اس روایت کی تحقیق سے
روایت: ’’رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اے علی! اللہ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں ابو بکر r کو والد، عمر r کو مشیر، عثمان r کو سند وحجت اورتجھے مددگار بناؤں، تم چار ہو، اللہ نے لوح محفوظ میں عہد لیا ہے کہ تم سے صرف متقی مؤمن ہی محبت کر سکے گا، تم سے بغض رکھنے والا بد بخت منافق ہو گا، تم چاروں خلف رشید ہو، اور میری ذمہ داریوں کی مضبوطی ہو، اور میری امت پر حجت ہو‘‘۔
غیر معتبر روایات کا فنی جائزہ (حصہ دہم)سند میں موجود راوی ضِرار بن سہل ضراری اور ابو قاسم عبد اللہ بن احمد بن محمد تمیمی غَباغِبی (المتوفی ۳۲۵ھ) کے بارے میں ائمہ رجال کے اقوال
حافظ خطیب بغدادی l ’’تاريخ بغداد‘‘[14] میں زیر بحث روایت کو منکر قرار دینے کے بعد فرماتے ہیں:’’وهما جميعا مجهولان‘‘. اور وہ دونوں ( سند میں موجود راوی ضرار اور غباغبی) مجہول راوی ہیں۔
حافظ ابن عساکر l نے ’’تاريخ دمشق‘‘[15] میں، حافظ ابن جوزی l نے ’’كتاب الموضوعات‘‘[16] میں، حافظ ابن حجر عسقلانی l نے ’’لسان المیزان‘‘[17] میں، حافظ سیوطی l نے ’’اللآلئ المصنوعة‘‘[18] میں حافظ خطیب بغدادی l کے قول پر اعتماد کیا ہے۔
نیز حافظ ابن عساکر l نے ’’تاريخ دمشق‘‘[19] میں ایک حدیث کے تحت غباغبی کو ’’غير ثقة‘‘ کہا ہے۔
علامہ مؤرخ یاقوت رومی حمویl ’’معجم البلدان‘‘[20] میں غباغبی کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’ وكان كذابا‘‘. اور یہ جھوٹا تھا۔
حافظ ذہبی l ’’تلخيص الموضوعات‘‘[21] میں زیر بحث روایت کے تحت ضِرار بن سہل کے بارے میں فرماتے ہیں:’’وهو مجهول، فلعله من وضعه‘‘. ضِرار مجہول ہے، شاید یہی اس روایت کو گھڑنے والا ہے۔
حافظ ذہبی l ’’میزان الاعتدال‘‘[22] میں ضِرار بن سہل کے ترجمہ میں فرماتے ہیں: ’’ولا يدرى من ذا الحيوان‘‘. معلوم نہیں کہ یہ حیوان کون ہے۔
اس کے بعد حافظ ذہبی l زیرِ بحث روایت نقل کرکے عبد اللہ بن احمد غَباغِبی کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’أحد المجهولين‘‘. یہ مجہول راویوں میں سے ایک ہے۔
علامہ ابن عراقl ’’تنزيه الشريعة‘‘[23] میں ضِرار بن سہل کو وضاعین ومتہمین کی فہرست میں شمار کرکے فرماتے ہیں: ’’عن الحسن بن عرفة بخبر باطل، ولا يدرى من ذا الحيوان‘‘. ضِرار نے حسن بن عرفہ کے انتساب سے ایک باطل خبر روایت کی ہے، معلوم نہیں کہ یہ حیوان کون ہے۔
حوالہ جات
[14] تاريخ بغداد:10/471،رقم:4848،ت:بشارعواد معروف،دار الغرب الإسلامي ـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴۲۲هـ .
[15] تاريخ مدينة دمشق:۲۷/۴۷،رقم:۳۱۶۲،ت:محب الدين أبي سعيد عمر بن غرامة العمروي،دار الفكر ـ بيروت، الطبعة1415هـ .
[16] كتاب الموضوعات:۱/۴۰۳،ت:عبد الرحمن محمد عثمان،المکتبة السلفية ـ المدینة المنورة،الطبعة الأولى۱۳۸۶هـ .
[17] لسان الميزان:4/۴۲۲،رقم:۴۱۳۸،ت:عبد الفتاح أبو غدة،دار البشائر ـ بيروت،الطبعة الأولى1423هـ .
[18] اللآلئ المصنوعة:1/۳۵۰،ت:أبو عبد الرحمن صلاح بن محمد بن عويضة،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى1417هـ .
[19] تاريخ مدينة دمشق:۲۷/۴8،رقم:۳۱۶۲،ت:محب الدين أبي سعيد عمر بن غرامة العمروي،دار الفكر ـ بيروت، الطبعة1415هـ .
[20] معجم البلدان:4/۱84،دارصادرـ بيروت،الطبعة۱۳۹۷هـ .
[21] تلخيص الموضوعات: ص:137،رقم:302،ت:أبو تميم ياسر بن إبراهيم بن محمد،مكتبة الرشد ـ الرياض، الطبعة الأولى۱۴۱۹هـ .
[22] ميزان الاعتدال:2/327،رقم:3950،ت:علي محمد البجاوي،دار المعرفة ـ بيروت .
[23] تنزيه الشريعة:1/6۹،رقم:۳،ت:عبد الوهاب عبد اللطيف،عبد الله محمد الصديق،دار الكتب العلميةـ بيروت،الطبعة الثانية1401هـ .