التحقحق المنیف - "التحقيق المنيف في دراسة الشرط المتفق عليه للحديث الضعيف نظرة على كتبه فضيلة الشيخ محمد عوامة حفظه الله حول حكم العمل بالحديث الضعيف" منظر عام پر آچکی ہے، ورق گردانی/ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے اسی ویب سائٹ پر "کتابیں ڈاؤنلوڈ کریں" پر کلک کریں۔ - برائے مہربانی کسی بھی قسم کی معلومات یا استفسار کے لیے مندرجہ ذیل نمبر پر رابطہ کریں: 3210056-0342

راوی

ابو علی محمد بن ہارون بن شعیب انصاری

المتوفی ۳۵۳ھایک روایت میں تذکرہ

ابو علی محمد بن ہارون بن شعیب انصاری کے بارے میں ائمۂ جرح و تعدیل کے اقوال، جیسے وہ ذیل کی روایات کی تحقیق میں نقل کیے گئے ہیں۔

سند میں موجود راوی ابو علی محمد بن ہارون بن شعیب انصاری (المتوفی ۳۵۳ھ) کے بارے میں ائمہ رجال کا کلام

حافظ ابن عساکر l نے ’’تاريخ دمشق‘‘[74] میں محمد بن ہارون انصاری کو ’’وليس بالمتقن‘‘ کہا ہے۔

حافظ ابو محمد عبد العزیز کتانیl ، محمد بن ہارون انصاری کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’ كان يتهم‘‘[75]. وہ متہم تھا۔

حافظ ذہبی l نے ’’میزان الاعتدال‘‘[76] ، ’’ديوان الضعفاء‘‘[77]، اور ’’العبر‘‘[78] میں حافظ عبد العزیز l کے قول پر اعتماد کیا ہے۔

حافظ ابن حجر عسقلانی l ’’لسان المیزان‘‘[79] میں حافظ ذہبی l کی عبارت نقل کرنے کے بعد فرماتے ہیں: ’’قلت: وقد وجدت له حديثا منكرا، أخرجه تمام في فوائده عنه‘‘. میں کہتا ہوں کہ مجھے اس کی ایک منکر حدیث ملی ہے، جسے تمام نے اپنی ’’فوائد‘‘ میں اس سے روایت کیا ہے۔۔۔‘‘۔

اس کے بعد حافظ ابن حجر عسقلانی l نے وہ روایت نقل کی ہے[80]۔

حوالہ جات

[74] تاريخ مدينة دمشق:۷۳/۲۴۶،رقم:۹۹۸۵،ت:محب الدين أبي سعيد عمر بن غرامة العمروي،دار الفكر ـ  بيروت،الطبعة1415هـ .

[75] ميزان الاعتدال:4/57،رقم:8279،ت:علي محمد البجاوي،دار المعرفة ـ بيروت .

[76] ميزان الاعتدال:۴/۵۷،رقم:۸۲۷۹،ت:علي محمد البجاوي،دار المعرفة ـ بيروت .

[77] ديوان الضعفاء:ص:378،رقم:4021،ت:حماد بن محمد الأنصاری،مطبعة النهضة الحديثية ـ مكة المكرمة، الطبعة1387 .

[78] العبر في خبر من غبر:2/93،رقم:353،ت:أبو هاجر محمد السعيد بن بسيوني زغلول،دار الكتب العلمية ـ بيروت، الطبعة الأولى1405 .

[79] لسان الميزان:۷/۵۵۸،رقم:۷۵۱۷،ت:عبد الفتاح أبو غدة،دار البشائر ـ بيروت،الطبعة الأولى1423هـ .

[80] حافظ ابن حجر عسقلانی l کی مکمل عبارت ملاحظہ ہو: ’’قلت: وقد وجدت له حديثا منكرا، أخرجه تمام في فوائده عنه، عن أبي خليفة، عن القعنبي، عن سلمة بن وردان، عن أنس رفعه: إن لله عبادا اختصهم لقضاء حوائج الناس، آلى على نفسه أن لا يعذبهم بالنار، فإذا كان يوم القيامة خلوا مع الله يحدثهم ويحدثونه والناس في الحساب، وسلمة وإن كان ضعيفا، لايحتمل مثل هذا، والله أعلم، وذكر أنه ولد سنة ست وستين ومئتين‘‘.

پوری روایت اور اس کا حکم دیکھیں

یہ متن کتاب کی تحقیق کا حصہ ہے اور بعینہٖ نقل کیا گیا ہے؛ روایت کا حکم جاننے کے لیے پوری تحقیق دیکھیں۔

انہی روایات کے دیگر رواۃ

تمام رواۃ