روایت: {أنا أحمد بلامیم}. میں بلا میم، احمد ہوں (معاذ اللہ )۔
یہ گھڑی ہوئی حدیث ہے۔
تفصیل
ایک حدیث یہ گھڑی ہے : {أنا أحمد بلامیم}. [نعوذ باللہ] یہ حدیث نہیں ہے، بلکہ احمد جام l کا قول ہے، جو ان سے حالتِ سکر (مستی وبے ہوشی) میں صادر ہوا، اور قابلِ تاویل ہے، اور اگر تاویل نہ کی جاۓ تو قابلِ رد ہے، کیونکہ غلبہ حال کے اقوال وافعال قابل اعتبار نہیں ہوتے[1]۔
سابقہ مضمون ایک دوسرے انداز سے
ملتی جلتی احادیث
روایت: {أنا عرب بلا عین}. میں بلا عین، عرب ہوں ( معاذ اللہ )۔
یہ گھڑی ہوئی حدیث ہے۔
روایت: ”میں نے اپنے رب کو مدینہ کی گلیوں میں پھرتے دیکھا “ ( معاذ اللہ )۔
یہ گھڑی ہوئی حدیث ہے۔
جب تک محدثین کے نزدیک حدیث ثابت نہ ہو، ہر کتاب میں لفظ ِحدیث دیکھ کر اس کے حدیث ہونے کا یقین نہ کرو۔
روایت: ”شب معراج میں حضور ﷺ کو نوے ہزار علوم عطا کئے گئے تھے، جن میں تیس ہزار خاص حضرت علی r کو عطا ہوئے ۔۔۔“، یہ گھڑی ہوئی روایت ہے۔
کسی من گھڑت روایت کے بارے میں یہ اعتقاد رکھنا کہ یہ قرآن و حدیث میں آئی ہے، افتراء علی الشرع ہے اور محض جہالت اور بدعت ہے۔