اس روایت کی تحقیق سے
روایت: ’’رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اے علی! اللہ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں ابو بکر r کو والد، عمر r کو مشیر، عثمان r کو سند وحجت اورتجھے مددگار بناؤں، تم چار ہو، اللہ نے لوح محفوظ میں عہد لیا ہے کہ تم سے صرف متقی مؤمن ہی محبت کر سکے گا، تم سے بغض رکھنے والا بد بخت منافق ہو گا، تم چاروں خلف رشید ہو، اور میری ذمہ داریوں کی مضبوطی ہو، اور میری امت پر حجت ہو‘‘۔
غیر معتبر روایات کا فنی جائزہ (حصہ دہم)سند میں موجود راوی ابو حفص عمر بن احمد بن علی بن ابراہیم بغدادی کے بارے میں ائمہ کے اقوال
حافظ خطیب بغدادی l ’’تاريخ بغداد‘‘[30] میں ابو حفص بغدادی کے ترجمہ میں فرماتے ہیں: ’’روى علي بن عبد الله بن جهضم الهمذاني عنه، عن أحمد بن حرب المعدل صاحب القعنبي، وعن يوسف بن يعقوب القاضي حديثين منكرين‘‘. اس نے علی بن عبد اللہ بن جہضم ہمذانی عنہ، عن احمد بن حرب معدل، صاحبِ قعنبی سے روایت کی ہے، اور اس نے یوسف بن یعقوب قاضی سے دو منکر حدیثیں روایت کی ہیں۔
حافظ ابن قیسرانی l فرماتے ہیں:’’روى عن الثقات الموضوعات‘‘[31]. اس نے ثقات کے انتساب سے من گھڑت روایات نقل کی ہیں۔
حافظ ابن جوزی l نے ’’الضعفاء‘‘[32] میں حافظ ابن قیسرانی l کے قول پر اکتفاء کیا ہے۔
حافظ ابن نجار بغدادی l ’’ذيل تاريخ بغداد‘‘[33]میں عمر بن احمد بغدادی کے ترجمہ میں فرماتے ہیں:’’وكان ضعيفا، عامة حديثه مناكير وغرائب‘‘. عمر بن احمد ضعیف ہے، ان کی حدیث عام طور پر منکر اور غریب ہوتی ہیں۔
اس کے بعد حافظ ابن نجار بغدادی l نے زیرِ بحث روایت تخریج کی ہے، پھر ایک اور حدیث تخریج کی، پھر فرماتے ہیں: ’’وهذا الحديث رواته كلهم ثقات، والحمل فيه على عمر بن أحمد البغدادي، فإنه منكر المتن‘‘[34]. اس حدیث کے تمام راوی ثقہ ہیں، اور اس میں ’’حمل‘‘ عمر بن احمد بغدادی پر ہے، کیوں کہ یہ منکر المتن ہے۔
حافظ ذہبیl ’’ميزان الاعتدال‘‘[35] میں فرماتے ہیں:’’عمر بن أحمد بن علي البغدادي، نزيل البصرة عن الكديمي ويوسف القاضي، وعنه علي بن عبد كويه بموضوعات، أنا أتهمه بها، منها في فضل أبي بكر‘‘. عمر بن احمد بن علی بغدادی نے بصرہ میں رہائش اختیار کی تھی، اس نے کدیمی اور یوسف قاضی سے روایت کی ہے، اور اس سے علی بن عبد کویہ نے من گھڑت احادیث روایت کی ہیں، میں ان میں عمر بن احمد کو متہم سمجھتا ہوں، ان میں ایک حدیث ابو بکر r کی فضیلت کے بارے میں بھی ہے۔
حوالہ جات
[30] تاريخ بغداد:1۳/۹۹،رقم:۵۹۴۶،ت:بشارعواد معروف،دار الغرب الإسلامي ـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴۲۲هـ .
[31]الضعفاء والمتروکین:۲/205،رقم:2438،ت:عبدالله القاضی،دار الکتب العلمیة ـ بیروت،الطبعة الأولى۱۴06هـ .
[32]الضعفاء والمتروکین:۲/205،رقم:2438،ت:عبدالله القاضی،دار الکتب العلمیة ـ بیروت،الطبعة الأولى۱۴06هـ .
[33] ذيل تاريخ بغداد:۲۰/۱۶،رقم:1110ت:مصطفى عبد القادر عطا،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية ۱۴25هـ .
[34] ذيل تاريخ بغداد:۲۰/۱7،رقم:1110ت:مصطفى عبد القادر عطا،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعةالثانية ۱۴25هـ .
[35] میزان الاعتدال:3/1۹۱،رقم:۵۷۳۸،ت:محمد بركات،الرسالة العالمية ـ دمشق،الطبعة الأولى1430هـ .