حدیث نقل کرنے میں بے احتیاطی
تفصیل
”ف : اصلاح بے احتیاطی در نقل حدیث: اگر حسن ظن کے غلبہ سے شبہ ہی نہ ہو کہ راوی حدیث غلط نقل کر رہا ہے تب تو معذوری ہے، بعض بزرگوں کو یہی بات پیش آئی ہے، جو ان کے ملفوظات ومکتوبات میں بعض بے اصل حدیثیں داخل ہو گئیں، اور اگر باوجود علماء کے تنبیہ کر نے کے برا بر ان کی نقل پر اصرار ہے جیسا کہ اکثر اہل جہل کا شیوہ ہے تو کوئی وجہ معذوری کی نہیں“[1]۔
حوالہ جات
[1] اصلاح الاغلاط والاخلاط : ص: ۳۲ ،مطبع سلیمی، الہ آباد ۔
ملتی جلتی احادیث
جب تک محدثین کے نزدیک حدیث ثابت نہ ہو، ہر کتاب میں لفظ ِحدیث دیکھ کر اس کے حدیث ہونے کا یقین نہ کرو۔
{ناد علیاً مظهر العجائب}، اور {لي خمسة أطفي بها}، روافض کی بناوٹ ہے۔
روایت: ”شب معراج میں حضور ﷺ کو نوے ہزار علوم عطا کئے گئے تھے، جن میں تیس ہزار خاص حضرت علی r کو عطا ہوئے ۔۔۔“، یہ گھڑی ہوئی روایت ہے۔
حضرت حکیم الامت l کی علمی و اصلاحی خدمات کا اجمالی تعارف
من گھڑت روایات لکھنے والا، پڑھنے والا، شائع کرنے والا سب گنہگار ہیں۔