التحقحق المنیف - "التحقيق المنيف في دراسة الشرط المتفق عليه للحديث الضعيف نظرة على كتبه فضيلة الشيخ محمد عوامة حفظه الله حول حكم العمل بالحديث الضعيف" منظر عام پر آچکی ہے، ورق گردانی/ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے اسی ویب سائٹ پر "کتابیں ڈاؤنلوڈ کریں" پر کلک کریں۔ - برائے مہربانی کسی بھی قسم کی معلومات یا استفسار کے لیے مندرجہ ذیل نمبر پر رابطہ کریں: 3210056-0342
طائرانہ نظر
کتاب کا نام: حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ ودیگر اکابر عظام کا من گھڑت روایات پر تعاقب

’’میت کی بخشش کے لئے ایک لاکھ یا ستر ہزار مرتبہ کلمۂ طیبہ پڑھنے سے میت کی بخشش‘‘، یہ حدیث کتبِ صحاح ستہ، ’’مشکوٰۃ شریف‘‘ و’’دارمی شریف‘‘ و’’ مؤطا امام محمد‘‘ میں کہ ہندوستان میں کتبِ مشہور ہیں، کہیں موجود نہیں، اور حالِ صحت وغیرِ صحت بدون سند کے معتبر نہیں۔

تفصیل

’’سوال: بعض لوگ بنا بر جوازِ رسمِ سوم، یہ حدیث حجت لاتے ہیں:

{عن عبد الله بن عمر قال: قال النبي صلى الله عليه وسلم: من قال لا إله إلا الله ألف ألف مرة وجعل ثوابها للميت غفر الله له، وإن كان مستوجبا للعقوبة}.

حضرت عبد اللہ بن عمر r سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: جس شخص نے ایک لاکھ مرتبہ لاالہ الا اللہ کہا، اور اس کا ثواب کسی مردے کو بخش دیا،تو اللہ تعالیٰ اس مردہ کی مغفرت فرمادیں گے، چاہے وہ سزا کا مستحق ہوگیا ہو۔

آیا یہ حدیث صحیح ہے، یا غیر صحیح ؟ اور درصورتِ صحت، کتبِ صحاحِ ستہ کی (ہے) یا کسی دوسری کتاب کی؟ اور کلمہ شریف واسطے ثواب رسانی [یعنی ثواب پہنچانا]میت کے، کس طرح پڑھنا چاہئے؟ فقط۔

جواب: یہ حدیث کتبِ صحاح ستہ، ’’مشکوٰۃ شریف‘‘ و’’دارمی شریف‘‘ و’’مؤطا امام محمد‘‘ میں کہ ہندوستان میں کتبِ مشہور ہیں، کہیں موجود نہیں، اور حالِ صحت وغیرِ صحت بدون سند کے معتبر نہیں، ہاں البتہ بعض روایات میں ایصالِ ثواب کلمہ شریف کا آیا ہے، مگر عجب ہے کہ جوازِ ایصالِ ثوابِ کلمہ سے، سوم درست ہوجائے، کیوں کہ ایصالِ ثوابِ کلمہ کا سب حنفیہ اقرار کرتے ہیں، جب چاہے ثواب پہنچاوے کوئی وقت مقرر نہیں، اور سوم کی وجہ کراہت یہ ہے کہ دراصل سوم رسم ہنود ہے، کہ تیسرے روز قوم ہنود جمع ہو کرپھول چنا کرتے ہیں، اور مسلمانانِ ہند جو جہل میں مبتلا ہیں تیسرے روز جمع ہو کر قرآن پڑھوانے کو بہتر سمجھے، اور یہ نہ سمجھے کہ اس میں مشابہت رسمِ کفار کی لازم آتی ہے، رسول اللہ ﷺ نے بالکل مشابہتِ کفار سے منع فرمایا ہے۔ ۔۔‘‘[1]۔

حوالہ جات

[1]  باقیات فتاوی رشیدیہ :رسوم سوم کی حقیقت اور اس کے ثبوت میں پیش کی گئی، ایک حدیث پر نظر،  ص: ۹۴،دار الکتاب  لاہور ۔  

کتاب  ’’باقیاتِ فتاوی رشیدیہ‘‘ کے مرتب حضرت مولانا نور الحسن کاندھلوی دامت فیوضہ اس حدیث پر حاشیہ میں تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:  ’’یہ روایت عوام میں مشہور ہے مگر اس کی اصل کتبِ حدیث شریف میں نہیں ملی، یہ روایت غالبا فقیہ ابو اللیث سمرقندی کی تصانیف سے چلی ہے، وہیں سے کتب فقہ میں نقل ہوئی، بہر حال اس کو حدیث کہنا درست نہیں‘‘ (ص:۹۳)۔

حافظ نجم الدین غیطی l نے ’’الابتہاج بالکلام علی الاسراء والمعراج‘‘ (مخطوط:ص:۵)میں حافظ ابن حجر عسقلانی l کے حوالہ سے نقل کیا ہے کہ وہ اس روایت کو باطل،من گھڑت قرار دیتے تھے،نیز حافظ نجم الدین غیطی l یہ بھی لکھتے ہیں کہ اکابر صوفیاء کی اقتداءاور ان کے افعال کے تبرک حاصل کرنے کےلئےاس عمل کوکر لینا چاہئے،حافظ نجم الدین غیطی l  کی عبارت ملاحظہ ہو:

{ويشبهها ما يتداوله السادة الصوفية من قول لا إله إلا الله سبعين ألف مرة، و يذكرون أن الله تعالى يعتق بها رقبة من قالها، واشترى بها نفسه من النار، و يحافظون على فعلها لأنفسهم و لمن مات من أهالهم و إخوانهم، وقد ذكرها الإمام اليافعي [كذا في الأصل، وفي خلاصة الأثر: الرافعي] والعارف بالله الكبير المحيوي [كذا في الأصل] بن عربي، وأوصى بالمحافظة عليها، وذكروا أنه قد ورد فيها خبر نبوي، وحكوا أن شابا صالحا كان من أهل الكشف ماتت أمه، فصاح و بكا وخر مغشيا عليه، ثم سئل عن سبب ذلك، فذكر أنه رأى أمه في النار، وكان بعض المشايخ من السادة حاضرا، وكان قد قال هذه السبعين ألفا، وأراد أن يعدها لنفسه، فقال في نفسه عندما سمع قول الشاب المذكور: اللهم إنك تعلم أني هللت هذه السبعين ألف تهليلة وأريد أدخرها لنفسي، وأشهدك أني قد اشتريت بها أم هذا الشاب من النار، فما استتم هذا الورد إلا وتبسم الشاب، وسر، وقال: الحمد لله، أرى أمي قد خرجت من النار، و أمر لها إلى الجنة، قال الشيخ المذكور: فحصل لي فائدان: صدق الخبر المذكور و صحته وكشف هذا الشاب، انتهى لك الحديث المذكور .

قال بعض المشايخ: لم ترد به السنة فيما أعلم، وقد وقفت على صورة سؤال للحافظ ابن حجر رحمه الله تعالى عن هذا الحديث، وهو:  من قال لا إله إلا الله سبعين ألفا اشترى نفسه من الله تعالى، هل هو حديث صحيح أو حسن أو ضعيف؟ وصورة جوابه: أما الحديث يعني المذكور فليس بصحيح ولا حسن ولا ضعيف، بل هو باطل موضوع، لاتحل روايته إلا مقرونا ببيان حاله انتهى، لكن ينبغي للشخص أن يفعلها إقتداء بالسادة الصوفية وامتثالا لقول من أوصى بها وتبركا بأفعالهم، وقد ذكرها الشيخ الزاهد الولي العارف بالله سيدي محمد بن عراق نفعنا الله ببركاته في بعض سفيناته [كذا في الأصل] المؤلفة، وقال:  كان شيخه يأمره بها، وذكر أن بعض إخوانه ذكر له بعض الصلحاء أنه كانت له سبحة عدها ألفا [كذا في الأصل]، وكان يريدها سبعين مرة من بعد صلاة الصبح إلى طلوع الشمس [كذا في الأصل]، وقال: وهذه كرامة له من الله تعالى، فنسأل الله تعالى أن يمن علينا بذلك وأن يلحقنا بعباده الصالحين انتهى}.

یہی تمام تفصیل علامہ محمد امین بن فضل اللہ محبی l  نے  ’’خلاصۃ الاثر فی اعیان القرن‘‘ (۱/۷۳ )میں نقل کی ہے،اور آخرمیں حافظ نجم الدین غیطیl    کاقول نقل کیا ہے۔

حافظ ابن تیمیہ l’’مجموع الفتاوی‘‘ (۲۴/ ۱۸۰) میں فرماتے ہیں یہ روایت کسی صحیح یا ضعیف حدیث سے ثابت نہیں ہے،یعنی اس کی کوئی ادنی سند بھی نہیں ہے،تاہم اگر کوئی شخص لا الہ الا اللہ ستر ہزار یا کم وبیش مقدار میں پڑھ کر میت کو ایصال ثواب کرے گا تو اللہ اس کا نفع اسے پہنچا دیں گے،عبارت ملاحظہ ہو:

{وسئل عمن هلل سبعين ألف مرة وأهداه للميت يكون براءة للميت من النار. حديث صحيح أم لا؟ وإذا هلل الإنسان وأهداه إلى الميت يصل إليه ثوابه أم لا؟ فأجاب: إذا هلل الإنسان هكذا سبعون ألفا أو أقل أو أكثر وأهديت إليه نفعه الله بذلك، وليس هذا حديثا صحيحا ولا ضعيفا، والله أعلم}.

[1] باقیات فتاویٰ رشیدیہ: چنے کے دانوں پر کلمہ طیبہ پڑھنے کا اہتمام کیساہے؟  ص:۹۳۔۹۴، دار الکتاب لاہور۔