التحقحق المنیف - "التحقيق المنيف في دراسة الشرط المتفق عليه للحديث الضعيف نظرة على كتبه فضيلة الشيخ محمد عوامة حفظه الله حول حكم العمل بالحديث الضعيف" منظر عام پر آچکی ہے، ورق گردانی/ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے اسی ویب سائٹ پر "کتابیں ڈاؤنلوڈ کریں" پر کلک کریں۔ - برائے مہربانی کسی بھی قسم کی معلومات یا استفسار کے لیے مندرجہ ذیل نمبر پر رابطہ کریں: 3210056-0342

راوی

عبد الکریم بن ابی المخارق ابو امیہ معلم

المتوفی 127ھایک روایت میں تذکرہ

عبد الکریم بن ابی المخارق ابو امیہ معلم کے بارے میں ائمۂ جرح و تعدیل کے اقوال، جیسے وہ ذیل کی روایات کی تحقیق میں نقل کیے گئے ہیں۔

3 سند میں موجود راوی عبد الکریم بن ابی المخارق ابو امیہ معلم (المتوفی 127ھ) کے بارے میں ائمہ رجال کا کلام

 امام ایوب سختیانی l فرماتے ہیں:  ’’لاتحمل عن عبد الكريم بن أبي أمية، فإنه ليس بشيء‘‘[32]. عبد الکریم بن امیہ سے تحمل حدیث مت کرو، کیونکہ وہ لیس بشیء ہے۔

 امام فلاس l فرماتے ہیں:  ’’ كان يحيى وابن مهدي لا يحدثان عن عبد الكريم المعلم‘‘[33]. یحیی l اور ابن مہدی l، عبد الکریم معلم سے حدیث بیان نہیں کرتے تھے۔

 امام یحیی بن معین l نے عبد الکریم کو  ’’ليس بشيء‘‘ کہا ہے[34]۔

 امام احمد بن حنبل l فرماتے ہیں:  ’’قد ضربت على حديثه، هو شبه المتروك‘‘[35] .

 امام نسائی l اور امام دارقطنی l نے اسے  ’’متروك‘‘ کہا ہے[36]۔

 حافظ ذہبی l  ’’ميزان الاعتدال‘‘[37] میں فرماتے ہیں:  ’’وقد أخرج له البخاري تعليقا، ومسلم متابعة، وهذا يدل على أنه ليس بمطرح‘‘. بخاری l تعلیقاً ان کی حدیث لائے ہیں، اور مسلم l نے متابعت میں ان کی روایت کی تخریج کی ہے، چنانچہ اس سے معلوم ہوا کہ یہ مطرح نہیں ہے۔

 حافظ ابن عبد البر l فرماتے ہیں:  ’’بصري، لا يختلفون في ضعفه، إلا أن منهم من يقبله في غير الاحكام خاصة، ولا يحتج به، وكان مؤدب كتاب، حسن السمت، غر مالكا منه سمته، ولم يكن من أهل بلده فيعرفه، كما غر الشافعي من إبراهيم ابن أبي يحيى حذقه ونباهته، وهو أيضا مجمع على ضعفه، ولم يخرج مالك عنه حكما، بل ترغيبا وفضلا‘‘[38] .

 یہ بصری ہے، ان کے ضعف میں اختلاف نہیں ہے، لیکن بعض ائمہ ان کو صرف احکام کے باب کے علاوہ ہی میں قبول کرتے ہیں، اس سے احتجاج درست نہیں ہے، وہ کاتبین کا مؤدب تھا، بظاہر اچھی حالت میں تھا، اس کی حالت سے مالک l  کو دھوکہ ہوگیا تھا، کیونکہ وہ ان کے شہر کا نہیں تھا ورنہ وہ اسے جان لیتے، جیسے شافعی l  کو ابراہیم بن ابی یحیی کی مہارت اور ان کی سمجھ سے دھوکہ ہوا، وہ بھی متفق علیہ ضعیف تھا، اور مالک l نے ان سے حکم میں  کوئی روایت تخریج نہیں کی ہے، صرف ترغیب اور فضیلت کے باب میں حدیث تخریج کی ہے۔

حوالہ جات

[32]  ميزان الاعتدال:2/646،رقم:1572،ت:علي محمد البجاوي،دار المعرفة ـ بيروت .

[33] ميزان الاعتدال:2/646،رقم:1572،ت:علي محمد البجاوي،دار المعرفة ـ بيروت .

[34]  ميزان الاعتدال:2/646،رقم:1572،ت:علي محمد البجاوي،دار المعرفة ـ بيروت .

[35] ميزان الاعتدال:2/646،رقم:1572،ت:علي محمد البجاوي،دار المعرفة ـ بيروت .

[36] ميزان الاعتدال:2/646،رقم:1572،ت:علي محمد البجاوي،دار المعرفة ـ بيروت .

[37] ميزان الاعتدال:2/646،رقم:1572،ت:علي محمد البجاوي،دار المعرفة ـ بيروت .

[38] ميزان الاعتدال:2/646،رقم:1572،ت:علي محمد البجاوي،دار المعرفة ـ بيروت .

پوری روایت اور اس کا حکم دیکھیں

یہ متن کتاب کی تحقیق کا حصہ ہے اور بعینہٖ نقل کیا گیا ہے؛ روایت کا حکم جاننے کے لیے پوری تحقیق دیکھیں۔

انہی روایات کے دیگر رواۃ

تمام رواۃ