اس روایت کی تحقیق سے
روایت: ایک مرتبہ آل محمدﷺ پر چار دن بھوک کی حالت میں گزرے، آپ ﷺ اللہ تعالی کی بارگاہ میں خوب گڑ گڑائے، اللہ تعالی نےحضرت عثمان r کے ذریعے وافر مقدار میں کھانا اور دیگر اشیاء بھجوائیں،پھر آپ ﷺ نے حضرت عثمان r کےلئے دعا کی: یا اللہ میں عثمانسے راضی ہوں تو بھی اس سے راضی ہوجا۔
غیر معتبر روایات کا فنی جائزہ (حصہ پنجم)3 سند میں موجود راوی عبد الکریم بن ابی المخارق ابو امیہ معلم (المتوفی 127ھ) کے بارے میں ائمہ رجال کا کلام
امام ایوب سختیانی l فرماتے ہیں: ’’لاتحمل عن عبد الكريم بن أبي أمية، فإنه ليس بشيء‘‘[32]. عبد الکریم بن امیہ سے تحمل حدیث مت کرو، کیونکہ وہ لیس بشیء ہے۔
امام فلاس l فرماتے ہیں: ’’ كان يحيى وابن مهدي لا يحدثان عن عبد الكريم المعلم‘‘[33]. یحیی l اور ابن مہدی l، عبد الکریم معلم سے حدیث بیان نہیں کرتے تھے۔
امام یحیی بن معین l نے عبد الکریم کو ’’ليس بشيء‘‘ کہا ہے[34]۔
امام احمد بن حنبل l فرماتے ہیں: ’’قد ضربت على حديثه، هو شبه المتروك‘‘[35] .
امام نسائی l اور امام دارقطنی l نے اسے ’’متروك‘‘ کہا ہے[36]۔
حافظ ذہبی l ’’ميزان الاعتدال‘‘[37] میں فرماتے ہیں: ’’وقد أخرج له البخاري تعليقا، ومسلم متابعة، وهذا يدل على أنه ليس بمطرح‘‘. بخاری l تعلیقاً ان کی حدیث لائے ہیں، اور مسلم l نے متابعت میں ان کی روایت کی تخریج کی ہے، چنانچہ اس سے معلوم ہوا کہ یہ مطرح نہیں ہے۔
حافظ ابن عبد البر l فرماتے ہیں: ’’بصري، لا يختلفون في ضعفه، إلا أن منهم من يقبله في غير الاحكام خاصة، ولا يحتج به، وكان مؤدب كتاب، حسن السمت، غر مالكا منه سمته، ولم يكن من أهل بلده فيعرفه، كما غر الشافعي من إبراهيم ابن أبي يحيى حذقه ونباهته، وهو أيضا مجمع على ضعفه، ولم يخرج مالك عنه حكما، بل ترغيبا وفضلا‘‘[38] .
یہ بصری ہے، ان کے ضعف میں اختلاف نہیں ہے، لیکن بعض ائمہ ان کو صرف احکام کے باب کے علاوہ ہی میں قبول کرتے ہیں، اس سے احتجاج درست نہیں ہے، وہ کاتبین کا مؤدب تھا، بظاہر اچھی حالت میں تھا، اس کی حالت سے مالک l کو دھوکہ ہوگیا تھا، کیونکہ وہ ان کے شہر کا نہیں تھا ورنہ وہ اسے جان لیتے، جیسے شافعی l کو ابراہیم بن ابی یحیی کی مہارت اور ان کی سمجھ سے دھوکہ ہوا، وہ بھی متفق علیہ ضعیف تھا، اور مالک l نے ان سے حکم میں کوئی روایت تخریج نہیں کی ہے، صرف ترغیب اور فضیلت کے باب میں حدیث تخریج کی ہے۔
حوالہ جات
[32] ميزان الاعتدال:2/646،رقم:1572،ت:علي محمد البجاوي،دار المعرفة ـ بيروت .
[33] ميزان الاعتدال:2/646،رقم:1572،ت:علي محمد البجاوي،دار المعرفة ـ بيروت .
[34] ميزان الاعتدال:2/646،رقم:1572،ت:علي محمد البجاوي،دار المعرفة ـ بيروت .
[35] ميزان الاعتدال:2/646،رقم:1572،ت:علي محمد البجاوي،دار المعرفة ـ بيروت .
[36] ميزان الاعتدال:2/646،رقم:1572،ت:علي محمد البجاوي،دار المعرفة ـ بيروت .
[37] ميزان الاعتدال:2/646،رقم:1572،ت:علي محمد البجاوي،دار المعرفة ـ بيروت .
[38] ميزان الاعتدال:2/646،رقم:1572،ت:علي محمد البجاوي،دار المعرفة ـ بيروت .