اس روایت کی تحقیق سے
روایت: ’’رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’ كم من حوراء عيناء ما كان مهرها إلا قبضة من حنطة، ومثلها من تمر‘‘. کتنی حوریں ایسی ہیں جن کا مہر ایک مٹھی بھر گندم یا اتنی مقدار کھجور دینا ہے‘‘۔
غیر معتبر روایات کا فنی جائزہ (بارہواں حصہ)سند میں موجود راوی ابو محَبَّر ابان بن محَبَّر شامی کے بارے میں ائمہ رجال کے اقوال
حافظ ابو حاتم l ، حافظ عقیلی l ، حافظ ابن حبان l ، اور حافظ ذہبی l کا کلام قریب ہی گزر چکا ہے، ان کے علاوہ دیگر ائمہ کے اقوال ملاحظہ ہوں:
حافظ ازدی l نے ابان بن محَبَّر کو ’’متروك الحديث‘‘ کہا ہے[10]۔
حافظ دارقطنی l نے ’’الضعفاء‘‘[11] میں ابان بن محَبَّر کو ’’مقل، متروك‘‘ کہا ہے۔
حافظ ہیثمیl نے ’’مجمع الزوائد‘‘[12] میں ایک روایت کے تحت ابان بن محَبَّر کو ’’متروك‘‘ کہا ہے۔
علامہ سبط ابن عجمی l نے ’’ الكشف الحثيث‘‘[13] میں ابان بن محَبَّر کو متہم بالوضع راویوں کی فہرست میں شامل کرکے حافظ ذہبی l کے قول کو نقل کیا ہے۔
علامہ ابن عراق l نے ’’تنزيه الشريعة‘‘[14] میں ابان بن محَبَّر کو وضاعین ومتہمین کی فہرست میں شمار کرکے حافظ ابن حبان l کا قول نقل کیا ہے۔
حوالہ جات
[10] ميزان الاعتدال:۱/۱۵،رقم:۱۷،ت:علی محمد البجاوی،دار المعرفة ـ بيروت .
[11] الضعفاءوالمتروكون:ص:149،رقم:106،ت:موفق بن عبد الله بن عبد القادر،مکتبة المعارف ـ الریاض، الطبعة الأولى۱۴۰۴هـ .
[12] مجمع الزوائد ومنبع الفوائد:8/164،ت:حسام الدين القدسي،دار الكتاب العربي ـ بيروت .
[13] الكشف الحثيث:ص:۳۳،رقم:۲،ت:صبحي السامرائي،مكتبة النهضة العربية ـ بيروت،الطبعة الأولى 1407هـ .
[14] تنزيه الشريعة:۱/۱۹،رقم:۴،ت:عبد الوهاب عبد اللطيف وعبد الله محمد الصديق،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية۱۴۰۱هـ .