التحقحق المنیف - "التحقيق المنيف في دراسة الشرط المتفق عليه للحديث الضعيف نظرة على كتبه فضيلة الشيخ محمد عوامة حفظه الله حول حكم العمل بالحديث الضعيف" منظر عام پر آچکی ہے، ورق گردانی/ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے اسی ویب سائٹ پر "کتابیں ڈاؤنلوڈ کریں" پر کلک کریں۔ - برائے مہربانی کسی بھی قسم کی معلومات یا استفسار کے لیے مندرجہ ذیل نمبر پر رابطہ کریں: 3210056-0342

راوی

ابو حفص عمر بن احمد بن علی بن ابراہیم بغدادی

ایک روایت میں تذکرہ

ابو حفص عمر بن احمد بن علی بن ابراہیم بغدادی کے بارے میں ائمۂ جرح و تعدیل کے اقوال، جیسے وہ ذیل کی روایات کی تحقیق میں نقل کیے گئے ہیں۔

سند میں موجود راوی ابو حفص عمر بن احمد بن علی بن ابراہیم بغدادی کے بارے میں ائمہ کے اقوال

حافظ خطیب بغدادی l ’’تاريخ بغداد‘‘[30] میں ابو حفص بغدادی کے ترجمہ میں فرماتے ہیں: ’’روى علي بن عبد الله بن جهضم الهمذاني عنه، عن أحمد بن حرب المعدل صاحب القعنبي، وعن يوسف بن يعقوب القاضي حديثين منكرين‘‘. اس نے علی بن عبد اللہ بن جہضم ہمذانی عنہ، عن احمد بن حرب معدل، صاحبِ قعنبی سے روایت کی ہے، اور اس نے یوسف بن یعقوب قاضی سے دو منکر حدیثیں روایت کی ہیں۔

حافظ ابن قیسرانی l فرماتے ہیں:’’روى عن الثقات الموضوعات‘‘[31]. اس نے ثقات کے انتساب سے من گھڑت روایات نقل کی ہیں۔

حافظ ابن جوزی l نے ’’الضعفاء‘‘[32] میں حافظ ابن قیسرانی l کے قول پر اکتفاء کیا ہے۔

حافظ ابن نجار بغدادی l ’’ذيل تاريخ بغداد‘‘[33]میں عمر بن احمد بغدادی کے ترجمہ میں فرماتے ہیں:’’وكان ضعيفا، عامة حديثه مناكير وغرائب‘‘. عمر بن احمد ضعیف ہے، ان کی حدیث عام طور پر منکر اور غریب ہوتی ہیں۔

اس کے بعد حافظ ابن نجار بغدادی l نے زیرِ بحث روایت تخریج  کی ہے، پھر ایک اور حدیث تخریج کی، پھر فرماتے ہیں: ’’وهذا الحديث رواته كلهم ثقات، والحمل فيه على عمر بن أحمد البغدادي، فإنه منكر المتن‘‘[34]. اس حدیث کے تمام راوی ثقہ ہیں، اور اس میں ’’حمل‘‘ عمر بن احمد بغدادی پر ہے، کیوں کہ یہ منکر المتن ہے۔

حافظ ذہبیl ’’ميزان الاعتدال‘‘[35] میں فرماتے ہیں:’’عمر بن أحمد بن علي البغدادي، نزيل البصرة عن الكديمي ويوسف القاضي، وعنه علي بن عبد كويه بموضوعات، أنا أتهمه بها، منها في فضل أبي بكر‘‘. عمر بن احمد بن علی بغدادی نے بصرہ میں رہائش اختیار کی تھی، اس نے کدیمی اور یوسف قاضی سے روایت کی ہے، اور اس سے علی بن عبد کویہ نے من گھڑت احادیث روایت کی ہیں، میں ان میں عمر بن احمد کو متہم سمجھتا ہوں، ان میں ایک حدیث ابو بکر r کی فضیلت کے بارے میں بھی ہے۔

حوالہ جات

[30] تاريخ بغداد:1۳/۹۹،رقم:۵۹۴۶،ت:بشارعواد معروف،دار الغرب الإسلامي ـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴۲۲هـ .

[31]الضعفاء والمتروکین:۲/205،رقم:2438،ت:عبدالله القاضی،دار الکتب العلمیة ـ  بیروت،الطبعة الأولى۱۴06هـ .

[32]الضعفاء والمتروکین:۲/205،رقم:2438،ت:عبدالله القاضی،دار الکتب العلمیة ـ  بیروت،الطبعة الأولى۱۴06هـ .

[33] ذيل تاريخ بغداد:۲۰/۱۶،رقم:1110ت:مصطفى عبد القادر عطا،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية ۱۴25هـ .

[34] ذيل تاريخ بغداد:۲۰/۱7،رقم:1110ت:مصطفى عبد القادر عطا،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعةالثانية ۱۴25هـ .

[35] میزان الاعتدال:3/1۹۱،رقم:۵۷۳۸،ت:محمد بركات،الرسالة العالمية ـ دمشق،الطبعة الأولى1430هـ   .

پوری روایت اور اس کا حکم دیکھیں

یہ متن کتاب کی تحقیق کا حصہ ہے اور بعینہٖ نقل کیا گیا ہے؛ روایت کا حکم جاننے کے لیے پوری تحقیق دیکھیں۔

انہی روایات کے دیگر رواۃ

تمام رواۃ