{لولاك لما خلقت الأفلاك}. اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ اگر آپ نہ ہوتے تو میں آسمانوں کو پیدا نہ کرتا‘‘، یہ حدیث نہیں ہے، بزرگوں کے مکشوفات میں سے ہے، اور اس کا مضمون محققین کے نزدیک صحیح ہے۔
تفصیل
’’سوال: {لولاك لما خلقت الأفلاك}. حدیث ہے یا نہیں؟ اور صحاح ستہ وغیرہ میں مذکور ہے یا نہیں؟
جواب: یہ حدیث نہیں ہے، اور کسی کتاب حدیث مثل صحاح ستہ وغیرہ میں مذکور نہیں ہے، بلکہ بزرگوں کے مکشوفات میں سے ہے، اور مضمون اس کا عند المحققین صحیح ہے، جیسا کہ حضرت مولانا محمد قاسم صاحب قدس سرہ نے اپنے قصیدہ مدحیہ میں یہ شعر بھی لکھا ہے:
جو تو اُسے نہ بناتا تو سارے عالم کونصیب ہوتی نہ دولت وجود کی زِنْہَار [ہرگز]۔
اسی طرح دیگر اکابر اولیاء امت نے اس کی تصریح فرمائی ہے۔ فقط، والله تعالى اعلم!‘‘[1]۔
حوالہ جات
[1] فتاوی دار العلوم دیوبند :{لولاك لما خلقت الافلاك}حدیث ہے یا نہیں؟۱۸/۱۴۷ مکتبہ حقانیہ ملتان۔
درج ذیل علماء نے اس روایت کو من گھڑت کہا ہے :حافظ صغانی l (حافظ صغانی l کے قول پرملاعلی قاریl، علامہ طاہرپٹنیl ، علامہ عجلونیl ، علامہ شوکانیl نے اعتماد کیا ہے)،حافظ ابن الجوزیl، حافظ ابن تیمیہl، حافظ ذہبی l ، حافظ ابن حجر l ( اكتفاءً علی قول الذہبی l)، امام سیوطی l (اكتفاءً علی قول ابن الجوزی l )، علامہ ابن عراق l ، علامہ محمد بن خلیل بن ابراہیم المشیشی الطرابلسی l ، علامہ عبد الحی لکھنویl۔ تفصیل کے لئے دیکھئے: کتاب غیر معتبرروایت کا فنی جائزہ،حصہ دوم،ص:۱۱۱۔
ملتی جلتی احادیث
{من عرف نفسه فقد عرف ربه}. ’’جس نے اپنے آپ کو پہچانا اس نے اپنے پروردگار کو پہچان لیا‘‘، یہ حدیث نہیں ہے، کسی بزرگ کا قول ہے۔
{العلم علمان: علم الأبدان و علم الأديان}. ’’علم کی دو قسمیں ہیں: جسمانی علوم اور دینی علوم‘‘، یہ حدیث نہیں۔
{لاتجعلوا بطونكم مقابر الحيوانات}. اپنے پیٹ کو جانوروں کی قبر نہ بناؤ‘‘، یہ کوئی حدیث نہیں ہے۔
{عند ذكر أولياء الله تنزل الرحمة}. اللہ کے اولیاء کے تذکروں میں اللہ کی رحمت نازل ہوتی ہے‘‘، یہ کسی بزرگ کا مقولہ ہے، غالباً حدیث نہیں ہے۔
{أوتيت علم الأولين والآخرين}. مجھے اولین وآخرین کا علم ملا ہے‘‘، یہ حدیث کسی کتاب حدیث میں نظر سے نہیں گزری۔