التحقحق المنیف - "التحقيق المنيف في دراسة الشرط المتفق عليه للحديث الضعيف نظرة على كتبه فضيلة الشيخ محمد عوامة حفظه الله حول حكم العمل بالحديث الضعيف" منظر عام پر آچکی ہے، ورق گردانی/ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے اسی ویب سائٹ پر "کتابیں ڈاؤنلوڈ کریں" پر کلک کریں۔ - برائے مہربانی کسی بھی قسم کی معلومات یا استفسار کے لیے مندرجہ ذیل نمبر پر رابطہ کریں: 3210056-0342
طائرانہ نظر
کتاب کا نام: حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ ودیگر اکابر عظام کا من گھڑت روایات پر تعاقب

آج کل جو نبی ﷺ کے نقشِ قدم کو لئے پھرتے ہیں ان کا اعتبار نہیں۔

تفصیل

’’سوال: معجزہ قدم شریف یعنی سنگ[پتھر] موم ہو کر نقشِ قدم ہوجانا، چنانچہ بکثرت دیکھا جاتا ہے کہ لوگ لئے پھرتے ہیں، احادیثِ صحیحہ مستندہ سے ثابت ہے یا نہیں؟

جواب: کتبِ احادیث سے تو اس کا پتہ نہیں چلتا، البتہ  ’’قصیدہ ہمزیہ‘‘ میں دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ معجزہ نقشِ قدم کا ظاہر ہوا ہے، لیکن آج کل جو لئے پھرتے ہیں ان کا اعتبار نہیں، فقط واللہ تعالیٰ اعلم!‘‘[1]۔

حوالہ جات

[1] تالیفات رشیدیہ : معجزہ قدم شریف ، ص: ۱۶۷، ادارہ اسلامیات لاہور ۔

امام ابن تیمیہ l  ’’مجموع الفتاوی‘‘ (۲۷/ ۷۸)میں فرماتے ہیں : ’’ قدم شریف کا کسی پتھر پر نقش ہوجا نا یہ جھوٹ ہے،گھڑی ہوئی بات ہے‘‘، امام سیوطی l  نے  ’’الحاوی للفتاوی‘‘ (۲ /۱۰۸)میں لکھا ہے: ’’میں اس کی اصل وسند پر واقف نہیں ہو سکا ہوں،اور نہ ہی کسی ایسے شخص سے واقف ہو سکا ہو ں جس نے کسی بھی حدیث کی کتاب میں اس کی تخریج کی ہو‘‘۔ امام سیوطی l  کے اس کلام پر حافظ ابن حجر ہیتمی l نے  ’’الفتاوی الحدیثیہ‘‘ (ص:۱۷۷)میں اکتفاء کیاہے،امام سیوطی l نے ’’حقیقہ السنہ والبدعہ‘‘ (ص:۳۵)میں  صخرۂ  بیت المقدس پر آپﷺ کے نشاناتِ قدم کو بے اصل قرار دیاہے۔

ملتی جلتی احادیث