التحقحق المنیف - "التحقيق المنيف في دراسة الشرط المتفق عليه للحديث الضعيف نظرة على كتبه فضيلة الشيخ محمد عوامة حفظه الله حول حكم العمل بالحديث الضعيف" منظر عام پر آچکی ہے، ورق گردانی/ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے اسی ویب سائٹ پر "کتابیں ڈاؤنلوڈ کریں" پر کلک کریں۔ - برائے مہربانی کسی بھی قسم کی معلومات یا استفسار کے لیے مندرجہ ذیل نمبر پر رابطہ کریں: 3210056-0342
طائرانہ نظر
کتاب کا نام: حضرت حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی صاحب رحمۃ اللہ علیہ کا من گھڑت روایات پر تعاقب

روایت: {أنا عرب بلا عین}. میں بلا عین، عرب ہوں ( معاذ اللہ )۔

یہ گھڑی ہوئی حدیث ہے۔

تفصیل

”بعض لوگوں نے اس مضمون کی احادیث بھی گھڑی ہے جن سے معاذ اللہ حضورﷺ کا خدا  ہونا  ثابت  کیا ہے، چنانچہ ایک حدیث یہ گھڑی ہے: {أنا عرب بلا عین}. اس کے الفاظ ہی بتلا رہے ہیں کہ کسی جاہل نے فرصت میں بیٹھ کر گھڑی ہے،بھلا حضورﷺ کو اس چیستان [پہیلی] کی کیا ضرورت تھی، آپ نے صاف ہی کیوں نہ فرمایا : {أنا رب}. ہیر پھیر کے ساتھ  {أنا عرب بلا عین} کہنے کی کیا ضرورت تھی، پھر اس سے مدعا کیونکر حاصل ہوا، کیونکہ عرب میں بامشدّد نہیں ہے، مخفّف ہے تو عین نکال کر ”رَبْ“ بلا تشدید باقی  رہا، اور  یہ  کوئی  لغت  نہیں  ہے،  رَبّ  بالتشدید  ثابت  نہ  ہوا۔

دوسرے آپ عرب کہاں تھے، آپ تو عربی تھے، پھر {أنا عرب} میں حمل کیوں کر صحیح ہوگا، حدیث ہی گھڑی تو ایسی جس کے سر نہ پاؤں، جس میں ایک ادنی طالب علم بھی غلطیاں نکال سکتا ہے، حالانکہ حضور ﷺ ایسے فصیح وبلیغ تھے کہ آپ کے کلام میں کسی کی مجال نہیں کہ انگلی بھی دھر سکے، اسی لئے محدثین نے فرمایا ہے کہ رکاکت ِ الفاظ بھی حدیث کے موضوع ہونے کی علامت ہے، اور یہاں تو رکاکتِ الفاظ کے ساتھ مضمون بھی رکیک ہے، کیونکہ اس  سے  ربّ  ہونا  نہیں  نکلتا، بلکہ ”ربْ“ نکلتا ہے، اور ”ربْ “ بلا  تشدید  ایک مہمل لفظ  ہے“[1]۔

حوالہ جات

[1] اشرف الجواب : باب دوم ،بعض لوگوں نے حضور ﷺ کے خدا ہونے کی حدیثیں گھڑی ہیں، ص : ۸۲، دارالاشاعت، کراچی ۔