روایت: ”خدا نے لعنت کی گائے کے ذبح کر نے والے پر، اور درخت کاٹنے والے پر۔۔۔“، یہ حدیث نہیں ہے۔
تفصیل
”۔۔۔ میں نے ایک فتویٰ پرانا دیکھا ہے جس میں یہ حدیث درج تھی جو حقیقت میں حدیث نہیں: {لعن الله أربعا: ذابح البقر وقاتل الشجر}. (خدا نے لعنت کی گائے کے ذبح کر نے والے پر، اور درخت کاٹنے والے پر) اور تیسری چوتھی کوئی اور چیز تھی جو یاد نہیں ۔۔۔“[1]۔
حوالہ جات
[1] خطبات حکیم الامت : حقیقت بدعت ،۷/۴۳۰ ، ادارہ تالیفات اشرفیہ، ملتان ۔
ملتی جلتی احادیث
کسی من گھڑت روایت کے بارے میں یہ اعتقاد رکھنا کہ یہ قرآن و حدیث میں آئی ہے، افتراء علی الشرع ہے اور محض جہالت اور بدعت ہے۔
روایت: ” گائے کے سینگ بدلنے سے زلزلہ ہو تا ہے“، کو ئی معتبر روایت اس میں ثابت نہیں۔
روایت: {أنا عرب بلا عین}. میں بلا عین، عرب ہوں ( معاذ اللہ )۔
یہ گھڑی ہوئی حدیث ہے۔
یہ قصہ کہ حضرت علی r نے اپنے صاحبزادے کو کسی سائل کو دے دیا اور اس نے بیچ ڈالا، بالکل غلط ہے اور لغو ہے۔
غلط روایتوں کو بیان کر نا ایجاد فی الدین ہے۔