اس روایت کی تحقیق سے2 میں سے 1
روایت: ’’رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’ كم من حوراء عيناء ما كان مهرها إلا قبضة من حنطة، ومثلها من تمر‘‘. کتنی حوریں ایسی ہیں جن کا مہر ایک مٹھی بھر گندم یا اتنی مقدار کھجور دینا ہے‘‘۔
غیر معتبر روایات کا فنی جائزہ (بارہواں حصہ)سند میں موجود راوی ابو نعیم عمر بن صُبْح بن عمران تیمی خراسانی سمرقندی کے بارے میں ائمہ رجال کا کلام
امام اسحاق بن راہویہ l فرماتے ہیں: ’’أخرجت خراسان ثلاثة لم يكن لهم في الدنيا نظير في البدعة والكذب: جهم بن صفوان، وعمر بن الصُبْح، ومقاتل بن سليمان‘‘[25]. خراسان نے تین ایسے افراد ظاہر کئے جن کی مثال دنیا میں بدعت اور جھوٹ میں نہیں: جہم بن صفوان، عمر بن صُبْح اور مقاتل بن سلیمان۔
حافظ ابن برقیl نے ’’التمييز‘‘[26] میں عمر بن صُبْح کو ’’ليس بثقة‘‘ کہا ہے۔
امام بخاری l ’’التاريخ الصغير‘‘[27] میں یحیی یشکری سے علی بن جریر کا یہ قول نقل کرتے ہیں: ’’سمعت عمر بن صُبْح يقول: أنا وضعت خطبة النبي صلى الله عليه وسلم‘‘. میں نے عمر بن صُبْح کو کہتے ہوئے سنا ہے کہ نبی ﷺ کا خطبہ میں نے گھڑا ہے۔
حافظ ابو حاتم l نے عمر بن صُبْح کو ’’منكر الحديث‘‘ کہا ہے[28]۔
امام نسائی l نے عمر بن صُبْح کو ’’ليس بثقة‘‘ کہا ہے[29]۔
حافظ ابن حبان l ’’المجروحين‘‘ [30] میں فرماتے ہیں: ’’ كان ممن يضع الحديث على الثقات، لا يحل كتابة حديثه إلا على جهة التعجب لأهل الصناعة فقط‘‘. یہ ان لوگوں میں سے ہے جو ثقہ راویوں پر حدیث گھڑتے تھے، اس کی حدیث کو لکھنا حلال نہیں ہے سوائے تعجب کے، صرف اہلِ صناعت کےلئے۔
حافظ ابن عدی l ’’الكامل‘‘[31] میں فرماتے ہیں: ’’منكر الحديث، عن مقاتل بن حيان وغيره‘‘. منکر الحدیث ہے، مقاتل بن حیان اور ان کے علاوہ سے حدیثیں نقل کرتا ہے۔
حافظ ابن عدی l مزید فرماتے ہیں: ’’ولعمر بن صُبْح غير ما ذكرت من الحديث، وعامة ما يرويه غير محفوظ لا متنا، ولا إسنادا‘‘[32].عمر بن صُبْح کی میری ذکر کردہ احادیث کے علاوہ بھی احادیث موجود ہیں، اس کی اکثر روایات محفوظ نہیں ہیں نہ متن کے لحاظ سے اور نہ ہی سند کے لحاظ سے۔
حافظ دار قطنیl نے اپنی ’’سنن‘‘[33] میں ایک حدیث کے تحت عمر بن صُبْح کو ’’متروک‘‘کہا ہے۔
حافظ احمد بن علی سلیمانی l فرماتے ہیں: ’’عمر بن صُبْح الذي وضع آخر خطبة النبي صلى الله عليه وسلم‘‘[34]. عمر بن صُبْح وہ شخص ہے کہ جس نے نبی ﷺ کا آخری خطبہ گھڑا تھا۔
امام ابو عبد اللہ حاکم نیشاپوریl ’’المدخل‘‘[35] میں عمر بن صُبْح کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’روى عن قتادة ومقاتل بن حيان أحاديث موضوعة‘‘. قتادہ اور مقاتل بن حیان کے انتساب سے من گھڑت احادیث نقل کرتا ہے۔
حافظ ابونعیم اصبہانیl ’’المسند المستخرج‘‘[36] میں فرماتے ہیں: ’’عمر بن صُبْح عن قتادة ومقاتل الموضوعات‘‘.عمر بن صُبْح، قتادہ اور مقاتل کے انتساب سے من گھڑت احادیث نقل کرتا ہے۔
حافظ ازدی l نے عمر بن صُبْح کو ’’ كذاب‘‘کہا ہے[37]۔
حافظ عبد الحق اشبیلیl نے’’الأحكام الوسطى‘‘[38]میں عمر بن صُبْح کو ’’متروک‘‘ کہا ہے۔
حافظ ذہبی l نے ’’ميزان الاعتدال‘‘[39] میں عمر بن صُبْح کو ’’ ليس بثقة ولا مأمون‘‘کہا ہے۔
حافظ ذہبیl ’’المغني‘‘[40] میں فرماتے ہیں: ’’هالك، اعترف بوضع الحديث‘‘. ہالک ہے، اس نے حدیث گھڑنے کا اعتراف کیا ہے۔
حافظ ابن کثیرl ’’البداية‘‘[41] میں عمر بن صُبْح کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’هذا متروك، كذاب، متهم بالوضع‘‘. یہ متروک، کذاب، متہم بالوضع ہے۔
حافظ ابن ملقن l ’’البدر المنير‘‘[42] میں ایک روایت کے تحت عمر بن صُبْح کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’ كذاب، اعترف بالوضع‘‘. کذاب ہے، اس نے جھوٹ کا اعتراف کیا ہے۔
حافظ ابن ناصر الدین دمشقی l ’’جامع الآثار‘‘[43] میں ایک روایت کے تحت عمر بن صُبْح کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’وهو هالك، وامرئ اعترف على نفسه بالوضع‘‘. اور یہ ہالک ہے، اور یہ ایسا شخص ہے جس نے بذاتِ خود گھڑنے کا اعتراف کیا ہے۔
حافظ ابن حجرعسقلانی l ’’تقريب التهذيب‘‘[44] میں فرماتے ہیں: ’’متروك، كذبه ابن راهويه‘‘. یہ متروک ہے، ابن راہویہ l نے اس کو جھوٹا کہا ہے۔
علامہ سبط ابن عجمی l نے ’’الكشف الحثيث‘‘[45] میں عمر بن صُبْح کو متہم بالوضع راویوں کی فہرست میں شامل کرکے حافظ ابن حبان l اور حافظ احمد بن علی سلیمانی l کا قول نقل کیا ہے۔
علامہ ابن عراق l ’’تنزيه الشريعة‘‘[46] میں عمر بن صُبْح کو وضاعین ومتہمین کی فہرست میں شمار کر کے فرماتے ہیں: ’’ كذاب، اعترف بالوضع‘‘. کذاب ہے، اس نے جھوٹ کا اعتراف کیا ہے۔
حوالہ جات
[25] تهذيب التهذيب:7/463،رقم:771،دائرة المعارف ـ الهند،الطبعة الأولى132۷هـ .
[26] تمييز ثقات المحدثين وضعفائهم وأسمائهم وكناهم:ص:۷۱،رقم:۲۳۴،ت:عامر حسن صبري التميمي، دار البشائر الإسلامية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴31هـ .
[27] التاريخ الصغير:2/۱۹۲،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة الأولى1406هـ .
[28] الجرح والتعديل:۶/۱۱۶،رقم:۶۲۹،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۳۷۲هـ .
[29] انظر الكنى والأسماء:3/1094،رقم:1914،ت:أبو قتيبة نظر محمد الفاريابي،دار ابن حزم ـ بيروت،الطبعة الأولى1421هـ .
[30] المجروحين من المحدثين:2/88 ،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة1412هـ .
[31] الكامل في ضعفاء الرجال:6/47،رقم:1197،ت:عادل أحمد عبد الموجود وعلی محمد معوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت .
[32] الكامل في ضعفاء الرجال:6/۵۱،رقم:1197،ت:عادل أحمد عبد الموجود وعلی محمد معوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت .
[33] سنن الدار قطني:۲/۴۰۵،رقم:۱۷۶۹،ت:شعيب الأرنؤوط،مؤسسة الرسالة ـ بيروت،الطبعة الأولى1424هـ .
[34] ميزان الاعتدال:۳/۲۰۷،رقم:۶۱۴۷،ت:علی محمد البجاوی،دار المعرفة ـ بيروت .
[35] المدخل إلى الصحيح:ص:۱۶۳،رقم:۱۱۳،ت:ربيع بن هادي عمير المدخلي،مؤسسة الرسالة ـ بيروت،الطبعة الأولى1404هـ .
[36] المسند المستخرج على صحيح مسلم:1/۷۴،رقم:۱۵۲،ت:محمد حسن محمد حسن إسماعيل،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى1417هـ .
[37] ميزان الاعتدال:۳/۲۰۷،رقم:۶۱۴۷،ت:علی محمد البجاوی،دار المعرفة ـ بيروت .
[38] الأحكام الوسطى من حديث النبي صلى الله عليه وسلم:1/۱61،ت:حمدي السلفي، وصبحي السامرائي، مكتبة الرشد ـ الرياض،الطبعة۱۴16هـ .
[39] ميزان الاعتدال:۳/۲۰6،رقم:۶۱۴۷،ت:علی محمد البجاوی،دار المعرفة ـ بيروت .
[40] المغني في الضعفاء:۲/۱۲۰،رقم:۴۴۹۴،ت:أبو الزهراء حازم القاضي،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴۱۸هـ .
[41] البداية والنهاية:۳/۴۱۴،ت:عبد الله بن عبد المحسن التركي،دار هجر ـ مصر،الطبعة الأولى141۹هـ .
[42] البدر المنير:۱/۴۲۷،ت:أبو محمد عبد الله بن سلمان،دار الهجرة ـ الرياض،الطبعة الأولى۱۴۲5هـ .
[43] جامع الآثار في السير ومولد المختار:۲/۹۹۲،ت:حسين محمد علي شكري،دار الكتب العلمية ـ بيروت، الطبعة الأولى2010ء .
[44]تقريب التهذيب:ص:۴۱۴،رقم:۴۹۲۲،ت:محمد عوامة،دار الرشيد ـ سوريا،الطبعة الثالثة1411هـ .
[45] الكشف الحثيث عمن رمي بوضع الحديث:ص:۱۹۷،رقم:۵۴۹،ت:صبحي السامرائي،مكتبة النهضة العربية ـ بيروت،الطبعة الأولى1407هـ .
[46] تنزيه الشريعة:۱/۹۱،رقم:۳۷۵،ت:عبد الوهاب عبد اللطيف،عبد الله محمد الصديق الغماري،دار الكتب العلمية ـ بيروت، الطبعة الثانية۱۴۰۱هـ .