۶ – جزء: صلوة الرغائب
روایتِ صلوۃ الرغائب (رجب کے پہلے ہفتہ میں پڑھی جانے والی ایک مخصوص نماز)اور پندرہ شعبان کی شب پڑھی جانے والی مخصوص نماز والی روایت محققین کے نزدیک من گھڑت ہے۔
تفصیل
’’حنفیہ میں سے صاحب ’’الدرالمختار‘‘ نے (ص: ۴۲۰ ج: ۱) عیدین، نصف شعبان، رمضان کے عشرہ اخیرہ اور ذی الحجہ کے عشرہ اولیٰ کی شبِ بیداری کو مندوبات میں شمار کیا ہے،علامہ محمد امین بن عمر عابدین الشامی l کہتے ہیں (ص: ۴۶۰ ج: ۱): ×قد بسط الشُرُنْبُلاَلِي في الإمداد ما جاء في فضل هذه الليالي كلها÷. [ان تمام راتوں کی فضیلت میں جو کچھ آیا ہے شُرُنْبُلَالِی l نے ’’امداد ‘‘ میں اسے تفصیل سے لکھا ہے]
لیکن مسجد میں اجتماع اور جماعت سے نماز پڑھنا مکروہ ہے، صاحب ’’امداد الفتاح‘‘نے فُرادیٰ یعنی تنہا پڑھنے کے ساتھ مقید کیا ہے، صاحب نور الایضاح l فرماتے ہیں: ×ويكره الاجتماع على إحياء ليلة من هذه الليالي في المساجد÷. [مساجد میں ان راتوں میں عبادت کے لئے جمع ہونا مکروہ ہے]
علامہ ابن عابدین شامی l کہتے ہیں (ص: ۴۶۱ج: ۱):
×وصرح بكراهة ذالك في الحاوي القُدْسِي وقال: وما روي من الصلوات في هذه الأوقات يصلى فرادى غير التراويح. قال في البحر: ومن ههنا يعلم كراهة الاجتماع على صلوة الرغائب التي تفعل في رجب في أول جمعة و أنها بدعة، ومايحتاله أهل الروم مِنْ نذرِها لتخرج عن النفل والكراهة فباطل اهـ .
قال ابن عابدين: وقد صرح بذلك في البزازية، وقد بسط الكلام عليها شارحا المنية، وصرحا بأن ماروي فيها باطل موضوع، وللعلامة نور الدين المَقْدِسِي فيها تصنيف حسن سماه ×ردع الراغب عن صلوة الرغائب÷، أحاط فيه بغالب كلام المتقدمين والمتأخرين من المذاهب الأربعة اهـ÷ .
[اس کے مکروہ ہونے کی صراحت ’’الحاوی القُدْسِی‘‘ میں کی گئی ہے، اور کہا ہے: ان اوقات میں تراویح کے علاوہ منقول نمازیں تنہا پڑھی جائیں گی، ’’بحر‘‘ میں کہا ہے: یہاں یہ بھی معلوم ہوگیا کہ رجب کے پہلے جمعہ میں پڑھی جانے والی صلوۃ الرغائب کےلئے جمع ہونا مکروہ ہے اور یہ کہ یہ بدعت ہے، اور رومیوں کا نفل وکراہت سے نکلنے کے لئے ان نمازوں کی نذر ماننے کا حیلہ باطل ہے، اھ۔
ابن عابدین l فرماتے ہیں: ’’بزازیہ‘‘ میں اس کی صراحت کی گئی ہے، ’’منیہ‘‘ کے دونوں شارحین نے اس پر تفصیل سے کلام کیا ہے، اور صاف کہا ہے کہ اس بارے میں منقول روایت باطل، موضوع ہے، علامہ نورالدین مَقدِسِی کی ان نمازوں کے بارے میں ایک اچھی تصنیف ہے، جس کا نام ہے ×ردع الراغب عن صلوۃ الرغائب÷، اس میں مصنف نے مذاہب ِاربعہ کے متقدمین ومتاخرین کے اکثر کلام کا احاطہ کرلیا ہے]
صلوۃ الرغائب کا بد عت ہو نا تقریبًا متفق علیہ ہے، حافظ ابن الصلاح l اولاً یہی [یعنی بدعت ہونا]کہتے تھے پھر رجوع کر لیا اور استحباب کے قائل ہو گئے، شیخ عز الدین بن عبد السلام l ہمیشہ اس کی تردید کر تے رہے اور منع کے قائل تھے، اس سلسلہ میں بعض حدیثیں بھی نقل کی جاتی ہیں مگر وہ باطل ہیں، سارے محققین فرماتے ہیں کہ صلوۃ الرغائب بد عت ہے، اور اس سلسلہ میں جو حدیث نقل کی جاتی ہے وہ موضوع ہے، ابو اسماعیل الانصاریl، ابو بکر السمعانیl، ابو الفضل بن ناصرl، ابو الفرج بن الجوزیl، ابو شامہl، نَوَوِیl (ص: ۳۶۱ج: ۱) ابن دقیق العیدl، ابن تیمیہl، ذہبیl، ابن رجبl، عراقیl، ابن حجرl وغیرہم نے اس کی تصریح کی ہے[1]۔
دوسرے اندازسے
ملتی جلتی احادیث
۷ - جزء نصف شعبان روزے کی فضیلت
خاص نصف شعبان کے روزے کی فضیلت پر مشتمل مشہور روایت کو اگرچہ قطعی طور پر موضوع نہ کہا جاسکے لیکن بطریق ظن غالب اس کو موضوع کہا جاسکتا ہے،اور اگر اس کو ضعیف ہی قراردیا جائے تو بھی یہ حدیث شدید ضعیف ہونے کی وجہ سے ناقابلِ عمل ہے۔
۱ – جزء: عمامہ کے فضائل
۵ - جزء روایت
×اطلبوا العلم ولو بالصین÷
روایت: ’’علم حاصل کرو،خواہ چین سے ہو‘‘، روایت ہذا کےثبوت کی کوئی صورت نہیں ہے۔
[محققین علماء حدیث کے نزدیک ضعیف حدیث کو صیغۂ تمریض ہی سے ذکر کرنا چاہئے،ان کے نزدیک اسے صیغۂ جزم سے لکھناانتہائی قبیح تساہل ہے]
۴ - جزء روایت
×لولاك لما خلقت الأفلاك÷.
یہ لفظ کہیں ثابت نہیں ہے،اور حقیقت یہ ہے کہ کوئی روایت اس مضمون کی ثابت نہیں ہے۔