’’حضرت خاتم النبوت ﷺ کے نیچے پتھر کا موم ہو کر قدم پاک کا نقشہ پتھر پر آجانا‘‘، ایسی کوئی سند اور روایت نظر میں نہیں آئی۔
تفصیل
’’سوال: آیا رسول اللہﷺ کا معجزہ یعنی پائے مبارک حضرت خاتم النبوتﷺ کے نیچے پتھر کا موم ہو کر قدم پاک کا نقشہ پتھر پر آجانا کہیں ’’صحاح ستہ‘‘ یا دوسری حدیث کی کتابوں یا دیگر معتبرکتابوں سے ثابت ہوتا ہے یا نہیں ؟
جواب: (ازنائب مفتی دار العلوم دیوبند ) آج کل جو بعض لوگ ایک نشان لئے پھر تے ہیں اور اس کو نقش اور نشان قدم مبارک آنحضرت ﷺ کا بتاتے ہیں، یہ قول ان کا صحیح نہیں ہے، یہ نشان مصنوعی اور بناوٹی ہے۔ فقط، واللہ اعلم!
جواب: (از حضرت شیخ السلام مولانا السید حسین احمد مدنی قدس سرہ) جناب رسول اللہ ﷺ کے معجزات بہت زیادہ اور نہایت عظیم ہیں، ان کے سامنے پتھر کا مثل موم بن جانا اور نقش قدم اس پر پڑجانا کوئی حیثیت نہیں رکھتا، یہ تو ادنیٰ بات ہے، مگر اس وقت تک میری نظر سے کسی حدیث یا سیر کی کتابوں میں سے کسی کتاب میں یہ معجزہ نہیں گزرا۔
جواب: (حضرت مفتی اعظمl) اگر چہ پتھر پر نشان قدم مبارک آنحضرت ﷺ کا بطور معجزہ کے نقش ہوجانا مستبعد نہیں، مگر اس کے باوَر [اعتماد]کرنے کے لئے سند اور روایت کی ضرورت ہے اور ایسی کوئی سند اور روایت نظر میں نہیں آئی،‘‘[1]۔
حوالہ جات
[1] کفایۃ المفتی: آنحضرتﷺ کے قدم مبارک کا نقش بطور معجزہ پتھر پرنقش ہوجانا ، ۱/۱۱۷، دار الاشاعت کراچی۔
ملتی جلتی احادیث
آج کل جو نبی ﷺ کے نقشِ قدم کو لئے پھرتے ہیں ان کا اعتبار نہیں۔
1 رسول اللہﷺ کا حضرت بلال r کو بعوض حسنین q خریدنا محض غلط ہے، ایسی باتیں بے اصل، بیان کرنے والامستحق وعظ گوئی نہیں۔
2 ابوہریرہ r کا نکاح بعد وفات رسول اللہﷺ ہوا ہے، پہلے نہیں ہوا، آپ ﷺ کی خدمت میں اس نکاح کے کھانے کا پہنچنا لا اصل ہے۔
3 آنحضرت ﷺ کا شب معراج میں حور کے نور کو سجدہ کرنا بالکل افتراء ہے، قرآن شریف کے بالکل مخالف ہے: {ماكذب الفؤاد مارأى} [جھوٹ نہیں کہا رسول( اللہ ﷺ) کے دل نے جو دیکھا] صاف بیان ہے کہ آپ کو کسی قسم کی غلطی نہیں ہوئی، ایسا عقیدہ رکھنے والا کافر ہے، سخت زندیق ہے۔
3 شب برات کو تین غسل کرنا، یا حلوا وغیرہ کا پکانا شریعت سے ثابت نہیں، یہ باتیں محض لا اصل ہیں۔
1 ’’بایزید بسطامی l کاباری تعالیٰ کے اختیار دینے پر مختلف چیزیں مانگنا اور باری تعالی کا انھیں دینے سے عاجز ہونا‘‘[معاذاللہ]۔
2 ’’عثمان ہارونی l کاباری تعالیٰ سے روٹھ کر کافر،پھر آپ ﷺ کے منانے پر مسلمان ہونا‘‘ [معاذاللہ]۔
3 ’’حضرت حسین r کے دونوں پاؤں کے نیچے تلووں میں قرآن مجید لکھا ہوا تھا‘‘ [معاذاللہ]۔
4 ’’کلمہ توحید میں دو چیزیں کفر ہیں۔۔۔‘‘ [معاذاللہ]۔
5 ’’بت خانے میں باری تعالی کا خاص بندہ‘‘ [معاذاللہ]۔
6 ’’ایک چور کی حکایت‘‘۔
7 ’’سید عبد القادر l کا اوپر کے ہاتھ سے آسمان اور عصا سے زمین کو تھامنا‘‘ [معاذاللہ]۔
اس وعظ کہنے والے شخص کے کفر میں کسی قسم کا کوئی شبہ نہیں، اس کا تمام وعظ سرا سر جہالت اور گمراہی ہے۔
1 روایت: ’’رسول اللہ ﷺ وتر تین مرتبہ پڑھتے تھے: عشاء کے بعد مسجد میں، پھر گھر میں تشریف لے جاکر، پھر تہجد کے وقت‘‘، یہ لااصل ہے۔
2 ’’ایک خاص طریقے پر نمازِ قضاء ادا کی جائے تو چالیس برس کی نمازیں معاف ہو جاتی ہیں‘‘، اس کی بھی کچھ اصل نہیں۔
صلوٰۃِ رغائب بدعت ہے۔
3 ’’عہد نامہ قبر میں رکھنا ‘‘، یہ شعائرِروافض میں سے ہے۔
4 ’’بیس آیتیں حضرت عائشہ R کی پاکی میں نازل ہوئیں، مگر رسول اللہ ﷺ کو گاہے گاہے یہ خیال ہوتا تھاکہ کلام، اللہ کا، بیشک برحق ہے اور راست ہے، لیکن ایک نام خدا کا ستار ہے، بیشک عائشہ R کی ستاری کرتا ہے‘‘، معاذ اللہ! یہ در پردہ حضرت عائشہ R پر تہمتِ عدم عصمت، اور رسول اللہ ﷺ پر تہمتِ عدمِ وثوق کلام اللہ وعدمِ اعتبار خدا تعالیٰ اور خدا تعالیٰ پر تہمت کذب ہے۔
5 ’’حضرت عمر r نے وصیت کی کہ میرا گرز، میری قبر میں، میرے ساتھ رکھنا‘‘، یہ بڑا بہتان ہے۔
6 ’’حضرت علی r نے دیکھا کہ زمین نے حضرت عمر r کو بھینچا‘‘، یہ کھلا ہوا رفض ہے۔
7 ’’جب منکر نکیر نے حضرت عمر r سے’’من ربك‘‘ کہا تو حضرت عمر r نے فرمایا کہ میں نہیں سنتا، قریب آؤ، منکر نکیر گرز کو دیکھ کر ڈرگئے اور نزدیک نہ ہوئے، حضرت عمر r گرز لے کر بیٹھ گئے، تاکہ فرشتوں کو ماریں، قبر چند فرسخ کھل گئی، اور فرشتے بھاگ گئے‘‘، یہ قول بدیہی البطلان ہے۔