التحقحق المنیف - "التحقيق المنيف في دراسة الشرط المتفق عليه للحديث الضعيف نظرة على كتبه فضيلة الشيخ محمد عوامة حفظه الله حول حكم العمل بالحديث الضعيف" منظر عام پر آچکی ہے، ورق گردانی/ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے اسی ویب سائٹ پر "کتابیں ڈاؤنلوڈ کریں" پر کلک کریں۔ - برائے مہربانی کسی بھی قسم کی معلومات یا استفسار کے لیے مندرجہ ذیل نمبر پر رابطہ کریں: 3210056-0342

راوی

ابو علی محمد بن یعلی ثقفی کوفی زُنْبُور

المتوفی ۲۰۵ھایک روایت میں تذکرہ

ابو علی محمد بن یعلی ثقفی کوفی زُنْبُور کے بارے میں ائمۂ جرح و تعدیل کے اقوال، جیسے وہ ذیل کی روایات کی تحقیق میں نقل کیے گئے ہیں۔

سند میں موجود راوی ابو علی محمد بن یعلی ثقفی کوفی زُنْبُور (المتوفی ۲۰۵ھ) کے بارے میں ائمہ رجال کا کلام

حافظ ابو کریب محمد بن علاء ہمدانی l نے محمد بن یعلی کو ’’ ثقة‘‘ کہا ہے[47]۔

حافظ ذہبی l ’’ميزان الاعتدال‘‘[48] میں فرماتے ہیں: ’’وشذ أبو كريب فروى عنه، وقال: ثقة‘‘. ابو کریب l نے شذوذ اختیار کیا ہے کہ انہوں نے محمد بن یعلی سے روایت کی ہے، اور اس کے بارے میں کہا کہ وہ ثقہ تھا۔

امام بخاریl ’’التاريخ الصغير‘‘[49] اور ’’الضعفاء‘‘[50] میں فرماتے ہیں: ’’يتكلمون فيه‘‘. محدثین نے اس کے بارے میں کلام کیا ہے۔

امام بخاریl ہی ’’التاريخ الكبير‘‘[51] میں محمد بن یعلی کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’يتكلم فيه‘‘. اس کے بارے میں کلام ہوا ہے۔

حافظ عجلی l ’’معرفة الثقات‘‘[52] میں محمد بن یعلی کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’ كتبت عنه، ترك الناس حديثه، ويقال: إنه جهمي‘‘. میں نے اس سے لکھا ہے، محدثین نے اس کی حدیث کو ترک کردیا تھا، اور کہا جاتا ہے کہ یہ جہمی ہے۔

حافظ ابو حاتم l نے محمد بن یعلی کو ’’متروك الحديث‘‘ کہا ہے[53]۔

حافظ ابن ابی حاتمl ’’الجرح والتعديل‘‘[54] میں فرماتے ہیں: ’’وروى عن موسى بن عبيدة، سمع منه أحمد بن سنان، وترك الرواية عنه‘‘. اس نے موسی بن عبیدہ سے روایت کی ہے، اور احمد بن سنان نے اس سے سنا ہے، اور اس سے روایت کو ترک کر دیا ہے۔

امام نسائی l نے محمد بن یعلی کو ’’ليس بثقة‘‘ کہا ہے[55]۔

حافظ ابو یحیی زکریا بن یحیی ساجی l ، محمد بن یعلی کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’منكر الحديث، يتكلمون فيه‘‘[56]. یہ منکر الحدیث ہے، محدثین نے اس کے بارے میں کلام کیا ہے۔

حافظ ابن حبان l ’’المجروحين‘‘ [57] میں فرماتے ہیں: ’’ كان ممن يخطئ، حتى يجيء بما يحدث به مقلوبا، فإذا سمعه من الحديث صناعته علم أنه معمول أو مقلوب، فلا يجوز الاحتجاج به فيما خالف الثقات من الروايات، ولا فيما انفرد، وإن لم يخالف الأثبات‘‘. یہ خطاء کرنے والوں میں سے تھا، حتی کہ اپنی بیان کردہ حدیث میں مقلوب لاتا تھا، سو حدیث جس کی صناعت ہو وہ اسے سن کر جان لیتا ہے کہ یہ بنائی گئی ہے، یا مقلوب ہے، چنانچہ روایات میں ثقات کی مخالفت کی صورت میں اس سے احتجاج جائز نہیں ہے، اور نہ ہی اس کی انفراد والی روایت سے، اگرچہ وہ اس میں اثبات کی مخالفت نہ کرے۔

حافظ ابن عدی l ’’الكامل‘‘[58] میں محمد بن یعلی کی چند روایات تخریج کرکے فرماتے ہیں: ’’ولمحمد بن يعلى أحاديث يروي عن عمرو بن صبيح [ كذا في الأصل، والصحيح: عمر بن صُبْح] هذا، ويكنى أبا نعيم، عن أبي حيان، وعن مقاتل أحاديث، ويروي عن محمد بن عمرو، عن أبي سلمة، عن أبي هريرة أحاديث لا يتابع عليه‘‘. اور محمد بن یعلی کی ایسی احادیث ہیں جسے وہ اس عمر بن صُبْح سے روایت کرتا ہے، جس کی کنیت ابو نعیم ہے، جو ابو حیان اور مقاتل سے احادیث روایت کرتا ہے، نیز یہ محمد بن یعلی، محمد بن عمرو، عن ابی سلمہ، عن ابی ہریرہ r کے طریق سے ایسی احادیث روایت کرتا ہے جن میں اس کی متابعت نہیں ہوتی۔

حافظ ذہبی l ’’ميزان الاعتدال‘‘[59] میں ایک روایت کے تحت محمد بن یعلی کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’ومحمد بن يعلى واه‘‘. اور محمد بن یعلی واہی ہے۔

نیز حافظ ذہبی l نے’’تنقيح التحقيق‘‘[60] اور ’’الکاشف‘‘[61] میں محمد بن یعلی کو ’’متروك‘‘ کہا ہے۔

حافظ ابن حجرعسقلانی l نے ’’التقريب‘‘[62] میں اسے ’’ضعيف‘‘ کہا ہے۔

حوالہ جات

[47] انظر تهذيب الكمال في أسماء الرجال:27/47،رقم:5713،ت:بشار عواد معروف،مؤسسة الرسالة ـ بيروت،الطبعة الثانية۱۴07هـ .

[48]  ميزان الاعتدال:۴/۷۱،رقم:۸۳۳۹ ،ت:علی محمد البجاوی،دار المعرفة ـ  بيروت .

[49] التاريخ الصغير:2/۲۹۰،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة الأولى1406هـ .

[50] الضعفاء الصغير:ص:۱۱۰،رقم:۳۴۱،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة الأولى1406هـ .

[51] التاریخ الکبیر:۱/۲۶۵،رقم:۸۶۱ ،ت:مصطفى عبد القادر عطا،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية 1429هـ .

[52] معرفة الثقات من رجال أهل العلم والحديث ومن الضعفاء وذكر مذاهبهم وأخبارهم:2/257،رقم:1262، ت:عبد العلیم عبد العظيم البستوي،مطبعة المدني ـ مصر .

[53] الجرح والتعديل:4/۱31،رقم:587،دار الكتب العلمية ـ  بيروت،الطبعة الأولى۱۳۷۲هـ .

[54] الجرح والتعدیل:4/131،رقم:587،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۳۷2هـ .

[55] انظر تهذيب الكمال في أسماء الرجال:27/47،رقم:5713،ت:بشار عواد معروف،مؤسسة الرسالة ـ بيروت،الطبعة الثانية۱۴07هـ .

[56] تهذيب التهذيب:9/534،رقم:875 ،دائرة المعارف ـ الهند،الطبعة الأولى1325هـ .

[57] المجروحين من المحدثين:2/۲۶۷،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة1412هـ .

[58] الكامل في ضعفاء الرجال:۷/۵۲۰،رقم:۱۷۵۱،ت:عادل أحمد عبد الموجود وعلی محمد معوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت .

[59]  ميزان الاعتدال:3/207،رقم:6147،ت:علی محمد البجاوی،دار المعرفة ـ  بيروت .

[60] تنقيح التحقيق في أحاديث التعليق:1/۲۲۱،ت:مصطفى أبو الغيط عبد الحي،دار الوطن ـ الرياض،الطبعة الأولى۱۴21هـ .

[61]  الكاشف في معرفة من له رواية في الكتب الستة:۲/۲۳۲،رقم:۵۲۳۱،ت:محمدعوامة،دارالقبلة للثقافة الإسلامية ـ جده،الطبعة الأولى۱۴۱۳هـ .

[62]  تقريب التهذيب:ص:۵۱۴،رقم:۶۴۱۲،ت:محمد عوامة،دار الرشيد ـ سوريا،الطبعة الثالثة1411هـ .

پوری روایت اور اس کا حکم دیکھیں

یہ متن کتاب کی تحقیق کا حصہ ہے اور بعینہٖ نقل کیا گیا ہے؛ روایت کا حکم جاننے کے لیے پوری تحقیق دیکھیں۔

انہی روایات کے دیگر رواۃ

تمام رواۃ