التحقحق المنیف - "التحقيق المنيف في دراسة الشرط المتفق عليه للحديث الضعيف نظرة على كتبه فضيلة الشيخ محمد عوامة حفظه الله حول حكم العمل بالحديث الضعيف" منظر عام پر آچکی ہے، ورق گردانی/ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے اسی ویب سائٹ پر "کتابیں ڈاؤنلوڈ کریں" پر کلک کریں۔ - برائے مہربانی کسی بھی قسم کی معلومات یا استفسار کے لیے مندرجہ ذیل نمبر پر رابطہ کریں: 3210056-0342
طائرانہ نظر
کتاب کا نام: حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ ودیگر اکابر عظام کا من گھڑت روایات پر تعاقب

{لولاك لما خلقت الأفلاك}. اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ اگر آپ نہ ہوتے تو میں آسمانوں کو پیدا نہ کرتا‘‘، یہ حدیث نہیں ہے، بزرگوں کے مکشوفات میں سے ہے، اور اس کا مضمون محققین کے نزدیک صحیح ہے۔

تفصیل

’’سوال: {لولاك لما خلقت الأفلاك}. حدیث ہے یا نہیں؟ اور صحاح ستہ وغیرہ میں مذکور ہے یا نہیں؟

جواب: یہ حدیث نہیں ہے، اور کسی کتاب حدیث مثل صحاح ستہ وغیرہ میں مذکور نہیں ہے، بلکہ بزرگوں کے مکشوفات میں سے ہے، اور مضمون اس کا عند المحققین صحیح ہے، جیسا کہ حضرت مولانا محمد قاسم صاحب قدس سرہ نے اپنے قصیدہ مدحیہ میں یہ شعر بھی لکھا ہے:

جو تو اُسے نہ بناتا تو سارے عالم کونصیب ہوتی نہ دولت وجود کی زِنْہَار [ہرگز]۔

اسی طرح دیگر اکابر اولیاء امت نے اس کی تصریح فرمائی ہے۔ فقط،  والله تعالى اعلم!‘‘[1]۔

حوالہ جات

[1] فتاوی دار العلوم دیوبند :{لولاك لما خلقت الافلاك}حدیث ہے یا نہیں؟۱۸/۱۴۷ مکتبہ حقانیہ ملتان۔

درج ذیل علماء نے اس روایت کو من گھڑت کہا ہے :حافظ صغانی l  (حافظ صغانی l  کے قول پرملاعلی قاریl، علامہ طاہرپٹنیl ، علامہ عجلونیl ، علامہ شوکانیl  نے اعتماد کیا ہے)،حافظ ابن الجوزیl، حافظ ابن تیمیہl، حافظ ذہبی l ، حافظ ابن حجر  l  ( اكتفاءً علی قول الذہبی l)، امام سیوطی l  (اكتفاءً علی قول ابن الجوزی l  )، علامہ ابن عراق l ، علامہ محمد بن خلیل بن ابراہیم المشیشی الطرابلسی l ، علامہ عبد الحی لکھنویl۔ تفصیل کے لئے دیکھئے: کتاب غیر معتبرروایت کا فنی جائزہ،حصہ دوم،ص:۱۱۱۔