التحقحق المنیف - "التحقيق المنيف في دراسة الشرط المتفق عليه للحديث الضعيف نظرة على كتبه فضيلة الشيخ محمد عوامة حفظه الله حول حكم العمل بالحديث الضعيف" منظر عام پر آچکی ہے، ورق گردانی/ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے اسی ویب سائٹ پر "کتابیں ڈاؤنلوڈ کریں" پر کلک کریں۔ - برائے مہربانی کسی بھی قسم کی معلومات یا استفسار کے لیے مندرجہ ذیل نمبر پر رابطہ کریں: 3210056-0342

راوی

محمد بن یعلی ثقفی سلمی کوفی زنبور

المتوفی 205ھایک روایت میں تذکرہ

محمد بن یعلی ثقفی سلمی کوفی زنبور کے بارے میں ائمۂ جرح و تعدیل کے اقوال، جیسے وہ ذیل کی روایات کی تحقیق میں نقل کیے گئے ہیں۔

2 سند میں موجود راوی محمد بن یعلی ثقفی سلمی کوفی زنبور(المتوفی 205ھ) کے بارے میں ائمہ رجال کا کلام

 امام بخاری l  محمد بن یعلی کے بارے میں لکھتے ہیں:  ’’يتكلم فيه‘‘[23].

امام ابو حاتم l نے محمد بن یعلی کو  ’’متروك الحديث‘‘ کہا ہے[24]۔

امام نسائی l نے محمد بن یعلی کو  ’’ليس بثقة‘‘ کہا ہے[25]۔

حافظ خطیب بغدادی l نے اسے  ’’ضعيف‘‘ کہا ہے[26]۔

 حافظ ابن حبان l فرماتے ہیں:  ’’كان ممن يخطئ، حتى يجيء بما يحدث به مقلوبا، فإذا سمعه من الحديث صناعته علم أنه معمول أو مقلوب، فلا يجوز الاحتجاج به فيما خالف الثقات من الروايات، ولا فيما انفرد وإن لم يخالف الأثبات‘‘[27] .

یہ ان لوگوں میں سے تھا جو غلطی کرتے تھے، یہاں تک کہ وہ مقلوب روایات بیان کرنے لگا، چنانچہ جب اہل صناعت میں سے کوئی اس کی روایت سنتا تو جان لیتا تھا کہ یہ بنائی ہوئی ہے یا مقلوب روایت ہے، چنانچہ اس کی اس روایت سے احتجاج درست نہیں جس میں اس نے ثقہ راویوں کی مخالفت کی ہے، اور نہ ہی اس روایت سے کہ جس میں یہ متفرد ہو اگرچہ وہ روایت ثبت لوگوں کے مخالف نہ ہو۔

حافظ ذہبی l ’’ميزان الاعتدال‘‘[28] میں فرماتے ہیں:  ’’وشذ أبو كريب فروى عنه، وقال: كان ثقة‘‘. ابو کریبl نے شذوذ اختیار کرتے ہوئے محمد بن یعلی سے روایت کی ہے، اور محمد بن یعلی کو ثقہ کہا ہے۔

حافظ ذہبی l  نے  ’’ميزان الاعتدال‘‘[29] میں محمد بن یعلی کو ’’واه ‘‘، اور  ’’الكاشف‘‘[30] میں  ’’متروك‘‘ کہا ہے۔

حافظ ابن حجر عسقلانی l نے  ’’تقريب‘‘[31] میں اسے  ’’ضعيف‘‘ کہا ہے۔

حوالہ جات

[23] التاريخ الكبير:1/265،رقم:861 ،ت:مصطفى عبد القادر عطا،دار الكتب العلميةـ بيروت،الطبعة الثانية ۱۴۲۹هـ .

[24] الجرح التعديل:4/131،رقم:587،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۳۷2هـ .

[25] ميزان الاعتدال:4/71،رقم:8339 ،ت:علي محمد البجاوي،دار المعرفة ـ بيروت .

[26] ميزان الاعتدال:4/71،رقم:8339 ،ت:علي محمد البجاوي،دار المعرفة ـ بيروت .

[27] المجروحين: ۲/267،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت .

[28]  ميزان الاعتدال:4/71،رقم:8339، ت:علي محمد البجاوي،دار المعرفة ـ بيروت .

[29] ميزان الاعتدال:3/207،رقم:6147،ت:علي محمد البجاوي،دار المعرفة ـ بيروت .

[30] الكاشف:2/232،رقم:5231،ت:محمد عوامة،دار القبلة للثقافة الإسلامية ـ جدة،الطبعة الأولى1413هـ .

[31] تقريب التهذيب:ص:514،رقم:6412،ت:محمد عوامة،دار الرشيد ـ حلب،الطبعة الثالثة1411هـ .

پوری روایت اور اس کا حکم دیکھیں

یہ متن کتاب کی تحقیق کا حصہ ہے اور بعینہٖ نقل کیا گیا ہے؛ روایت کا حکم جاننے کے لیے پوری تحقیق دیکھیں۔

انہی روایات کے دیگر رواۃ

تمام رواۃ