اس روایت کی تحقیق سے
روایت: ’’رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اے علی! اللہ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں ابو بکر r کو والد، عمر r کو مشیر، عثمان r کو سند وحجت اورتجھے مددگار بناؤں، تم چار ہو، اللہ نے لوح محفوظ میں عہد لیا ہے کہ تم سے صرف متقی مؤمن ہی محبت کر سکے گا، تم سے بغض رکھنے والا بد بخت منافق ہو گا، تم چاروں خلف رشید ہو، اور میری ذمہ داریوں کی مضبوطی ہو، اور میری امت پر حجت ہو‘‘۔
غیر معتبر روایات کا فنی جائزہ (حصہ دہم)سند میں موجود راوی ابو علی محمد بن ہارون بن شعیب انصاری (المتوفی ۳۵۳ھ) کے بارے میں ائمہ رجال کا کلام
حافظ ابن عساکر l نے ’’تاريخ دمشق‘‘[74] میں محمد بن ہارون انصاری کو ’’وليس بالمتقن‘‘ کہا ہے۔
حافظ ابو محمد عبد العزیز کتانیl ، محمد بن ہارون انصاری کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’ كان يتهم‘‘[75]. وہ متہم تھا۔
حافظ ذہبی l نے ’’میزان الاعتدال‘‘[76] ، ’’ديوان الضعفاء‘‘[77]، اور ’’العبر‘‘[78] میں حافظ عبد العزیز l کے قول پر اعتماد کیا ہے۔
حافظ ابن حجر عسقلانی l ’’لسان المیزان‘‘[79] میں حافظ ذہبی l کی عبارت نقل کرنے کے بعد فرماتے ہیں: ’’قلت: وقد وجدت له حديثا منكرا، أخرجه تمام في فوائده عنه‘‘. میں کہتا ہوں کہ مجھے اس کی ایک منکر حدیث ملی ہے، جسے تمام نے اپنی ’’فوائد‘‘ میں اس سے روایت کیا ہے۔۔۔‘‘۔
اس کے بعد حافظ ابن حجر عسقلانی l نے وہ روایت نقل کی ہے[80]۔
حوالہ جات
[74] تاريخ مدينة دمشق:۷۳/۲۴۶،رقم:۹۹۸۵،ت:محب الدين أبي سعيد عمر بن غرامة العمروي،دار الفكر ـ بيروت،الطبعة1415هـ .
[75] ميزان الاعتدال:4/57،رقم:8279،ت:علي محمد البجاوي،دار المعرفة ـ بيروت .
[76] ميزان الاعتدال:۴/۵۷،رقم:۸۲۷۹،ت:علي محمد البجاوي،دار المعرفة ـ بيروت .
[77] ديوان الضعفاء:ص:378،رقم:4021،ت:حماد بن محمد الأنصاری،مطبعة النهضة الحديثية ـ مكة المكرمة، الطبعة1387 .
[78] العبر في خبر من غبر:2/93،رقم:353،ت:أبو هاجر محمد السعيد بن بسيوني زغلول،دار الكتب العلمية ـ بيروت، الطبعة الأولى1405 .
[79] لسان الميزان:۷/۵۵۸،رقم:۷۵۱۷،ت:عبد الفتاح أبو غدة،دار البشائر ـ بيروت،الطبعة الأولى1423هـ .
[80] حافظ ابن حجر عسقلانی l کی مکمل عبارت ملاحظہ ہو: ’’قلت: وقد وجدت له حديثا منكرا، أخرجه تمام في فوائده عنه، عن أبي خليفة، عن القعنبي، عن سلمة بن وردان، عن أنس رفعه: إن لله عبادا اختصهم لقضاء حوائج الناس، آلى على نفسه أن لا يعذبهم بالنار، فإذا كان يوم القيامة خلوا مع الله يحدثهم ويحدثونه والناس في الحساب، وسلمة وإن كان ضعيفا، لايحتمل مثل هذا، والله أعلم، وذكر أنه ولد سنة ست وستين ومئتين‘‘.