التحقحق المنیف - "التحقيق المنيف في دراسة الشرط المتفق عليه للحديث الضعيف نظرة على كتبه فضيلة الشيخ محمد عوامة حفظه الله حول حكم العمل بالحديث الضعيف" منظر عام پر آچکی ہے، ورق گردانی/ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے اسی ویب سائٹ پر "کتابیں ڈاؤنلوڈ کریں" پر کلک کریں۔ - برائے مہربانی کسی بھی قسم کی معلومات یا استفسار کے لیے مندرجہ ذیل نمبر پر رابطہ کریں: 3210056-0342
طائرانہ نظر
کتاب کا نام: حضرت حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی صاحب رحمۃ اللہ علیہ کا من گھڑت روایات پر تعاقب

روایت: ”علم کو طلب کرو اگر چہ چین میں بھی ہو“، یہ حدیث محدثین کے نزدیک ثابت ہی نہیں۔

تفصیل

”جتنے فضائل احادیث میں علم کے لئے وارد ہیں، انگریزی تعلیم پر بھی ان کو جاری کرتے ہیں، اور اس کے متعلق یہ حضرات ایک حدیث بھی پیش  کرتے ہیں: {اطلبوا العلم ولو بالصین}. ترجمہ: علم کو طلب کرو اگر چہ چین میں بھی ہو۔ وہ کہتے ہیں کہ حضور ﷺ نے چین سے طلب علم کی ترغیب دی ہے، حالانکہ اس وقت چین میں دین کا علم بالکل نہ تھا، بلکہ محض دنیاوی علم تھا، معلوم ہوا کہ حضور ﷺ مطلق علم کی ترغیب دے رہے ہیں، خواہ دنیا کا علم ہو یا دین کا، پس انگریزی بھی علم ہے، اور اس حدیث کے تحت میں داخل ہے، ان لوگوں کو اول تو اس حدیث کا ثبوت دینا چاہیے، ان الفاظ سے یہ حدیث محدثین کے نزدیک ثابت  ہی  نہیں ۔

{قلت: ذکر له في ال‍مقاصد طریقین، وقال : هو ضعیف من الوجهین، وقـال ابن حبان: إنه باطل لا أصـل له، وأخرجه ابن ال‍جوزي في ال‍موضوعات، قال: وأخرجه البیهقي في الشعب، قلت: قد التزم أن لای‍خرج موضوعا فالأشبه علیه بالضعیف، والضعیف لایحتج به، فالأحکام جامع [كذا في الاصل]}.

اور اگر ثابت بھی ہو تب بھی ان لوگوں کا مدعا اس سے حاصل نہیں ہوتا ،کیونکہ انہوں نے لفظ  ”ولو“  پر نظر نہیں کی، یہ لفظ فرض کےلئے آتا ہے، مطلب یہ ہے کہ اگر بالفرض میں، چین میں بھی علم ہو تو وہاں سے بھی کوشش کرکے حاصل کرنا چاہیے، اور فرض اسی چیز کو کہا جاتا ہے جو معدوم ومستبعد ہو، موجودہ کو فرض نہیں کیا جاسکتا، معلوم ہوا کہ حضور ﷺ کی مراد اس حدیث سے وہی ہے جو چین میں اس وقت موجود نہ تھا، اس لئے بطور فرض کے فرما رہے ہیں  کہ  اگر  وہاں  بھی  ہو  تو  حاصل  کرو  اور  وہ  علم  دین  ہی ہے ۔۔۔ “[1]۔

ایک دوسرے انداز سے

حوالہ جات

[1] اشرف الجواب : باب چہارم ،جنٹلمینوں کا انگریزی کو علم میں شمار کرنا غلطی ہے، ص : ۴۳۴، دارالاشاعت،کراچی۔

[2] خطبات حکیم الامت : سیاحت الدین،۱۰/۱۷۵ ، ادارہ تالیفات اشرفیہ،ملتان ۔

امام بزار ؒ نے اپنی ”مسند“(۱/۱۷۵) میں،حافظ ابن تیمیہ ؒ  نے   ”مجموع الفتاوى“ (۱۸/۲۲۰)میں، حافظ ابن جوزی ؒ نے”كتاب الموضوعات“ (۱/۲۱۵) میں،حافظ ذہبی ؒ نے ”ميزان الاعتدال“ (۲/۳۳۵)،(۱/۱۰۷) میں اس روایت کو باطل،بے اصل،لایصح کہا ہے۔