حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ ودیگر اکابر عظام کا من گھڑت روایات پر تعاقب
72 احادیث ملیں
سفر بروز ہفتہ نحس اور شُوم [منحوس] ہونا بالکل غلط ہے، اس کی اصل کسی حدیث سے ثابت نہیں۔
عمرہ حج اصغر ہے،اور ہر ایک حج، حج اکبر ہے۔
فاسدو بے اصل روایات کا کہنے سننے والا گنہگار ہے، ایسی محفل پر بلا شبہ حرمت کا حکم ہوگا اور اس میں شریک ہونا حرام ہے۔
فضائل اعمال میں ضعیف حدیث قبول ہونے کا یہ مطلب ہے کہ اس میں ثواب سمجھے بغیر عمل کرلے،بشرطیکہ ضعفِ شدید نہ ہو اور وہ عمل کسی اصل شرعی کے تحت داخل ہو۔
مشہور قضاءِ عمری کی نماز بے اصل ہے۔
مصلے کے ایک کنارے کو موڑ دینا بے اصل ہے۔
مقدمہ
میت کو دفن کرنے کے بعد اول آخر سورہ ٔ بقرہ پڑھنا تو حدیث میں وارد ہے، مگر قبر پرانگلی رکھنے کا ذکر نہیں ہے۔
نبیﷺکا حضرت فاطمہ R کے عقدِ نکاح میں چھوہاروں کے لٹانے کی روایت من گھڑت ہے۔
وضو کے اندر ہر ہر عضو پر اذکار پڑھتے ہیں ان کی کوئی سند صحیح نہیں ہے، لیکن روایات قابلِ عمل ہیں۔