اس روایت کی تحقیق سے
روایت: ایک مرتبہ آل محمدﷺ پر چار دن بھوک کی حالت میں گزرے، آپ ﷺ اللہ تعالی کی بارگاہ میں خوب گڑ گڑائے، اللہ تعالی نےحضرت عثمان r کے ذریعے وافر مقدار میں کھانا اور دیگر اشیاء بھجوائیں،پھر آپ ﷺ نے حضرت عثمان r کےلئے دعا کی: یا اللہ میں عثمانسے راضی ہوں تو بھی اس سے راضی ہوجا۔
غیر معتبر روایات کا فنی جائزہ (حصہ پنجم)2 سند میں موجود راوی محمد بن یعلی ثقفی سلمی کوفی زنبور(المتوفی 205ھ) کے بارے میں ائمہ رجال کا کلام
امام بخاری l محمد بن یعلی کے بارے میں لکھتے ہیں: ’’يتكلم فيه‘‘[23].
امام ابو حاتم l نے محمد بن یعلی کو ’’متروك الحديث‘‘ کہا ہے[24]۔
امام نسائی l نے محمد بن یعلی کو ’’ليس بثقة‘‘ کہا ہے[25]۔
حافظ خطیب بغدادی l نے اسے ’’ضعيف‘‘ کہا ہے[26]۔
حافظ ابن حبان l فرماتے ہیں: ’’كان ممن يخطئ، حتى يجيء بما يحدث به مقلوبا، فإذا سمعه من الحديث صناعته علم أنه معمول أو مقلوب، فلا يجوز الاحتجاج به فيما خالف الثقات من الروايات، ولا فيما انفرد وإن لم يخالف الأثبات‘‘[27] .
یہ ان لوگوں میں سے تھا جو غلطی کرتے تھے، یہاں تک کہ وہ مقلوب روایات بیان کرنے لگا، چنانچہ جب اہل صناعت میں سے کوئی اس کی روایت سنتا تو جان لیتا تھا کہ یہ بنائی ہوئی ہے یا مقلوب روایت ہے، چنانچہ اس کی اس روایت سے احتجاج درست نہیں جس میں اس نے ثقہ راویوں کی مخالفت کی ہے، اور نہ ہی اس روایت سے کہ جس میں یہ متفرد ہو اگرچہ وہ روایت ثبت لوگوں کے مخالف نہ ہو۔
حافظ ذہبی l ’’ميزان الاعتدال‘‘[28] میں فرماتے ہیں: ’’وشذ أبو كريب فروى عنه، وقال: كان ثقة‘‘. ابو کریبl نے شذوذ اختیار کرتے ہوئے محمد بن یعلی سے روایت کی ہے، اور محمد بن یعلی کو ثقہ کہا ہے۔
حافظ ذہبی l نے ’’ميزان الاعتدال‘‘[29] میں محمد بن یعلی کو ’’واه ‘‘، اور ’’الكاشف‘‘[30] میں ’’متروك‘‘ کہا ہے۔
حافظ ابن حجر عسقلانی l نے ’’تقريب‘‘[31] میں اسے ’’ضعيف‘‘ کہا ہے۔
حوالہ جات
[23] التاريخ الكبير:1/265،رقم:861 ،ت:مصطفى عبد القادر عطا،دار الكتب العلميةـ بيروت،الطبعة الثانية ۱۴۲۹هـ .
[24] الجرح التعديل:4/131،رقم:587،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۳۷2هـ .
[25] ميزان الاعتدال:4/71،رقم:8339 ،ت:علي محمد البجاوي،دار المعرفة ـ بيروت .
[26] ميزان الاعتدال:4/71،رقم:8339 ،ت:علي محمد البجاوي،دار المعرفة ـ بيروت .
[27] المجروحين: ۲/267،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت .
[28] ميزان الاعتدال:4/71،رقم:8339، ت:علي محمد البجاوي،دار المعرفة ـ بيروت .
[29] ميزان الاعتدال:3/207،رقم:6147،ت:علي محمد البجاوي،دار المعرفة ـ بيروت .
[30] الكاشف:2/232،رقم:5231،ت:محمد عوامة،دار القبلة للثقافة الإسلامية ـ جدة،الطبعة الأولى1413هـ .
[31] تقريب التهذيب:ص:514،رقم:6412،ت:محمد عوامة،دار الرشيد ـ حلب،الطبعة الثالثة1411هـ .