروحین‘‘[19] میں فرماتے ہیں: ’’ كان ممن يضع الحديث على الثقات ويأتي عن الأثبات بالأشياء المعضلات، لا يحل ذكره في الكتب إلا على جهة القدح، ولا الرواية عنه إلا على سبيل الاعتبار عند أهل الصناعة خصوصا دون غيرهم‘‘.

یہ ان لوگوں میں سے ہے جو ثقہ راویو ں پر حدیث گھڑتے ہیں ،اور ثقہ راویوں کے انتساب سے معضل اشیاء لاتے ہیں ،کتابوں میں اس کا ذکر صرف جرح کے طور پر ہی حلال ہے، خاص اہل صناعت کےسامنے صرف اعتبار کے لئے اس کی روایت نقل کرنا حلال  ہے،اہل صناعت کے علاوہ لوگوں کے سامنےاس کی روایت نقل کرنا حلال نہیں  ہے۔

حافظ ابن عدی l ’’الكامل‘‘[20] میں محمد بن زیاد کی چند روایات ذکر کرنے بعد فرماتے ہیں: ’’ولمحمد بن زياد هذا غير ما ذكرت من الحديث، وهو بين الأمر في الضعفاء، يروي عن ميمون بن مهران أحاديث مناكير لا يرويها غيره، لا يتابعه أحد من الثقات عليها‘‘.

اور محمد بن زیاد کی میری ذکر کردہ احادیث کے علاوہ بھی روایات ہیں، اور اس کا ضعفاء میں ہونا ایک واضح بات ہے، میمون بن مہران کے انتساب سے ایسی منکر احادیث روایت کرتا ہے جنہیں اس کے علاوہ کوئی روایت نہیں کرتا، ثقات میں سے کوئی بھی اس کی متابعت نہیں کرتا۔

حافظ دار قطنی l نے اسے ’’ کذاب‘‘ کہا ہے[21]۔

امام ابو عبد اللہ حاکم l ’’المدخل‘‘[22] میں فرماتے ہیں: ’’يروي عن ميمون بن مهران وغيره الموضوعات‘‘. میمون بن مہران وغیرہ کے انتساب سے من گھڑت روایات نقل کرتا ہے۔

حافظ ابو نعیم اصبہانیl  ’’ کتاب الضعفاء‘‘[23] میں فرماتے ہیں:  ’’يروي عن ميمون بن مهران وغيره الموضوعات‘‘. میمون بن مہران وغیرہ کے انتساب سے من گھڑت روایات نقل کرتا ہے۔

حافظ ذہبی l نے ایک مقام پر محمد بن زیاد کو ’’وضاع‘‘ کہا ہے[24]۔

حافظ ابن حجر عسقلانی l ’’التقريب‘‘[25]میں فرماتے ہیں: ’’ كذبوه‘‘. محدثین نے اسے کذاب کہا ہے۔

علامہ ابن عراق l نے ’’تنزيه الشريعة‘‘[26] میں محمد بن زیاد کو وضاعین ومتہمین کی فہرست میں شمار کر کے امام احمد بن حنبل l  کا قول نقل کیا ہے۔

حوالہ جات

[3] تاريخ بغداد:3/196،رقم:799،ت:بشار عواد معروف،دار الغرب الإسلامي ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴22هـ .

[4] تاريخ بغداد:3/197،رقم:799،ت:بشار عواد معروف،دار الغرب الإسلامي ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴22هـ .

[5] تاريخ بغداد:3/197،رقم:799،ت:بشار عواد معروف،دار الغرب الإسلامي ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴22هـ .

[6] الكاشف:2/:172،رقم:4856،ت:محمد عوامة وأحمد محمد نمر الخطيب،دار القبلة للثقافة ـ جده،الطبعة الأولى1413هـ .

[7] تاريخ بغداد:3/196،رقم:799،ت:بشار عواد معروف،دار الغرب الإسلامي ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴22هـ .

[8] التاريخ الكبير:1/86 ،رقم :226،ت:مصطفى عبد القادر أحمد عطا،دار الكتب العلمية ـ  بيروت،الطبعة الثانية ۱۴۲۹هـ .

[9] الكامل في ضعفاء الرجال:۷/296،رقم:1632،ت:عادل أحمد عبد الموجود وعلي محمد معوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت .

[10] أحوال الرجال:ص:336،رقم:368،ت:عبد العليم عبد العظيم البستوي،حديث أكادمي ـ فيصل آباد،باكستان .

[11] الجرح التعديل:7/۲58،رقم:1412،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۳۷۱هـ .

[12] تاريخ بغداد:3/196،رقم:799،ت:بشار عواد معروف،دار الغرب الإسلامي ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴22هـ .

[13] تاريخ بغداد:3/19۸،رقم:799،ت:بشار عواد معروف،دار الغرب الإسلامي ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴22هـ .

[14] تهذيب التهذيب:5/587،رقم:6956،ت:عادل أحمد وعلي محمد معوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى1425هـ .

[15] سنن الترمذي:6/76،رقم:3709،ت:بشار عواد معروف،دار الغرب الإسلامي ـ بيروت،الطبعة الأولى1996ء .

[16] الضعفاء والمتروکین:222،رقم:574،ت:بوران الضناوي،مؤسسة الكتب الثقافية ـ  بيروت،الطبعة الأولى۱۴۰۵هـ .

[17] تهذيب التهذيب:5/587،رقم:6956،ت:عادل أحمد وعلي محمد معوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى1425هـ .

[18] تهذيب التهذيب:5/587،رقم:6956،ت:عادل أحمد وعلي محمد معوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى1425هـ .

[19] المجروحين:2/250،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة1412هـ .

[20] الكامل في ضعفاء الرجال:6/296،رقم:1632،ت:عادل أحمد عبد الموجود وعلي محمد معوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت .

[21] ميزان الاعتدال:3/553،رقم:7547،ت:علي محمد البجاوي،دار المعرفةـ بيروت .

[22] المدخل إلى الصحيح:ص:194 ،رقم:170،ت:ربيع بن هادي عمير المدخلي،مؤسسة الرسالة  ـ بيروت،الطبعة الأولى 1404هـ .

[23] كتاب الضعفاء لأبي نعيم:ص:۱38،رقم:209،ت:فاروق حمادة،مطبعة النجاح الجديدة .

[24] تلخيص كتاب الموضوعات:ص:250،رقم:653،ت:أبو تميم ياسر بن إبراهيم،مكتبة الرشد ـ الرياض،الطبعة الأولى1419 هـ .

[25] التقريب:ص:479،رقم:5890،ت:محمد عوامة،دار الرشيد ـ سوريا،الطبعة الثالثة۱۴۱1هـ .

[26] تنزيه الشريعة:1/۱05،رقم:124،ت:عبد الوهاب عبد اللطيف وعبد الله محمد الصديق،دار الكتب العلمية ـ بيروت، الطبعةالثانية۱۴۰۱هـ .   

پوری روایت اور اس کا حکم دیکھیں

یہ متن کتاب کی تحقیق کا حصہ ہے اور بعینہٖ نقل کیا گیا ہے؛ روایت کا حکم جاننے کے لیے پوری تحقیق دیکھیں۔

انہی روایات کے دیگر رواۃ

تمام رواۃ