غلط روایتوں کو بیان کر نا ایجاد فی الدین ہے۔
تفصیل
”غلط روایتوں کو بیان کر نا در حقیقت یہ ظاہر کر نا ہے کہ دین میں اس فضیلت کے ان کی کمی رہ گئی [كذا في الأصل]، یہ ایجاد فی الدین ہے، اور تجر بہ سے ثابت ہو سکتا ہے کہ یہ صرف ان لوگوں کے علم اور نظر کا قصور ہے کہ ان کو واقعی فضائل نماز کے معلوم نہیں، حدیث کی کتابوں میں واقعی فضائل اتنے موجود ہیں کہ ساری عمر بیان کئے جاؤ ختم نہ ہوں، پھر کیا ضرورت ہے کہ جھوٹ بولا جائے، کیا صحابہ رضی اللہ عنہم نے جب فتوحات کئے تھے تو نو مسلموں کو موضوع فضائل سے نماز کی ترغیب دی تھی، حاشا وکلا ّوہ لوگ کامل سچے تھے، اور ان کے بیچ [ كذا في الأصل] ہی کا یہ اثر تھا کہ ان کی ذرا سی بیان کی ہوئی فضیلت جس کے اندر گھس جاتی وہ مسلموں کو ایسا پکا نمازی بنالیتی تھی کہ خود نماز پڑھنے والا بھی چاہے کہ نماز قصداً چھوڑ دے تو نماز نہ چھوڑ سکتا تھا ۔۔۔“[1]۔
حوالہ جات
[1] خطبات حکیم الامت :فضائل میں بھی موضوعات کو بیان کرنا جائز نہیں ، ۲۶/۳۱۶، ادارہ تالیفات اشرفیہ، ملتان ۔
ملتی جلتی احادیث
من گھڑت باتیں شریعت کے کسی فائدہ کے لئے بھی بیان کرنا بالکل غلط ہے۔
احادیث میں مذکور حضور ﷺ کے فضائل بیان کرنے چاہئیں، گھڑے ہوئے فضائل بیان نہ کریں۔
جھوٹے فضائل میں فطری ظلمت ہے، نیز موضوع روایتیں زبان کے بدترین گناہوں میں سےہیں۔
کتاب”دعائے گنج العرش “، کا نام ہی بتلا رہا ہے کہ یہ من گھڑت ہے۔
بعض کتابیں جن میں بے اصل، اور گھڑی ہوئی باتیں ہیں۔