التحقحق المنیف - "التحقيق المنيف في دراسة الشرط المتفق عليه للحديث الضعيف نظرة على كتبه فضيلة الشيخ محمد عوامة حفظه الله حول حكم العمل بالحديث الضعيف" منظر عام پر آچکی ہے، ورق گردانی/ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے اسی ویب سائٹ پر "کتابیں ڈاؤنلوڈ کریں" پر کلک کریں۔ - برائے مہربانی کسی بھی قسم کی معلومات یا استفسار کے لیے مندرجہ ذیل نمبر پر رابطہ کریں: 3210056-0342
طائرانہ نظر
کتاب کا نام: حضرت حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی صاحب رحمۃ اللہ علیہ کا من گھڑت روایات پر تعاقب

روایت: ”شب معراج میں حضور ﷺ کو نوے ہزار علوم عطا کئے گئے تھے، جن میں تیس ہزار خاص حضرت علی r کو عطا ہوئے ۔۔۔“، یہ گھڑی ہوئی روایت ہے۔

تفصیل

”۔۔۔ بخاری میں حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے روایت ہے بعض لوگوں نے ان کے زمانے میں یہ مشہور کر دیا تھا کہ حضور ﷺ نے حضرت علی r  کو کچھ خاص علوم عطا فرمائے تھے جو دوسروں کو نہیں بتلائے گئے، غضب یہ کہ تصوف کی بعض کتابوں میں بھی لکھ دیا ہے کہ شب معراج میں حضور ﷺ کو نوے ہزار علوم عطا کئے گئے تھے : تیس ہزار تو عا م کر دئے گئے تھے، اور تیس ہزار  خواص  کو  بتلا ئے  گئے،  اور  تیس  ہزار  خاص  حضرت  علی r کو  عطا  ہوئے۔

اور اس کے متعلق ایک لمبا قصہ ہے کہ حضورﷺ نے اول حضرت ابو بکر r سے پوچھا کہ اگر ہم تم کو وہ خاص علوم بتلادیں تو تم کیا کرو گے؟ انہوں نے کہا : یا رسول اللہ! میں خوب عبادت کر وں گا اور جہاد میں کوشش کروں گا، آپ  ﷺ نے فرمایا : تم ان کے اہل نہیں (نعوذ با للہ )، پھر حضرت عمر r سے پوچھا، انہوں نے کہا کہ میں دوسروں کو ہدایت کروں گا اور کفار  پرسختی کروں گا، حضورﷺ نے فرمایا کہ تم بھی اس کے اہل نہیں، پھر حضرت عثمان rسے پوچھا اور انہوں نے بھی کچھ ایسا ہی جواب دیا،وہ بھی اہل نہ نکلے، پھر حضرت علی r سے پوچھا، انہوں نے کہا : میں مخلوق کی ستاری کروں گا، حضور ﷺ نے فرمایا : ہاں تم اہل ہو، پھر ان کو وہ تیس ہزار علوم عطا ہو ئے ۔

کسی نے خوب فرصت میں بیٹھ کر گھڑی ہے، بھلا ان سے پو چھے کہ معراج میں جو باتیں حضور ﷺ سے ہو ئی تھیں کیا تم ان کو سن رہے تھے جو تم کو ان کی  تعداد  بھی  معلوم  ہو گئی ۔

 ایک بزرگ سے کسی نے پوچھا کہ معراج میں حضور ﷺ سے حق تعالیٰ نے  کیا  باتیں  کی  تھی،  انہوں  نے  خوب  جواب  دیا:  ؎                

اَکنُوں کراد ماغ کہ پُر سد زباغبا ں                                بلبل چہ گفت وگل چہ شُنید و صبا چہ کَرد

(اب کس کا حوصلہ اور ہمت ہے کہ باغباں سے یہ پوچھے بلبل نے کیا کہا، پھول  نے  کیا  سنا، اور  صبا  نے  کیا  کہا )

غرض حضرت علی r کے متعلق لوگوں کا یہ خیال ان کی حیات ہی میں ہو گیا تھا کہ ان کو کچھ خاص علوم عطا ہوئے ہیں،جس کی وجہ یہ تھی کہ معارف وحِکم حضرت علی r کی زبان سے بہت ظاہر ہوتے تھے، اس سے لوگوں کو یہ خیال ہوا، پھر بعض نے خود حضرت علی r سے اس کو دریافت کیا : {هل خصکم رسول الله صلى الله عليه وسلم بشيء دون الناس}. کیا حضور ﷺ نے آپ کو دوسرے مسلمانوں سے الگ کوئی خاص چیز عطا فرمائی ہے؟ آپ rنے دو جواب دیئے : ایک جواب  {قال: لا، إلا ما في هذه الصحیفة}. فرمایا ہر گز نہیں، مگر صرف وہ احکام جو اس صحیفہ میں لکھے ہو ئے ہیں (اس میں صدقات  اور  دیت  کے  احکام  تھے،  جن  کا  خاص  نہ  ہو نا  سب  کو  معلوم  ہے )۔

دوسرا جواب  {قال ما خصنا رسول الله صلى الله عليه وسلم، إلا فهما أوتیه الرجل في القرآن}. یعنی ہم کو خاص چیز عطا نہیں ہوئی، مگر ایک فہم جو حق تعالیٰ کسی بندہ  کو  قرآن  میں  عطا  فرماویں۔

 حاصل جواب یہ تھا کہ جو علوم مجھ سے ظاہر ہوتے ہیں ان کا منشاء یہ نہیں کہ حضور ﷺ نے مجھے کچھ خاص علوم دوسرے مسلمانوں سے الگ بتلائے ہیں، بلکہ اس کا منشاء خاص فہم ہے، جو حق تعالیٰ نے قرآن یعنی دین میں مجھے عطا فرمائی ہے، یہی  ہےحقیقتِ علم جو تقوی سے حاصل ہوتی ہے، یہی ہے وہ فقہ جس کے متعلق رسول  اللہ ﷺ کا ارشاد ہے: {فقیه واحد أشد على الشیطان من ألف عابد}. کہ ایک  فقیہ شیطان پر  ہزاروں  عابدوں سے زیادہ  گراں  ہے۔۔۔“[1]۔

حوالہ جات

[1] خطبات حکیم الامت : فہم قرآن   ، ۲/۲۲۱ ، ۲۲۲،ادارہ تالیفات اشرفیہ، ملتان ۔

[2]  اصلاح الاغلاط والاخلاط : بستم، ص: ۱۰،مطبع سلیمی، الہ آباد ۔