اس روایت کی تحقیق سے2 میں سے 1
روایت: ’’غار ثور میں حضرت ابو بکرr کو شدید پیاس لگی، آپﷺ سے عرض کیا، غار کے دہانے پر جاکر پینے کا حکم ہوا، حضرت ابو بکرr نے پانی پیا تو وہ شہد سے زیادہ میٹھا، دودھ سے زیادہ سفید اور مشک سے زیادہ خوشبو والا تھاجو کہ اللہ تعالی کے حکم سے ایک فرشتے نے جنت الفردوس کی نہر سے جاری کیا تھا‘‘۔
غیر معتبر روایات کا فنی جائزہ (حصہ دہم)سند میں موجود راوی ابو عباس محمد بن یونس بن موسی بن سلیمان قرشی سامی کدیمی (المتوفی ۲۸۶ھ) پر ائمہ رجال کا کلام
امام احمد بن حنبل l فرماتے ہیں: ’’كان محمد بن يونس الكديمي حسن الحديث، حسن المعرفة، ما وجدنا عليه إلا صحبته لسليمان الشاذكوني‘‘[5] . محمد بن یونس حسن الحدیث اور حسن المعرفہ تھا، ہم اس پر صرف سلیمان شاذکونی کے ساتھ رہنے کی وجہ سے غصہ ہیں۔
علامہ ابو عبید آجری l فرماتے ہیں: ’’سمعت أبا داود يتكلم في محمد بن سنان وفي محمد بن يونس، يطلق عليهما الكذب‘‘[6]. میں نے ابو داؤد lکو محمد بن سنان اور محمد بن یونس پر کلام کے دوران سنا کہ آپ نے دونوں پر جھوٹ کا اطلاق کیا۔
علامہ ابو بکر محمد بن وہب بصری المعروف ابن تمار ورّاق l فرماتے ہیں: ’’ما أظهر أبو داود السجستاني تكذيب أحد إلا في رجلين: الكديمي وغلام خليل‘‘[7]. ابو داؤد l نے صرف کدیمی اور خلیل، دو شخصوں کے جھوٹا ہونے کا اظہار کیا ہے۔
حافظ ابو الفضل جعفر طیالسی l فرماتے ہیں: ’’الكديمي ثقة، ولكن أهل البصرة يحدثون بكل ما يسمعون‘‘[8]. کدیمی ثقہ ہے، لیکن بصرہ والے جو سنتے ہیں، روایت کردیتے ہیں۔
حافظ ابو الآذان عمر بن ابراہیم بغدادی l فرماتے ہیں: ’’سمعت موسى بن هارون يقول: وهو متعلق بأستار الكعبة: اللهم! إني أشهدك أن الكديمي كذاب، يضع الحديث‘‘[9]. میں نے موسی بن ہارون کو یہ کہتے سنا اس حال میں کہ وہ کعبہ کے پردے کو پکڑ ے ہوئے تھے: اے اللہ! میں آپ کو اس پر گواہ بناتا ہوں کہ کدیمی جھوٹا ہے، حدیث گھڑتا ہے۔
حافظ موسی بن ہارون حمال l فرماتے ہیں: ’’تقرب إلي الكديمي بالكذب، قال لي: كتبت عن أبيك في مجلس محمد بن سابق، وسمعت أبي يقول: ما كتبت عن محمد بن سابق شيئا، ولا رأيته‘‘[10]. کدیمی نے جھوٹ بول کر میرے قریب ہونا چاہا، کدیمی نے مجھے کہاکہ میں نے محمد بن سابق کی مجلس میں آپ کے والد سے لکھا ہے، (موسی بن ہارون l فرماتے ہیں) حالانکہ میں نے اپنے والد کو فرماتے ہوئے سنا ہے: میں نے محمد بن سابق سے کچھ نہیں لکھا، اورنہ ہی اس کو دیکھا ہے۔
حافظ ابو بکر شافعی l فرماتے ہیں: ’’سمعت أبا الأحوص محمد بن الهيثم وسئل عن الكديمي، فقال: تسألوني عنه وهو أكبر مني وأكثر علما؟ ما علمت إلا خيرا‘‘[11]. میں نے ابو الاحوص محمد بن ہیثم سے سنا اس حال میں کہ ان سے کدیمی کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا: تم مجھ سے کدیمی کے بارے میں پوچھتے ہو، حالانکہ وہ مجھ سے بڑے ہیں، اور ان کا علم زیادہ ہے؟ میں ان کے بارے میں صرف خیر ہی جانتا ہوں۔
حافظ قاسم بن زکریا مُطّرِز l فرماتے ہیں: ’’أنا أجاثية [ كذا في الأصل] بين يدي الله تبارك وتعالى يوم القيامة وأقول: إن هذا كان يكذب على رسولك، وعلى العلماء‘‘[12]. میں قیامت کے دن کدیمی کو گھٹنوں کے بل بٹھا کر اللہ تبارک وتعالی سے عرض کروں گا: بےشک یہ آپ کے رسول اور علماء پر جھوٹ بولتا تھا۔
حافظ ابو الحسین ابن منادی l فرماتے ہیں: ’’ كتبنا عن الكديمي، ثم بلغنا كلام أبي داود فيه، فرمينا بما سمعنا منه‘‘[13]. ہم نے کدیمی سے لکھا تھا، پھر ہمیں ابو داؤد کا کلام پہنچا تو ہم نے ان سے جو سنا تھا اس کو ترک کردیا۔
علامہ اسماعیل خُطَبی l فرماتے ہیں: ’’ما رأيت ناسا أكثر من مجلسه، وكان ثقة‘‘[14]. میں نے اس کی مجلس میں موجود لوگوں سے زیادہ لوگ نہیں دیکھے، اور یہ ثقہ تھا۔
حافظ ذہبی l نے ’’ميزان الاعتدال‘‘[15] میں اسماعیل خُطَبی کا مذکورہ قول ’’قال بجهل‘‘ (اس نے جہالت کے ساتھ کہا ہے) کہہ کر نقل کیا ہے۔
حافظ ابن ابی حاتم l ’’الجرح والتعديل‘‘[16] میں فرماتے ہیں: ’’سمعت أبي وعرض عليه شيء من حديثه، فقال: ليس هذا حديث أهل الصدق‘‘. میں نے اپنے والد سے سنا اس حال میں کہ ان پر کدیمی کی حدیث میں سے کچھ پیش کیا گیا تو آپ نے فرمایا: یہ اہل صدق کی حدیث نہیں ہے۔
حافظ ابن حبان l ’’المجروحين‘‘[17] میں فرماتے ہیں: ’’وكان يضع على الثقات الحديث وضعا، ولعله قد وضع أكثر من ألف حديث‘‘. محمد بن یونس ثقات پر خوب احادیث گھڑتا تھا، اور شاید اس نے ہزار سے زیادہ احادیث گھڑی ہیں۔
حافظ ازدی l نے کدیمی کو ’’متروك الحديث‘‘ کہا ہے[18]۔
حافظ ابن عدی l ’’الكامل‘‘[19] میں فرماتے ہیں: ’’اتهم بوضع الحديث وبسرقته، وادعى رؤية قوم لم يرهم، ورواية عن قوم لا يعرفون، وترك عامة مشايخنا الرواية عنه، ومن حدث عنه نسبه إلى جده موسى بأن لا يعرف‘‘. یہ حدیث گھڑنے اور سرقۂ حدیث میں متہم ہے، اور اس نے ایسی جماعت کو دیکھنے کا دعوی کیا ہے جس کو اس نے نہیں دیکھا، اور اس نے ایسی جماعت سے روایت کا دعوی کیا ہے جن کی معرفت نہیں ہے، اور ہمارے اکثر مشایخ نے اس سے روایت لینا چھوڑ رکھا ہے، اور جو اس سے روایت کرتے ہیں وہ اسے اس کے دادا موسی کی طرف منسوب کرتے ہیں، تاکہ یہ پہچانا نہ جائے۔
امام دار قطنی l فرماتے ہیں: ’’يتهم بوضع الحديث، وما أحسن فيه القول إلا من لم يخبر حاله‘‘[20]. وہ حدیث گھڑنے میں متہم ہے، اس کے بارے میں اچھائی کا قول صرف ان لوگوں کا ہے جن کو اس کے حال کی خبر نہیں ہے۔
حافظ ابو عبد اللہ حاکم نیشاپوری l فرماتے ہیں: ’’وسألته عن محمد بن يونس الكديمي، وإن جماعة من مشايخنا أثنوا عليه، فقال: متروك‘‘[21]. میں نے دار قطنی l سے محمد بن یوسف کدیمی کےبارے میں پوچھا، اور یہ بھی کہ ہمارے مشایخ کی ایک جماعت نے اس کی خوبی بیان کی ہے، دار قطنی l نے فرمایا: یہ متروک ہے۔
حافظ ابو احمد حاکم نیشاپوری l فرماتے ہیں: ’’ذاهب الحديث، تركه يحيى بن محمد بن صاعد وأحمد بن محمد بن سعيد الهمذاني، وسمع منه عبد الله بن أحمد بن حنبل ومحمد بن إسحاق بن خزيمة‘‘[22]. کدیمی ذاہب الحدیث ہے، یحیی بن محمد بن صاعد اور احمد بن محمد بن سعید ہمذانی نے اسے ترک کیا ہے، اور عبد اللہ بن احمد بن حنبل اور محمد بن اسحاق بن خزیمہ نے اس سے سنا ہے۔
حافظ ابو یعلی خلیلی l ’’الإرشاد‘‘[23] میں فرماتے ہیں: ’’وليس الكديمي بذلك القوي، ومنهم من يقويه‘‘. کدیمی ’’ذلک القوی‘‘ نہیں ہے، اور بعض نے اسے قوی کہا ہے۔
حافظ خطیب بغدادی l ’’تاريخ بغداد‘‘[24] میں فرماتے ہیں: ’’ لم يزل الكديمي معروفا عند أهل العلم بالحفظ، مشهورا بالطلب، مقدما في الحديث، حتى أكثر روايات الغرائب والمناكير، فتوقف إذ ذاك بعض الناس عنه، ولم ينشطوا للسماع منه‘‘. کدیمی اہل علم کے مابین حفظ میں معروف، اور طلب میں مشہور تھے، یہ حدیث میں مقدم ہے، حتی کہ اس نے کثرت سے غرائب ومناکیر روایت کیں ہیں، سو یہی وجہ ہے کہ بعض لوگوں نے ان کے بارے میں توقف کیا ہے، اور وہ اس سے سماعت میں نشاط نہیں رکھتے تھے۔
حافظ ابن قیسرانی l ’’ذخيرة الحفاظ‘‘[25] میں ایک روایت کےتحت محمد بن یونس کدیمی کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’ومحمد هذا كان يضع الحديث على الثقات وضعا‘‘. اور یہ محمد ثقات پر خوب حدیث گھڑتا تھا۔
حافظ ابو الحسن ابن قطان l ’’بيان الوهم‘‘[26] میں ایک حدیث کے تحت کدیمی کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’فإنه ممن يتهم بالوضع‘‘. کیونکہ کدیمی حدیث گھڑنے میں متہم لوگوں میں سے ہے۔
حافظ ذہبی l نے ’’تاريخ الإسلام‘‘[27] میں کدیمی کو ’’ أحد الضعفاء‘‘، ’’المغني‘‘[28] میں ’’هالك‘‘، ’’تذكرة الحفاظ‘‘[29] میں ’’واه‘‘، ’’المعين‘‘[30] میں ’’متهم‘‘ اور ’’ميزان‘‘[31] میں’’أحد المتروكين‘‘ کہا ہے۔
حافظ ابن کثیرl نے ’’ البداية‘‘[32] میں ایک روایت کے تحت کدیمی کو ’’متهم‘‘ کہا ہے۔
حافظ ابن قیم الجوزیہ l نے ’’جلاء الأفهام‘‘[33] میں کدیمی کو ’’متروك‘‘ کہا ہے۔
حافظ ابن ناصر الدین دمشقی l نے ’’توضيح المشتبه‘‘[34] میں ایک حدیث کے تحت کدیمی کو ’’أحد المتروكين‘‘ کہا ہے۔
حافظ علائی l نے کدیمی کو ’’هالك‘‘ کہا ہے[35]۔
حافظ ابن ملقن l ’’البدر المنير‘‘[36] میں ایک روایت کے تحت کدیمی کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’فإنه من يتهم بالوضع‘‘. یہ ان لوگوں میں سے ہے جو حدیث گھڑنے میں متہم ہیں۔
حافظ ابن حجر عسقلانی l ’’لسان الميزان‘‘[37] میں فرماتے ہیں: ’’تكلموا فيه كثيرا‘‘. اس کے بارے میں ائمہ نے کثرت سے کلام کیا ہے۔
حافظ بدر الدین عینی l ’’مغاني الأخيار‘‘[38] میں کدیمی کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’وكان يضع على الثقات، وقيل: كان حسن الحديث‘‘. یہ ثقہ راویوں کے انتساب سے احادیث گھڑتا تھا، اور کہا گیا ہے کہ یہ حسن الحدیث تھا۔
حافظ سیوطی l ’’طبقات الحفاظ‘‘[39] میں فرماتے ہیں: ’’ اتهموه بالوضع، وكان حافظا‘‘. ائمہ نے اس کو متہم بالوضع قرار دیا ہے، اور وہ حافظ تھا۔
علامہ ابن عراق l ’’تنزيه الشريعة‘‘[40] میں محمد بن یونس کدیمی کو وضاعین ومتہمین کی فہرست میں شمار کرکے فرماتے ہیں: ’’قال ابن عدي: اتهم بالوضع، وقال ابن حبان: كان يضع على الثقات‘‘. ابن عدی l فرماتے ہیں: یہ حدیث گھڑنے میں متہم ہے، اور ابن حبانl فرماتے ہیں: یہ ثقہ راویوں پر احادیث گھڑتا ہے۔
حوالہ جات
[5] انظر تاريخ بغداد:4/693،رقم:1842،ت:بشار عواد، دار الغرب الإسلامى ـ بيروت،الطبعة الأولى1422هـ .
[6] سؤالات أبي عبيد الآجري:2/283،رقم:1856،ت:عبد العليم عبد العظيم البستوي،مؤسسة الريان ـ بيروت، الطبعة الأولى1418هـ .
[7] انظر تاريخ بغداد:۶/۲۴۷،رقم:۲۷۳۵،ت:بشار عواد، دار الغرب الإسلامى ـ بيروت،الطبعة الأولى1422هـ .
[8] تاريخ بغداد:۴/701،رقم:۱۸۴۲،ت:بشار عواد، دار الغرب الإسلامى ـ بيروت،الطبعة الأولى1422هـ .
[9] تاريخ بغداد:۴/۶۹۶،رقم:۱۸۴۲،ت:بشار عواد، دار الغرب الإسلامى ـ بيروت،الطبعة الأولى1422هـ .
[10] الكامل في ضعفاء:۷/۵۵۳،رقم:۱۷۸۰،ت:عادل أحمد عبد الموجود وعلي محمد معوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت .
[11] تاريخ بغداد:۴/۶۹4،رقم:۱۸۴۲،ت:بشار عواد، دار الغرب الإسلامى ـ بيروت،الطبعة الأولى1422هـ .
[12] سؤالات حمزة بن يوسف السهمي للدار قطني وغيره من المشايخ:ص:112،رقم:74،ت:موفق بن عبد الله بن عبد القادر،مكتبة المعارف ـ الرياض،الطبعة الأولى۱۴۰4هـ .
[13] سير أعلام النبلاء:13/304،رقم:139،ت:شعيب الأرنؤوط،مؤسسة الرسالة ـ بيروت،الطبعة الأولى 1403هـ .
[14] تاريخ بغداد:۴/702،رقم:۱۸۴۲،ت:بشار عواد، دار الغرب الإسلامى ـ بيروت،الطبعة الأولى1422هـ .
[15] ميزان الاعتدال:۴/74،رقم:۸۳۵۳،ت:علي محمد البجاوي،دار المعرفة ـ بيروت .
[16] الجرح والتعدیل:8/122،رقم:548،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۳۷۲هـ .
[17] المجروحين:2/313،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة1412هـ .
[18] الضعفاء والمتروكين لابن الجوزي:3/109،رقم:3257،ت:عبد الله القاضي،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى 1406هـ .
[19] الكامل في ضعفاء:۷/۵۵۳،رقم:۱۷۸۰،ت:عادل أحمد عبد الموجود وعلي محمد معوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت .
[20] ميزان الاعتدال:۴/۷۵،رقم:۸۳۵۳،ت:علي محمد البجاوي،دار المعرفة ـ بيروت .
[21] سؤالات الحاكم للدارقطني في الجرح والتعديل:ص:290،رقم:529،ت:موفق بن عبد الله بن عبد القادر، مكتبة المعارف ـ الرياض،الطبعة الأولى1404هـ .
[22] تاريخ بغداد:۴/۶۹۵،رقم:۱۸۴۲،ت:بشار عواد، دار الغرب الإسلامى ـ بيروت،الطبعة الأولى1422هـ .
[23] الإرشاد في معرفة علماء الحديث:2/511،رقم:223،ت:محمد سعيد بن عمر إدريس،مكتبة الرشد ـ الرياض،الطبعة الأولى 1409هـ .
[24] تاريخ بغداد:4/6۹۵،رقم:1842،ت:بشارعواد معروف،دار الغرب الإسلامي ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴۲۲هـ .
[25] ذخيرةالحفاظ:1/415،رقم:540،ت:عبد الرحمن بن عبد الجبار الفريوائي،دار السلف ـ الرياض،الطبعة الأولى۱۴۱6هـ .
[26] بيان الوهم والايهام:3/372،رقم:1116،ت:الحسين آيت سعيد،دار طيبة ـ الرياض،الطبعة الأولى۱۴۱7هـ .
[27] تاريخ الإسلام:۶/833،رقم:530،ت:بشار عواد معروف،دار الغرب الإسلامي ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴۲۴هـ .
[28] المغني في الضعفاء:۲/۳۹۰،رقم:۶۱۱۲،ت:أبو الزهراء حازم القاضي،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴۱۸هـ .
[29] تذكرة الحفاظ:2/144 ،رقم:645،ت:زكريا عميرات،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴۱8هـ .
[30] المعين في طبقات المحدثين:ص:101،رقم:1152،ت:همام عبد الرحيم سعيد،دار الفرقان ـ عمان، الطبعة الأولى۱۴04هـ .
[31] ميزان الاعتدال:۴/۷۴،رقم:۸۳۵۳،ت:علي محمد البجاوي،دار المعرفة ـ بيروت .
[32] البداية والنهاية:2/545،ت:عبد الله بن عبد المحسن التركي،دار هجرـ مصر،الطبعة الأولى1417هـ .
[33] جلاء الأفهام في فضل الصلاة على محمد خير الأنام:۱/337،ت: شعيب الأرناؤوط وعبد القادر الأرناؤوط، دار العروبة ـ الكويت،الطبعة الثانية۱۴07هـ .
[34] توضيح المشتبة:9/65،ت:محمد نعيم العرقسوسي،مؤسسة الرسالة ـ بيروت .
[35] انظر مجموعة رسائل الحافظ العلائي:ص:43،ت:وائل محمد بكر زهران،الفاروق الحديثة ـ القاهرة، الطبعة الأولى1429هـ .
[36] البدر المنير:۳/۵۹۰،ت:أبومحمد عبد الله بن سلمان، دار الهجرة ـ الرياض،الطبعة الأولى۱۴۲5هـ .
[37] لسان المیزان:۹/۴۱۹،رقم:2612،ت:عبد الفتاح أبو غدة،دار البشائر الإسلامية ـ بيروت،الطبعة الأولى 1423هـ .
[38] مغاني الأخيار:3/4۴۴،رقم:۳۹۱۰،ت:محمد حسن محمد حسن إسماعيل،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى1427هـ .
[39] طبقات الحفاظ:ص:269،رقم:603،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية1414هـ .
[40] تنزيه الشريعة:1/116،رقم:313،ت:عبد الوهاب عبد اللطيف وعبد الله محمد الصديق،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية۱۴01هـ .