التحقحق المنیف - "التحقيق المنيف في دراسة الشرط المتفق عليه للحديث الضعيف نظرة على كتبه فضيلة الشيخ محمد عوامة حفظه الله حول حكم العمل بالحديث الضعيف" منظر عام پر آچکی ہے، ورق گردانی/ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے اسی ویب سائٹ پر "کتابیں ڈاؤنلوڈ کریں" پر کلک کریں۔ - برائے مہربانی کسی بھی قسم کی معلومات یا استفسار کے لیے مندرجہ ذیل نمبر پر رابطہ کریں: 3210056-0342
طائرانہ نظر
کتاب کا نام: حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ ودیگر اکابر عظام کا من گھڑت روایات پر تعاقب

1 ’’جو شخص تین حج کرلیتا ہے، خدا تعالیٰ آگ کو دنیا وآخرت میں اس پر حرام کردیتا ہے 2 جو شخص اللہ تعالیٰ کے لئے تین حج کرلیتا ہے، خدا تعالیٰ کرامًا کاتبین کو حکم دے دیتا ہے کہ اس کے نامۂ اعمال لکھنا بند کردو‘‘، بظاہر ان کی کچھ اصل نہیں ہے۔

تفصیل

’’سوال: میں نے ایک کتاب میں دیکھا ہے کہ  ’’شفاء‘‘ میں قاضی عیاض l  فرماتے ہیں کہ ایک بزرگ نے یہ فرمایا کہ حدیث میں آیا ہے کہ جو شخص تین حج کرلیتا ہے خدا تعالیٰ آگ کو دنیا وآخرت میں اس پر حرام کردیتا ہے، اور مولوی محبّ الدین مہاجر مکی  l نے مجھ سے یہ فرمایاتھا کہ  ’’بخاری شریف‘‘  میں ہے کہ جو شخص اللہ تعالیٰ کے لئے تین حج کرلیتا ہے خدا تعالیٰ کرامًا کاتبین کو حکم دے دیتا ہے کہ اس کے نامۂ اعمال لکھنا بند کردو، یہ احادیث کس درجہ کی ہیں؟

جواب: حج کی فضیلت بہت کچھ ہے، ایک حدیث میں ہے: {الحج المبرور ليس له جزاء إلا الجنة. بخاري ومسلم}. [حج مبرور کرنے والے کا بدلہ جنت ہی ہے،بخاری ومسلم]اور ایک حدیث میں ہے جس نے حج  کیا اور اس میں معصیت اور فسق نہ کیا تو وہ گناہوں سے ایسا پاک وصاف ہوجاتا ہے جیسا کہ اپنی ماں کے پیٹ سے پیدا ہوا، یہ حدیث بھی ’’بخاری‘‘ و’’مسلم‘‘ کی ہے، باقی وہ روایتیں جو آپ نے لکھی ہیں وہ کہیں نہیں ملیں، بظاہر ان کی کچھ اصل نہیں ہے، مکرر یہ کہ بعد تحریرہٰذا ’’شفاء‘‘ قاضی عیاض کو دیکھا گیا، اس میں وہ حدیث جو آپ نے لکھی ہے نہیں ملی، اور  ’’بخاری‘‘ کے حوالہ سے جو مولوی محب الدین صاحب نے فرمایا ہے وہ حدیث بھی  ’’بخاری شریف‘‘ میں نہیں ہے، فضیلتِ حج میں جو حدیثیں جواب میں نقل کی گئیں، ان سے ہی بہت بڑی فضیلت ثابت ہوتی ہے۔ فقط، والله تعالىٰ اعلم!‘‘[1]۔

حوالہ جات

[1] فتاوی دار العلوم دیوبند :حج کی فضیلت اور چند بے اصل روایات، ۱۸/۱۶۲ مکتبہ حقانیہ ملتان۔

  قاضی عیاض مالکی l   نے  ’’الشفا  بتعر يف حقوق المصطفى‘‘ (۲/۹۳)میں اس پہلی روایت (تین حج والی)کو سَعْدُوْن خولانی l  کے حوالہ سے صیغہ ٔ تمریض کے ساتھ ان لفظوں سے ذکر کیا ہے:

{وحكي أن قوما أتوا سَعْدُون الخولاني بالمُنَسْتِيْر [أي: مكان بالقيروان]، فأعلموه أن كُتَامَة [أي: قبيلة من بربر] قتلوا رجلا، وأضرموا عليه النار طول الليل، فلم تعمل فيه شيئا، وبقي أبيض البدن، فقال: لعله حج ثلاث حجج؟ قالوا: نعم، قال: حدثت أن من حج حجة أدى فرضه، ومن حج ثانية داين ربه، ومن حج ثلاث حجج حرم الله شعره وبشره على النار}.

نیز علامہ تقی الدين احمد بن علی مقريزیl  نے ’’اِمتاع الاَسماع‘‘ (۱۴/۶۲۳)میں،اورحافظ ابو بكر عثمان بن محمد دمياطیl نے ’’اعانۃ الطالبين على حل الفاظ فتح المعين‘‘ (۲/۲۸۴)میں اس روایت کو سَعْدُوْن خولانی  l کےحوالے سے نقل کیا ہے۔

علامہ خفاجی l نے ’’نسیم الریاض‘‘ (۵/۱۳۲)میں اس روایت کے متعلق لکھا ہے : {وهذا الحديث لايعرف من رواه}. اور اس حدیث کو جس نے روایت کیا ہے اس کی کوئی معرفت نہیں ہے۔ 

ملتی جلتی احادیث