جب تک محدثین کے نزدیک حدیث ثابت نہ ہو، ہر کتاب میں لفظ ِحدیث دیکھ کر اس کے حدیث ہونے کا یقین نہ کرو۔
تفصیل
”جب تک محدثین کے نزدیک حدیث ثابت نہ ہو، ہر کتاب میں لفظ ِحدیث دیکھ کر اس کے حدیث ہونے کا یقین نہ کرو، اور {أنا عرب بلاعین و أنا أحمد بلا میم} [میں بلا عین عرب ہوں اور بلا میم احمد ہوں] اور اسی قسم کے خرافات الفاظ کو حدیثِ رسول جاننا ضلالت ہے“[1]۔
حوالہ جات
[1] اصلاح الاغلاط والاخلاط :بست ویکم ، ص: ۱۰ ،مطبع سلیمی، الہ آباد ۔
ملتی جلتی احادیث
حدیث نقل کرنے میں بے احتیاطی
روایت: {أنا أحمد بلامیم}. میں بلا میم، احمد ہوں (معاذ اللہ )۔
یہ گھڑی ہوئی حدیث ہے۔
روایت: ”شب معراج میں حضور ﷺ کو نوے ہزار علوم عطا کئے گئے تھے، جن میں تیس ہزار خاص حضرت علی r کو عطا ہوئے ۔۔۔“، یہ گھڑی ہوئی روایت ہے۔
روایت: {أنا عرب بلا عین}. میں بلا عین، عرب ہوں ( معاذ اللہ )۔
یہ گھڑی ہوئی حدیث ہے۔
روایت: ”علم کو طلب کرو اگر چہ چین میں بھی ہو“، یہ حدیث محدثین کے نزدیک ثابت ہی نہیں۔